امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

شیر،کھلاڑی اور شکاری

imtiaz aliالیکشن 2013ء شیر، کھلاڑی آمنے سامنے اور شکاری موقعے کی تلاش میں ۔شیر کو کافی حد تک عوامی مقبولیت حاصل ہے ۔مقبولیت کے لحاظ سے ابھی تک کھلاڑی دوسرے نمبر ہے۔ابھی تک کے حالات واقعات کے مطابق شکاری تیسرے یا چوتھے نمبر پر بھی نظر نہیں آتا ،ہوسکتا ہے کہ تیسرا،چوتھا نمبر سائیکل یا گڈا لے جائیں۔لیکن یہ عام رائے ہے۔ اگرشکاری کا پانچ سالہ دوراقتدار دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ شکاری عین وقت پر وار کرتا ہے اور اگر تیر نشانے پر نہ بیٹھے تو پریشان ہوکر میدان چھوڑنے کی بجائے یوں محسوس کرتا اور کرواتا ہے کہ جیسے ابھی شکار کاموڈ ہی نہیں ،تیر تو یوں ہی وقت پاس کرنے کے لیے چلایا تھا ۔اگر شکار تگڑا ہوتو بھی کوئی بات نہیں سمجھدار شکاری کی طرح شکار کی طاقت جانچنے کے بعد شکار کو مہمان بنا کر اُس کی خوب خدمت کرتا ہے اور وقت آنے پر شکار کرلیتا ہے ۔شکاری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ شیر اور مداری کی طرح بار بار اپنے تیر(پتے) شو نہیں کرواتا اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ شکاری کے پاس کتنے تیر ہیں اور وہ کس شکارپر کون سا تیر استعمال کرنے والا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ الیکشن2013ء میں بھی شکاری ،شیر اور مداری کو آپس میں الجھا کر دونوں کا شکار کرنے میں کامیاب ہوجائے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شکاری کے ہاتھ اس بار کچھ نہ آئے کیونکہ گزشتہ شیر اور آج کے شیر میں بہت فرق ہے ،الیکشن2008ء میں شیر کے لیے علاقہ بھی نیا تھا اورقید و جلاوطنی کاٹ کر کچھ کمزور بھی ہوچکا تھالیکن اس بار شیر نے بھی شکاری کے ساتھ مل کرخوب شکار کیااور حکومتی ذمہ داریوں سے آزاد رہ کرعلاقے کا چپہ چپہ دیکھ لیا ہے اور بہت سے طاقتوراور خون خوار جانوروں کو بھی ساتھ ملانے میں کامیاب ہوچکاہے ۔مداری جوکل تک اناڑی تھا آج کھلاڑی بن کر سامنے آچکا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ مداری بن کرشیر کو قابوکرلے اور کھلاڑی بن کرچلاک شکاری کا بھی مقابلہ کرلے ،جہاں تک بات ہے شیر کی تو شیرمد اری کو پنجھا مار کر زخمی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور شکاری کے داؤپیچ بھی سمجھتا ہے ۔اس لحاظ سے شیر کا پلڑا بھاری ہے لیکن شیر کی ایک فطری کمزوری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے ۔اپنی برادری کے علاوہ کسی کو شکار میں حصہ نہیں دیتا ،جب پیٹ بھر جائے تو باقی بچا ہوا شکارمٹی میں دبا دیتا ہے لیکن شیر اپنی نسل کے علاوہ کسی دوسرے جانورکو کھانے کی اجازت نہیں دیتا ،جنگل میں تو اس عادت کاشائد کوئی نقصان نہ ہولیکن الیکشن میں ہوسکتا ہے۔دوسرے جانور شیر کے دربار سے بھوکے اوربے عزت ہوکر جائیں گے توشیر کے حامیوں کی حمایت کبھی نہیں کریں گے۔اگر شیر اپنی یہ عادت چھوڑ کرسائیکل کوبھی اپنے درجے کامان کراتحاد کرلے اور دونوں مل کر مداری،کھلاڑی اور شکاری کا مقابلہ کریں تو100فیصد کامیابی مل سکتی ہے ۔سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والا شاہین بھی امریکہ اور عرب کی فضاؤں سے لطف اندوز ہوتا ہواانتخابی اکھاڑے پر عقابی نگاہیں گھاڑے ہوئے خبردار کررہا ہے کہ حکمرانوں کا احتساب ہوگا ،جیسا پاکستان چھوڑ کرگیاتھا آج ویسا نہیں ہے ۔ایٹمی بم کا علاج کرنے والے عظیم ڈاکٹرجناب اے کیوخان بھی اپنے میزائل کے ساتھ کرپٹ اور نااہل سیاست دانوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔حکومتی ٹرالی کو ہاتھ ڈال کر سائیکل پر تیزرفتارسفر کرنے والے بھی مٹی پاؤ سیاست پالیسی کے ساتھ قوم کو سرپرائز دینے جارہے ہیں ،اُن کا کہناہے کہ 2013ء کے عام انتخابات کی سائیکل ریس میں مضبوط اور ناقابل شکست سائیکل ڈرایؤر اُتاریں گے جو اس قدر گرد اُڑتے ہوئے گزریں گے کہ سب کی آنکھوں میں مٹی ڈال کر کامیابی اپنے نام کرلیں گے۔انہیں پوری پوری اُمید ہے کہ اس بارعوام شیراور شکاری کے ساتھ ساتھ مداری اورکھلاڑی کو بھی مسترد کردیں گے اور صرف سائیکل کی سواری پسندکریں گے ۔کسی حد تک بات درست بھی ہے شیر کا اعتماد اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خون خوار جانور ہے کسی بھی وقت حملہ کرسکتاہے۔تیربھی کمان سے نکل جائے تو واپس نہیں آتااور کھلاڑی کے پاس صرف بلاہے گیندتو ہے ہی نہیں اور وہ ابھی مداری اور اناڑی کی کشمکش سے نہیں نکلا،جب کہ پیٹرول کی قیمت زیادہ ہونے اور سی این جی نہ ملنے کی وجہ سے سائیکل کا دور ایک بار پھر لوٹ آیاہے ۔اس بار ووٹر یہ بات بھی سمجھ چکاہے کہ ٹرک یا ٹرالی کو ہاتھ ڈال کر سائیکل کے سفر کو تیزکرنے کے شوق میں حادثہ بھی پیش آسکتاہے جس کے متحمل ہم نہیں ہوسکتے ۔اب انتخابی اکھاڑے میں خون خوار پہلوانوں کو دیکھ کر عوام کواس بات کا فیصلہ کرناہے کہ کون سی اور کس کے ہاتھوں ہونی والی موت قبول کرنی ہے ۔اقتدار کے پجاری اس بار بھی ہمیشہ کی طرح عوام کے مقابلے میں بہت طاقتور ہیں اور ان کی طاقت کاراز ہے عوامی بے شعوری،یعنی عوام خود ہی گراتے نشیمن پہ بجلیاں ،حکمرانوں نے تو بس جلتی پہ تیل کاانتظام کیا ہےnote

یہ بھی پڑھیں  اخترآباد: ایس ڈی او پبلک ہیلتھ کی نااہلی، سیوریج سسٹم ناکام

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker