تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

لائیو سٹاک کی اہمیت اور حکومتی عدم توجہی

tajammal2001-2 کے اعداد و شمار کے مطابق لائیو سٹاک کی مد میں 51.5 بلین روپے کا خطیر زر مبادلہ کمایا گیا۔ یہ شعبہ جہاں لاکھوں افراد کا ذریعہ روزگار ہے وہیں پہ یہ ملک کی گوشت، دودھ، گھی وغیرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ مگر افراط آبادی کے باعث ان ضروریات میں ہونے والے اضافہ کی نسبت سے جانوروں کی افزائش میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی بڑی وجہ جہاں منصوبہ بندی کا فقدان ہے وہیں ہمارے نوجوان طبقہ کی اس شعبے میں عدم دلچسبی بھی ہے۔ اس شعبہ میں بہتری کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں لائیو سٹاک سے متعلق تعلیم کی زبوں حالی ملاحظہ ہو کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں شعبہ ویٹرینری سائینسزاکتوبر 2006 میں قائم کیا گیا۔ یہ پاکستان کا چھٹا ویٹرینری کاادارہ ہے جس کے مقاصد میں ایسے ماہر ڈاکٹر اور سائنسدان تیا ر کرناجو سرکاری و نجی تنظیموں کی ضروریات کو پورا کریں ،دیہی علاقہ جات میں غربت کو کم کرنا، ویٹرینری تعلیم، صنعت، تحقیق اور فروغ کوآسان بنانے کیلئے کام کرنا قابل ذکر ہیں۔ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے اس شعبہ کی ترقی کے لئے 430 ملین روپے کی منظوری دی گئی جس میں سے صرف 23 ملین جاری کئے گئے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کس قدر اس شعبہ کی ترقی میں مخلص ہے۔ مذکورہ جامعہ کا یہ شعبہ اپنے قیام کے 6 سال بعد بھی تاحال بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔اساتذہ، تجربہ گاہ، تجربے کے لئے مطلوبہ سامان، فارمزسمیت ناکافی سہولیات نئے آنے والے طالب علموں کے لئے حوصلہ شکنی کا باعث ہیں۔ اس ادارہ سے فارغ التحصیل طلباء کو نوکری اور اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلے کے حصول میں مشکلات بھی قابل فکر ہیں۔کھادوں، تیل، ادویات وغیرہ کی قیمتوں میں آئے روز ہوتا ہوشربا اضافہ سرا سر کسان کا استحصال ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں پسے غریب کسان جہاں پہلے ہی آخری سانسیں لے رہے ہیں وہیں اس شعبہ کے ساتھ سوتیلا سلوک ان کے رستے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کمرشل بنیادوں پہ جانوروں کی افزائش بھی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر حکومت وقت طویل المیعاد منصوبہ بندی کے ذریعے صحیح معنوں میں اس شعبہ کی بہتری و ترقی کے لئے کام کرے تو کثیر زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ لائیو سٹاک کے مزید اداروں کے قیام، پہلے سے موجود اداروں کی اپ گریڈیشن، متعلقہ شعبہ کے لئے اضافی مراعات ،لیبارٹریوں کی بہتری اور متعلقہ سامان کی فراہمی،کھاد اور تیل کی قیمتوں پر کنٹرول، کسانوں کے لئے بلاسود اور آسان اقساط پر قرضوں کا اجراء جیسے اقدامات سے اس شعبہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان اورجنوبی افریقہ دوسرا ٹی20میچ آج ہو گا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker