شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / لوکل باڈیز کا نظام پھر رائج۔۔۔!!

لوکل باڈیز کا نظام پھر رائج۔۔۔!!

صدر مملکت سردار آصف علی زرداری نے سندھ کی سیاسی بے چینی اور ناگزیر انتظامی سیاسی تبدیلی کو گہرے انداز سے جانچا اور محسوس کرنے کے بعد فیصلہ صادر کردیا کہ سندھ میں لوکل گورنمنٹ کا اجراء کچھ قانونی تبدیلیوں کے بعد رائج کردیا جائے اس سلسلے میں چند روز قبل کراچی بلاول ہاؤس میں ایک میٹنگ منعقد کی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے کور کمیٹی کے ممبران کو لوکل گورنمنٹ کے نظام کے سلسلے میں دعوت مشاورت دی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے کور کمیٹی اراکین کے ساتھ گورنر سندھ عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی شرکت کی دونوں سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران نے سردار آصف علی زرداری کے حکم پر سر جوڑ باہم مشاورت میں لگ گئے تاکہ ایسا آرڈینس بنایا جائے جو تمام سیاسی پارٹیوں کے تحفظ کا حق رکھ سکے لیکن سندھ علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں نے اسے اپنے لیئے غیر مناسب قرار دیا اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی نے مداخلت کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا بھی اظہار کیا یاد رہے اے این پی بھی موجودہ حکومت کی حلیف جماعت ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ فنگشنل پیر پگاڑہ نے ایک بیان میں اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کی جماعت کو اس نئے لوکل باڈیز آرڈینس میں اعتماد میں نہیں لیا۔ لوکل باڈیز کے نظام پر تحریک انصاف نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے واضع کیا کہ یہ ایک بہت بڑی حکومت کی چال ہے جوجنرل الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے جبکہ مسلم لیگ نون کی جانب سے بھی سندھ میں لوکل باڈیز کے نظام پر مسلسل منفی بیانات جاری ہوئے ان کا کہناہے کہ حکومت لوکل باڈیز کے بجائے نئے جنرل الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں اور جلد از جلد جنرل الیکشن کرائے جائیں گویا یوں لگتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون سیاسی اکھاڑے میں اپنی عوامی مینڈینٹ کااظہار کرنے کیلئے بے چین ہے ۔لوکل باڈیز کا نظام کیلئے موجودہ حکومت دباؤ کا شکار نہیں رہی بلکہ ماضی کی حکومتوں نے اسے اپنا کر بہتر انداز میں عوامی خدمات کو عملی جامع پہنایا سابقہ حکومتوں میں جمہوری حکومت کے ساتھ ساتھ چیف مارشلاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق نے باقائدہ سیاسی انتظامیہ کو لوکل باڈیز کے انتخابات کراکے رائج کیا اور پھر اسی طرح جنرل پرویز مشرف نے بھی بلدیاتی نظام کو پڑوان دیا ، جنرل پرویز مشرف نے صوبائی و علاقاتی جات پر ترقی کی ایک راہ روشن کردی تھی جس کا ثبوت کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور دیگر شہر تھے یہ الگ بات ہے کہ کس سیاسی پارٹی نے پرویز مشرف کی مالی و انتظامی سہولت کو عوام کیلئے مفید بنایا۔۔۔!! پنجاب میں بھی کام ہوئے ، پشاور کے ساتھ بلوچستان میں نئی شاہراہوں اور دیگر امور پر کام کیا گیا ۔ سیاسی مخالفین کا اختلاف اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں عوام کو سبسیڈی کے ساتھ دیگر بنیادی سہولتوں سے بھی نوازا شائد وہ مزید رہتے تو تھر کول کا مسلۂ بھی حل ہوچکا ہوتا اور آج پاکستانی قوم توانائی کے میدان میں نہ صرف خود کفیل ہوتی بلکہ بیرون ممالک کو دینے کے قابل ہوجاتی بحرحال عوام کی آنکھ سے اب کچھ پوشیدہ نہیں رہا ہے اور پاکستانی عوام میڈیا کے توسط سے کئی پوشیدہ رازوں سے آشنا ہوجاتی ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ کہیں کہیں میڈیا بھی اپنے فرائض میں مجرم ہوجاتی ہے لیکن مکمل احاطہ کیا جائے تو میڈیا میں اصولی لوگ اب بھی اکثرت میں ہیں ۔ پنجاب مسلسل سیاسی دنگل میں رہا ہے اور اپنی قوم کیلئے کوئی مثبت عمل دیکھنے کو نہیں ملتا ۔یہاں یہ بات بھی واضع کرتا چلوں کہ پاکستان مین جتنی سیاسی پارٹیاں ہیں سب میں بہت خدوخال پائے جاتے ہیں اسی لیئے کسی پر نقطہ چینی کرنے کے بجائے اپنی اپنی صفوں کو درست کرتے ہوئے عوامی فلاح بہبود پر مکمل توجہ دینی چاہئے۔ بلدیاتی نظام سے جہاں گلی کوچوں کے مسائل حل ہوتے ہیں وہیں کرپشن کے مواقع بھی بڑھ جاتے ہیں اسی لیئے سیاسی جماعتوں پر انتہائی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ذمہ داران اور کارکنان کو اصولوں اور اخلاقیات میں پابند رکھے اور ان کی جانچ پڑتال کیلئے موثر لائحہ عامہ تیار کرنا چاہئے تو یقیناًپاکستان کی سیاسی جماعتیں بد عنوانی سے پاک رہ سکتی ہیں ۔ پاکستان میں مسلسل تقریاں سیاسی بنیادوں پر چلی آرہی ہیں لیکن اگر اس میں میرٹ کو فوقیت دی جائے تو ہر شعبہ بہتر امور پر گامزن ہوسکتا ہے کئی ایسے محکمے ہیں جن میں قابل اور ذہین ملازم ہیں مگر ان کی ترقیاں نہیں ہورہی ہیں البتہ اُن لوگوں کو نوازا جارہا ہے جو اہل نہیں ہیں بلکہ اندرون خانہ بد نظمی اور اقربہ پروری میں پائے جاتے ہیں ۔ یہاں یہ واضع کرتا چلوں کہ متحدہ قومی موومنٹ ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون ہو یا دیگر پارٹی ان سب کے تقرر یافتہ لوگوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جو واقعی اہل ہیں مگر ان کی ترقی کا عمل نہیں ہوتا اگر اس جانب تمام سیاسی پارٹیاں اس معاملہ پر صحیح اور درست سمت میں احاطہ کریں تو یقیناًان کے وہ کارکنان اور ہمدرد جو اہلیت کے زمرے میں آتے ہیں وہ اور جذبہ سے ملت و ملت کیلئے بہترین مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں خاص کر وہ ادارے جو وفاق اور صوبائی حکومتوں کو ریوینیو دیتے ہیں ۔ بدیاتی نظام میں ریوینیو شعبہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن افسوس کہ اس شعبہ میں سب سے زیادہ کرپشن دیکھنے میں آتی ہے اسی طرح کے پی ٹی، کسٹم، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، بن قاسم ،
پاکستان اسٹیل ملز، انکم ٹیکس وغیرہ میں اہل ملازمین کو ڈپارٹمنٹ امتحان میں نمایاں کامیابی کے بعد فی الفور ترقی کا عمل پیدا کیا جائے۔!!پاکستانی عوام اپنے سیاستدانوں سے بہت امید رکھتی ہیں عوام کے خیال میں جمہوری حکومتیں کرپشن سے پاک اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے بہت موزوں ہیں اگر ان میں ہی کرپشن کا زہر پھوٹ پڑیگا تو یہ عوام کہاں جائے ۔ انتظامی اختیارات نچلی سطح پر ہونے چاہئیں مگر اس کے ساتھ ساتھ احتسابی عمل بھی جڑا ہونا چاہئے تاکہ کوئی بھی بد عنوانی کو نہ اپنائے بحرحال ایک بار پھر عوام اپنے سیاستدانوں سے امید رکھ رہی ہے کہ بلدیاتی نظام کے تحت سٹی گورنمنٹ اپنے شہریوں اور دیہی علاقوں کے مکینوں کو صفائی و ستھرائی ، اسٹریٹ لائٹس، پینے کے پانی کی فراہمی، روڈ سڑکیں اور شاہراہوں کی مرمت، کھیل کود کیلئے میدان اور تفریحی مقامات کا بنانے کا یقینی عمل پیش کریں گے۔ ورنہ عوام ایسی جمہوریت کو رد کردے گی جو سوائے جھوٹ، دھوکے مکارپن پر قائم ہو اور عوام الناس عدلیہ و افواج سے ایسا انتخابی نظام طلب کریگی جس میں الیکشن کے وقت اسکینگ کا عمل لازم و ملزوم قرار پائے اور غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کا انعقاد ہو ۔ ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا وقت آنے سے پہلے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں آپس میں نورا کشتی بند کرکے سنجیدگی کے ساتھ ملکر عوام اور ملک کیلئے صحیح معنوں میں ایساپاکستان بنائیں جو پوری دنیا میں پڑھا لکھا ، با عزت ، با وقار سمجھا اور دیکھا جائے تاکہ گرین پاسپورٹ اعزاز کی علامت میں شمار کیا جائے اللہ پاکستان کا حامی و ناظر رہے، پاکستان زندہ باد آمین۔۔۔۔۔۔۔!!

یہ بھی پڑھیں  امریکی صدر کی نوبیاہتا جوڑے سے معافیاں