علاقائی

کراچی:بجلی بحران نے سرمایہ کاروں کوغوروفکرپرمجبورکردیاہے،افتخارعلی ملک

کراچی﴿نمائندہ خصوصی﴾ملک میں مسلسل جاری توانائی بحران نے صنعتکاروں کو فیکٹریوں میں توسیع اور جدیدسہولتوں سے آراستہ کرنے سے روک دیا ہے جبکہ پاکستان میں بجلی اورگیس کے بڑھتے ہوئے بحران نے غیرملکی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے غور وفکر پر مجبورکردیا ہے، بجلی کی کسی تعطل کے بغیر فراہمی میں ناکامی پرپنجاب اور کراچی میں صنعتکار بڑے صنعتی یونٹس کو بھی نئے یونٹس نہ لگانے اور فیکٹریوں میں توسیع نہ کرنے پرمجبور ہوگئے،بجلی سے محروم ملک ہزاروں کاروباری ادارے بندہونے کے درپہ ہیں جبکہ لاکھوں مزدوروں کیے روزگار ہونے کا بھی خدشہ لاحق ہوگیا ہے،لاہور اور فیصل آباد میں بھی بجلی کی قلت اور مسل لوڈشیڈنگ نے صنعتکاروں کوملک سے فرار پرمجبور کردیا،گزشتہ سال کے دوران 2 درجن سے زائد بڑے صنعتکار اپنے کئی کئی یونٹس میں سے نصف یونٹس بند کرکے اپنا سرمایہ منافع بخش ممالک میں لے کر چلے گئے اور بہت سی فیکٹریاں بند ہونے کے قریب ہیں۔سارک چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے نائب صدر اور پاکستان کے ایک معروف کاروباری ادارے کے سربراہ افتخارعلی ملک نے کہا ہے کہ جب حکومت صنعتوں کو بجلی بھی مہیا نہیں کرسکتی توپھر پاکستان میں نئی صنعتوں کے قیام کے لئے سرمایہ کاری کرنا بے کار ہے،ملکی صنعتکار سب سے زیادہ محب وطن ہیں جو اپنا سرمایہ صرف اسلئے پاکستان میںمزیدنئی سرمایہ کاری میں لگانا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کو روزگار ملے لیکن جب حکومت بجلی،گیس اور دیگر ضروریات ہی پوری نہ کرے تو پھر کوئی یہاں سرمایہ کاری کیوں کرے۔ افتخارعلی ملک نے کہا کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کو ترقی یافتہ ممالک ڈیولپ نہیں ہونے دے رہے اورجب ہم کوئلے کوانرجی کے لئے استعمال کرتے ہیں تو اعتراض اٹھادیا جاتا ہے،بجلی فراہم کرنے والے بعض ادارے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی خاص غیرملکی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے صعتی شعبے کو بجلی سے محروم کررہے ہیں تاکہ صنعتیں بندہوں اور مزدور سڑکوں پر آکر امن وامان کی صورتحال کو مزید خراب کریں۔اسارک چیمبر کے نائب صدرنے کہا کہ صنعتی شعبے کے لئے بجلی اور گیس سب سے اہم خام مال ہے اور جب یہ نہ ملے تو کوئی صنعت پیداواری عمل جاری نہیں رکھ سکتی،بجلی کے مسلسل بحران سے صنعتی شعبہ 500 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھا چکا ہے جبکہ کروڑوں ڈالرز کی غیرملکی سرمایہ کاری بھی اب دوسرے ملکوں کا رخ کرگئی ہے۔انہوں نے مزیدنے کہا کہ گیس کی بندش اور مسلسل جاری بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے ہزاروں برآمدی صنعتوں کو بحرانی کیفیت سے دوچار کردیا ہے جبکہ نئی صنعتوں میں سرمایہ کاری ختم ہوکررہ گئی ہے،پہلے ہی سینکڑوں صنعتکار اپنے کاروباری مستقبل سے مایوس ہوکر ملائشیا،سری لنکا اور بنگلہ دیش منتقل ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  چمن:پانچ روز گزرنے کے باوجود اساتزہ اپنے تنخواھوں سے محروم ھیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker