تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

صدرنے کہہ دیاہے،الیکشن سے قبل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیاجائے گا… بعد میں کیاہوگا…؟؟

ملک کے ایک مُوقّرروزنامے کے صفحہ اوّل پر صدرِ مملکت عزت مآب جناب آصف علی زرداری کی جانب سے عام انتخابات سے قبل ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی یقین دہانی کرانے کے حوالے سے زینت بننے والی ایک خبر جب ہماری نظرسے گزری تو ہم سے رہانہ گیااور ہمیں شاعر کایہ شعریاد آگیا۔
بدلاہے خردمندوں نے بھی اپنی روش کو کچھ اہلِ جنوں کابھی جنوں ٹوٹ رہاہے
مِٹنے کو ہے خوبانِ قیادت کی رعُونت پیرانِ سیاست کا فسوں ٹوٹ رہاہے
یعنی یہ کہ جب صدر صاحب نے اقتدار کے مزے لوٹ لئے اور عوام کو مسائل کی چکی میں پیس کر سُرمہ بنادیاہے تو اِنہیں اپنے دوبارہ اقتدار کی ہوس مجبورکررہی ہے کہ یہ لوڈشیڈنگ جیسے عوامی مسئلہ کو حل کریں جس کے لئے اِنہوں نے یقین دہانی بھی کرادی ہے اور انتظامات و اقدامات کو بھی حتمی شکل دے دی ہے۔
ہاں تو قارئین حضرات ..!صدر سے منسوب ملک میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے وہ خبر کچھ یوں ہے کہ جس میں صدرزرداری نے تو صاف صاف یہ کہنے کی اپنے تئیں پوری کوشش کی ہے کہ عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب چھ سات ماہ یا اِس سے زیادہ اور برداشت کرلے کیوں کہ ﴿طنزاََ﴾ ہمارے ہر دلعزیز اور بے پناہ فہم وفراست سے لبریز اور سیاسی اُکھار پئچھاڑ میں ماہرصدرِمملکت عزت مآب جناب آصف علی زرداری نے وفاقی وزرائ اور پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو سختی کے ساتھ اِس بات کا یقین دلاتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ’’جب وہ آئندہ انتخابات کے موقع پر عوام کا سامناکرنے اور اِن کی دہلیز پر ووٹ لینے جائیں گے تو اِس سے قبل ہی ملک بھر سے لوڈشیڈنگ کامکمل خاتمہ اِس طرح سے کردیاجائے گاکہ عوام بھول جائیں گے کہ پاکستان میں بھی کبھی لوڈشیڈنگ ہواکرتی تھی۔
اِس حوالے سے آج صدرمملکت کایہ کہناہے کہ ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے اِنہوں ﴿صدر﴾نے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف اور وفاقی وزیرپانی وبجلی احمد مختار کے ساتھ مل کر ایک ایسی جامع اور مربود حکمتِ عملی تیار کرلی ہے کہ ملک سے عام انتخابات سے قبل لوڈشیڈنگ کیسے ختم کی جائے گی…؟ اور اپنے عوام کو کیسے ریلیف دیاجائے گا…؟اور اِسی کے ساتھ ہی خبر میں یہ بھی ہے کہ صدر نے ملک میں بے لگام ہوتی ہوئی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پریشان حال اپنے وفاقی وزرائ اور اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو تسلی دیتے ہوئے اِن کی پریشانیوں کا ازالہ یہ کہہ کرکردیاکہ ’’تم فکرمت کرو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا فارمولامیرے پاس ہے اور میں ہی اِس کا مکمل خاتمہ کروں گااور عوام کو اِس سے نجات دلاکر خو دگنگانہالوں گااور اِس کے بعد پھر تم یہ دیکھنا کہ ہماری معصوم عوام ہمیں ہی ووٹ دے گی اورہم پھر اقتدار میں آئیں گے کیوں کہ میں عام انتخابات سے قبل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردوں گاخبرمیں ہے کہ اِس میگاپروجیکٹ کے حوالے سے وفاقی وزیرپانی و بجلی نے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کو حتمی شکل دینی شروع کردی ہے اور اُمیدظاہر کی ہے کہ ہم عام انتخابات میں عوام کی دہلیز پر ووٹ لینے جانے سے قبل اِنہیں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا پروگرام دیں گے اور عام انتخابات میں اِسی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کو بنیاد بناکر عوام سے ووٹ لیں گے یہاں تک تو صدر ، وزیراعظم اور وفاقی وزیرپانی وبجلی نے عوام کو اپناپروگرام دے دیاہے مگر عام انتخابات میں عوام سے ووٹ بٹورنے کے بعد کا نہ تو کوئی وعدہ کیا ہے اور نہ ہی کوئی ایساپروگرام ہی دیاہے کہ جس سے عوام کو اِس بات کا یقین ہوجائے کہ عام انتخابات کے بعد اگر خدانخواستہ یہ دوبارہ اقتدار میں آگئے تو لوڈشیڈنگ کا کیابننے گا…؟یہ بندہی رہے گی…؟ یا اِسی طرح جاری رہے گی جیسے موجودہ حالات میں جاری ہے…؟
ِٓ اِس موقع پر ہم یہ کہناچاہیں گے کہ کیا ہی اچھاہوتاکہ صدر، وزیراعظم اور وفاقی وزیرپانی وبجلی اگراِس کابھی عوام کو یقین دلادیتے کہ بعد میں لوڈشیڈنگ کا کیا بنے گا..؟ توکتنا اچھاہوتا…تاکہ عوام بھی سوچتے کے اِنہیں اپنی دہلیز پر آنے دیاجائے یا دور ہی سے ….دکھاکر اِنہیں لوٹ جانے پر مجبورکردیاجائے…اور اِسی کے ساتھ ہی اِس موقع پر ہم یہ بھی کہناچاہیں گے کہ صدرمملکت جناب آصف علی زرداری صاحب …! لوڈشیڈنگ کے خاتمے جیسے نیک کام کوکرنے کے لئے عام انتخابات کے قریب آنے کا انتظار اورسہاراکیوں لے رہے ہیںاگرآپ واقعی ملک سے لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے اور اِس کا یہ گھناؤناعمل پھر شروع نہ کرنے کاارادہ ہی رکھتے ہیں تو یہ اچھاعمل آج ہی سے کیوں شروع نہیں کردیتے ہیں عوام کو کیوں مزیدسات آٹھ ماہ لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلاکرکے اِس کے صبر کا امتحان کیوں لے رہے ہیں…؟اِس سے آپ کو کیا ملے گا…؟اور ہاں اِس معاملے کو عام انتخابات تک ٹالنے سے پہلے صدرِ محترم آپ ملتان کے ضمنی الیکشن این اے151کے کانٹے دار نتائج سے آئندہ کے امکانات خود اخذکرلیںاور اندازہ کر لیں کہ آئندہ عام انتخابات میں عوام اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مل کر آپ کے اُمیدوار اور آپ کی جماعت کا کیا حشر کریں گے اِس کے ذمہ دار بھی آپ ہی ہوں گے کیوں کہ آج لوڈشیڈنگ پر سیاست چمکانے کی وجہ سے آپ کی جماعت کے اُمیدوار اور سابق وزیراعظم کے صاحبزادے کی عوام میںکیا مقبولیت رہی اِس سے بھی آپ کی آنکھیں نہ کھلیں تو پھر کیاہوگا جبکہ الیکشن 2008میں اِسی حلقے سے یوسف رضاگیلانی 75/70ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور اِن کے مدِمقابل کو صرف چندہزار ہی ووٹ ملے تھے جبکہ آج غیرسرکاری نتائج کے مطابق اِسی حلقے میں اِن کے صاحبزادے عبدالقادرگیلانی نے64628 ووٹ لے کامیابی تو ضرورحاصل کرلی ہے مگریہ بھی تو دیکھیںکہ آج اِن کے مدِ مقابل ایک آزاد اُمیدوار شوکت حیات بوسن نے60532ووٹ لے لئے ہیں اِس طرح عبدالقادر گیلانی اپنے حریف کو صرف 4062ووٹوں سے شکست دے کر کامیاب قرار پائے ہیں یوں ملتان کے ضمنی انتخابات کی صورتِ حال بھی اَب آپ کے سامنے ہے ایسے میں آپ مان جائیںاتنے کم مارجن سے عبدالقادر گیلانی کی کامیابی میں بھی آپ اور یوسف رضاگیلانی کی ہی کی عا م انتخابات تک لوڈشیڈنگ کے مسلے کو ٹالنے کی حکمتِ عملی اورعمل دخل کا نتیجہ ہے
صدر صاحب …!!اَب بھی وقت ہے ہماری مانیں تواگرآپ یہ نیک کام آج اور ابھی سے ہی صحیح معنوں میں کرنے کا اعلان کردیںتو یقین جانیئے آپ کو اُس وقت ﴿عام انتخابات سے قبل﴾سے بھی اچھارزلٹ آج ہی سے ملناشروع ہوجائے گا ..کیوں کہ جو لوگ آج آپ اور آپ کی حکومت سے نالاں ہیں وہ خوش ہوجائیں گے اور آپ کے حق میں نعرے بلندکرتے ہوئے سڑکوں پر آجائیں گے جو اِس بات کا یقین ہوگاکہ عوام آپ کو پھر اقتدار میں دیکھناچاہتی ہے اور باقی آپ کی مرضی ہماراکام تو سمجھاناتھاتو سوہم نے سمجھادیاہے۔
ویسے ایک بات تو ہماری سمجھ آئی کہ ملک میںآج جو بجلی کا بحران آیاہواہے لگتاہے کہ یہ بھی آپ کے اُن نیک اشاروں پرہی جاری ہے جسے آپ نے الیکشن کے دن کے آنے تک رکھ چھوڑاہے اور پھر جیسے ہی عام انتخابات کے دن قریب آئیں گے تو آپ خود ہی اپنے دستِ…. سے اِسے ختم بھی کردیںگے جیساکہ آپ فرماچکے ہیں واہ واہ تویہ ہے عوام کو بے وقوف بنانے اور ملک کو اندھیرے میں ڈوبونے کی آپ کی حکمت اور سیاست …قسم سے داد دینے کو جی چاہتاہے۔
بہرحال آج ہماراملک بجلی اور گیس کی کمی کی صورت میں توانائی کے جس بحران میں دھنس چکاہے یقینااِس سے ہماری ترقی اور خوشحالی کا پہیہ رک گیاہے اور جس سے ہماری صنعتیں زوال پذیرہورہی ہیں اور ایک عام پاکستانی کئی حوالوں سے خود کو مایوسیوں اور محرومیوں کے دلدل میں غرق ہوتامحسوس کرنے لگاہے جبکہ یہ حقیقت ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے ہمارے حکمرانوں کی جانب سے ملک میں دانستہ یاادادی طور پر بجلی اور گیس کی صورت میں آئے ہوئے توانائی کے بحران نے جو سنگین شکل اختیار کرلی ہے اِس کے حل کی طرف ہر محب وطن پاکستانی نے گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے یہ کہناشروع کردیا ہے کہ آج ملک میں آئے ہوئے توانائی کے اِس بحران اور موجودہ حکمرانوں سے چھٹکاراحاصل نہ کیاگیاتو وہ دن کوئی دور نہیں جب ہم ترقی و خوشحالی کی منزل سے نکل کر پستی اور گمنامی کی اُس گہری کھائی میں جاگریں گے جہاں سے نکلنا ہمارے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوجائے گا سو اِس حوالے سے ضروری ہے کہ ملک کے ایوانوں سے لے کر کسی جھونپڑی میں رہنے والے ہرمحب وطن پاکستانی کو بھی اپنی ذمہ داری اداکرنی ہوگی ۔
جبکہ یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ ملک کو توانائی کے موجودہ بحران سے نکالنے اور اِسے تابناک مستقبل کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ہمارے ملک کے مایہئ نازایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمرمبارک مندکا یہ کہناہے کہ حکومت اگر ایک ارب روپے فراہم کرے تو آئندہ 30برسوں تک 10ہزار میگاواٹ بجلی تھرکو ل پاورپروجیکٹ سے فی یونٹ چار روپے لاگت سے بجلی پیداکی جاسکتی ہے تو پھر یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ ہمارے صدرمملکت آصف علی زرداری وزیراعظم راجہ پرویزاشرف اور وفاقی وزیربجلی و پانی احمدمختار ڈاکٹرثمرمبارک کو یہ رقم کیوں نہیںدے رہے ہیں …؟ہم سمجھتے ہیں کہ اِس بحران کے حل کے لئے یہ رقم کچھ بھی نہیں ہے اگر ہمارے حکمران ایک ارب روپے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو دے دیں تو کوئی حرج نہیںہے اور جبکہ ہمارے حکمران قومی خزانے سے اِس سے زیادہ رقم اپنے للے تللے میں تو خرچ کرہی رہے ہیںمگر ڈاکٹرثمرمبارک کو تھرکول پاورپروجیکٹ سے بجلی پیداکرنے کے لئے یہ رقم نہ دے کرکے قوم کو اندھیروں اور ملک کو پستی میںدھکیلنے کا سامان کیوں کررہے ہیں …؟اور قوم کے ہاتھوں میںبیچارگی کاکشکول تھماکر اپنی حکمران کے دعوے توبہت کررہے ہیںمگرقوم کو روشنیوں اور ملک کو ترقی سے محروم کرکے خوشی سے جھوم رہے ہیں۔
اِدھرملک سے توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک مندکا پُراُمید لہجے میں یہ کہناہے کہ اگرآج حکومت ایک ارب روپے فراہم کرے تو آئندہ تیس سالوں تک دس ہزار میگاواٹ بجلی تھرکول پاورپروجیکٹ سے پیداکی جاسکتی ہے اِن کہناہے کہ تھرکول پاور پروجیکٹ سے بجلی کی فی یونٹ لاگت چار روپے ہوگی جو رینٹل ، تھرمل اور فرنس آئل سے کئی گناسستی ہوگی جبکہ اِن ذرائع سے بجلی اوسطاََ20روپے فی یونٹ لاگت کے حساب سے حاصل کی جارہی ہے اور اِس کے ساتھ ہی ساتھ اِن کا یہ بھی کہناہے کہ تھرکول کے ذخائر سے روزانہ پچاس ہزار میگاواٹ بجلی یقینی طور پر بنائی جاسکتی ہے اور یہ کوئلے کے ذریعے سستی ترین بجلی فراہم کرنے کے اپنے دعوے سے پُراُمیدبھی ہیں اور برملاکہتے ہیں کہ اِنہیں اگر حکومت مطلوبہ رقم فراہم کردے تو یہ تھرکول پاور پروجیکٹ سے سستی ترین بجلی پیداکرکے اپنے ملک کو دے سکتے ہیں اور ملک کے ہر گھرکے آنگن کو روشن اور ملک کی ترقی صنعتوں کے رکے ہوئے پہیوں کو تیزرفتاری سے چلاکر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑاکرسکتے ہیںاِس پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹرثمرمبارک مند نے اپنی قوم کا دردمحسوس کرتے ہوئے ایک محب وطنن پاکستانی ہونے کا اپناحق اداکردیاہے اور قوم کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لئے حکومت سے جھولی پھیلاکر تھرکول پاور پروجیکٹ سے دس ہزار میگاواٹ چار روپے فی یونٹ کی لاگت سے بجلی پیداکرنے کے لئے زیادہ نہیں صرف ایک ارب روپے تو مانگے ہیں اِس پر بھی ستم یہ ہے کہ ہمارے صدر مملکت عزت مآب جناب آصف علی زرداری جن کی فہم وفراست اور تدبرکے چرچے چاردانگِ عالم میں مشور ہیںوہ یہ رقم ڈاکٹرثمر مبارک مند کو دینے سے کترارہے ہیں اِن کے اِس عمل سے تو ایساہی لگتاہے کہ جیسے صدر صاحب شائد یہ نہیں چاہتے ہیںکہ ملک سے بجلی اور گیس کی کمی کی صورت میں نازل ہونے والاتوانائی کا بحران ڈاکٹرثمر مبارک مند کے تھرکول پاور پروجیکٹ سے سستی بجلی اور گیس پیداہونے سے ختم ہوجائے جس سے قوم کو روشنی اور ملک کو ترقی نصیب ہو۔
ٓ اِن تمام باتوں کے علاوہ کہ حکمرانوں نے عام انتخابات میں اپنی سبقت کو یقینی بنانے کے لئے ملک میں بجلی کا مصنوعی بحران پیداکرکے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھاہواہے اور آج جس کا اظہار کرتے ہوئے صدر نے بھی انتخابات سے قبل ملک بھر سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی یقین دہانی کرادی ہے اَب یہ کام تو حکومت کرے گی ہی مگر پھر بھی ضرورت اِس امرکی ہے کہ حکومت کو یہ چاہئے کہ تھرکول پاور پروجیکٹ سے چار روپے فی یونٹ کی لا گت سے سستی بجلی پیداکرنے کے لئے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹرثمر مبارک مند کو بغیرکسی سیاسی مصالحت پسندی کا شکار ہوئے اِنہیں مطلوبہ رقم ایک ارب روپے دے دے تاکہ یہ ملک میں کبھی حقیقی معنوں میں بجلی اور گیس کے آنے والے بحرانوں سے ملک اور قوم کو تھرکول پاورپروجیکٹ سے پیداہونے والی بجلی اور گیس سے بچاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑا:اساتذہ محنت اور لگن سے بچوں کی تعلیم و تربیت کریں ،احسان بھٹہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker