تازہ ترینصدف گیلانیکالم

ادبی ادارے ،،ادبی کانفرنس

syed gillaniجس وقت قوم کوترقی وکامیابی کی ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت ان کی رہنمائی سیاستدان،بیوروکریٹ،پروفیسراور ادیب حضرات کرتے ہیں۔ مشہورضرب المثل ہے ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘‘۔جس وقت معاشرہ زبوں حالی کاشکارہوتاہے تواللہ ان کیلئے کوئی مسیحابھیجتاہے سرکاردوعالمؐ تک انبیابھیجے گئے۔اس کے بعد مسیحا کبھی لکھنے والے ادیب یاعلماء کی شکل میں منظرعام پرآتاہے بدامنی ہمیشہ لڑائی جھگراامن کارستہ ہموارکرتاہے وہ قوم کامیابی حاصل کرتی ہے جس نے کبھی زندگی پیچ و خم میں گزاری ہو۔وہ ترقی کی منازل طے کرتی ہے جن قوم میں عزم وہمت کامادہ موجود ہو۔وہی آدمی منزل مقصود تک جاپاتاہے۔جس کوراستے کی مشکلات روک نہیں پاتی۔
بقول شاعر
جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں و سوسوں نے ڈرادیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے
اس وقت ہرشخص قوم کامسیحابناہواہے ۔آپ جس طرف نظردوڑائیں گے توہرسمت ہمہ قسمی مسیحائی کے دعوے دارملیں گے ۔یہ امن کے علمبرداربنتے ہیں جبکہ تباہی وبربادکے پیچھے ان کاہی کسی نہ کسی طریقے سے ہاتھ ہوتاہے ۔ہرڈاکٹرکے پاس مریض کاعلاج ہے، ہرسیاستدان کے پاس ملک کی ترقی کافارمولاہے۔ہرادیب کے پاس قوم کوجگانے کاحل ہے۔ میں حیران ہوں کہ ہم نے ہرکسی کوآزماکے دیکھاہے مگرجب اختیارات ہاتھ میں آتے ہیں توسب سے پہلے یہ اپناعلاج کرتے ہیں ڈاکٹرمریض سے زیادہ سے زیادہ پیسے لینے لگ جاتاہے ۔سیاستدان اگلی سات نشستوں کیلئے پیسے جمع کرنے لگ جاتاہے جائیدادومال بنانے کیلئے کسی بھی حدسے گزرسکتاہے۔ اس کیلئے کوئی گالی معنی نہیں رکھتی۔بات ایسے کرتے ہیں جیسے ان کی کتاب میں عزت نفس اورشرم وحیاکے لفظ نہ ہوں۔ جس کاجہاں داولگ گیا۔اس نے موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔باہمت اورباضمیرلوگ موقع کی تلاش میں نہیں رہتے بلکہ خودمواقع پیداکرتے ہیں اورقوموں کی تقدیرکافیصلہ کرتے ہیں میں حیران ہوں لوگ کیٹیلیزم،مارکزم ،سو شلیزم کی بحث میں پڑے ہوئے ہیں جس وقت قوم کی تقدیربدلنی ہوتی ہے۔تو اس وقت ایک طبقہ،ایک جماعت ،ایک گروہ نہیں ہوتاتبدیلی اورکامیابی کی سب سے بڑی مثالیں اس صدی میں موجود ہیں۔قائداعظم محمدعلی جناح ،مہانماموہن داس کرم چندگاندھی نیسن ضیڈلا،ماؤدے تنگ کیاانہوں نے ایک طبقے کیلئے کام کیاتھاکیاقائداعظم نے پاکستان صرف مسلمانوں کیلئے بنایاتھاکیاپاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کی تقدیرنہیں بدلی؟ کیامہاتماگاندھی نے صرف ہندوؤں کیلئے کام کیا۔کیااس میں سکھ نہیں تھے؟ایسی تاریخ میں ہزاروں مثالیں ملتی ہیں آج ہم بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں جس میں کرپشن نہ ہو،ظلم وزیادتی نہ ہو۔امن وسکون ۔مگراس کیلئے مذہبی لوگ مولوی کے انتظارمیں ہیں۔ہندو،ہندوکے انتظارمیں وقت ضائع کررہاہے سکھ اپنی نسل کے گروکاراستہ دیکھ رہاہے۔اس وقت تبدیلی آسکتی ہے اگرہم ایمانداراورباہمت آدمی کے پیچھے کھڑے ہوجائیں اس پہ شعبہ،سنی،ہندو،قادیانی کے فتوئے نہ لگائیں بلکہ اسکی پیروی کرکے اپنی اورقوم کی حالت زارپرترس کھاتے ہوئے اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں۔
ہم لوگ کہتے ہیں کہ سیاستدان تبدیلی نہیں لے آتے ۔تبدیلی بیوروکریسی نہیں کرناچاہتی۔ان لوگوں کاہی کردارسہی۔ایک وہ طبقہ جوایمانداری اورشرافت کاایسانقاب اوڑھے ہوئے ہے جس کوہم نے کبھی اہمیت نہیں دی۔بلکہ اس پریقین کرتے ہوئے ہم ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ ایک دوسرے کیلیئے لالچی اورغدارجیسے لفظوں کااستعمال کررہے ہیں۔یہ وہ طبقہ ہے جوہمیں خواب دکھاکردبانے کی کوشش کررہاہے جوملک کے آئین کوبڑی شخصیات پرلاگونہیں ہونے دیتا۔شخصیات کواداروں پرحاوی کردیتاہے۔جوسیاستدان کواس لیے کام نہیں کرنے دیتا۔کیونکہ اس نے پیسے لیے ہوتے ہیں اس طبقے کوصحافی،کالم نگار،اینکرپرسن کہا جاتاہے جس ملک میں تبدیلی آنی ہوتی ہے۔اس خطے میں پہلااوربڑاکردارپڑھے لکھے افرادکاہوتاہے۔ہمیں اس طبقے پرحدسے زیادہسوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہ لوگ وہ کڑی ہیں جوالٹاکوسیدھااورسیدھے کوٹیڑھادکھاسکتے ہیں۔ان میں وہ اہلیت ہوتی ہے کہ قاتل کومقتول اورمقتول کوقاتل بناکرایساپیش کرتے ہیں قاری انکامعترف ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔یہ حضرات کرپشن اوربے ایمانی کابہت بڑاباب ہوسکتے ہیں ان پرکوئی توجہ نہیں دیتا۔اگریہ لوگ سچائی کادامن تھام لیں توکسی کی کیامجال کہ قوم کاخون چوسنے،غریب کاحق مارے،ان کے پاس ہربڑے آدمی کاسیاہ وسفیدکا ثبوت ہوتاہے بلیک میلنگ کے ذریعے چندسالوں میں اتنابڑاسفرطے کرتے ہیں کہ جن کاآپ اورمیں اندازہ نہیں لگاسکتے۔صحافت ایساشعبہ ہے جس میں اچھے لکھاری ،شعرا،ادیب تومل جاتے ہیں مگراچھے انسان بہت ہی کم ملتے ہیں اس وقت پاک وہندمیں بہت سی ادبی محفلیں سجائی جاتی ہیں جس میں نیچے سے لیکربڑے سیاستدانوں تک شامل ہوتے ہیں۔جن سے علم وادب کی ترقی کے نام پرپیسالیاجاتاہے۔ہوناتویہ چاہئے تھاکہ اس پیسے سے غریب لکھاری حضرات کی مددکیجاتی مگریہ پیسہ ہضم ہوجاتاہے پچھلے دنوں الحمراء ہال میں ادبی کانفرنس تھی جس میں وزیراعظم پاکستان نے 2کروڑروپے کااعلان کیایہ پیسے سینرکالم نگارمحترم عطاالحق قاسمی صاحب کوسرپرستی میں خرچ ہوں گے۔خداقاسمی صاحب کوسلامت رکھے اس جیسے بہت سے ادارے تقریباً ہربڑے شہرمیں کام کررہے ہیں۔ان کولاکھوں،کروڑوں روپوں کے فنڈزدے جاتے ہیں کیاان پیسوں کاحساب لیاجاتاہے کیااس رقم کاآڈٹ کیاجاتاہے ایسے اداروں میں بڑی کرپشن ہوتی ہے یہ غورطلب پہلوہے قوم کوحساس لوگ جگاتے ہیں حساس لوگ برائیوں کے قلع قمع کیلئے قلم وقدم بڑھاتے ہیں مگر ان اداروں میں غریب شعرکاکلام چوری کیاجاتاہے۔ان کی کتب اپنے نام پرچھپواکے پیسے کمالیے جاتے ہیں غریب شعراء کوملنے والے ایوارڈخودلے لیتے ہیں ۔استحصالی کی دنیامیں ان جیسے لوگوں کوبہت بڑاکردارہوتاہے اس کردارکوجڑسے اکھاڑے کی ضرورت ہے۔جس وقت ہم صاحب علم لوگوں کوآگے نہیں بڑھنے دیں گے نئے لکھنے والوں کی دل آزاری کریں گے۔جب ہم پردرد کالم کو رد کر دیں گے توکیاہو گا،جب پیسے کمانے کیلئے جب ہم کالم لکھیں گے توقوم کیاجاگے گی۔ہم صرف اس موضوع کوزیربحث لائیں جن سے ہم بلیک میلنگ کرسکیں۔توکب اس پیشے کی عزت وحرمت قائم رہی گی۔کیاہم علم وادب کے نام پرجاری لوٹ مارکوختم کریں گے۔کیا ہم علم و ادب کے مجرم نہیں ہیں۔؟

یہ بھی پڑھیں  کوئی تو ہوگاجوانصاف کرئے گا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker