تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور عوامی تحفظات

اس میں توکوئی شک نہیں کہ ترقی کے عمل کوپائیدار،مضبوط اور طویل المیعاد بنانے کے لئے اس میں لوگوں کی شرکت انتہائی ضروری ہے۔مقامی حکومتوں کانظام عام لوگوں کوترقی کے عمل میں شریک ہونے کا موقع فراہم کرتاہے ۔ترقی کے عمل میں شرکت،احسا س ملکیت و ذمہ داری، جوابدہی اور شفافیت کاعمل مستحکم جمہوریت کی بنیادیں ہوتی ہیں اگرچہ اس حقیقت کو رد نہیں کیاجاسکتاکہ پاکستان میں مقامی اداروں کے قیام وتشکیل کی تاریخ آمریت کے دور سے جڑی ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ موقع ملنے پر ان اداروں نے کام بھی کیاہے اور اچھے نتائج بھی دیئے ہیں۔مقامی حکومتوں کا بنیادی فلسفہ مسائل کو مقامی وسائل اور مقامی لوگوں کی شراکت کا ذریعے حل کراناہے اس لئے جب جب ملک میں ادارے فعال ہوئے لوگوں کوان سے فائدہ پہنچا۔گزشتہ 13 سالوں میں ان اداروں کی ہیت میں جوبنیادی تبدیلی نظرآتی ہے وہ یہ کہ (عوامی نمائندہ)کے تصورکوارادی طورپرتبدیل کرنے کی کوشش کی گئی اور ان افراد کو موقع دیاگیا جواس نظام کے بہت اہم مگرانفعالی کرداررہے یعنی خواتین ،مزدور،کسان اور اقلیتیں۔اس تبدیلی نے انہیں سیاست اور ترقی کے عمل میں فعال کردارادا کرنے کاموقع فراہم کیااور2001سے2008کے دوران ترقیاتی کام اس بات کاثبوت ہیں کہ معاشرے کے ان طبقات کو ترقی کے اس عمل سے فائدہ پہنچااور مسقبل میں جب بھی انہیں اس نظام کاحصہ بنایاجائے گاوہ عملی طورپراپناکرداربھی اداکریں گے اور فائدہ بھی لیں گے۔جنرل الیکشن 2013کے بعدسپریم کورٹ کے حکم پرصوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایاجس کے تحت بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے جب کہ دیگر صوبوں میں متوقع ہیں۔خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے توکب ہوں گے یہ اہم سوال اپنی جگہ موجودہے کیونکہ صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے اعلان کیاتھاکہ ان کی حکومت عدالتی حکم پر من وعن عمل کرتے ہوئے قائدہ قانون کے تحت جلد بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کو ممکن بنائے گی لیکن نظرآتی صورتحال بتارہی ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے معاملے میں خیبرپختونخواحکومت بھی صوبہ سندھ اور پنجاب کی طرح روائتی تاخیری حربوں کا سہارہ لے رہی ہے۔ تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے مقامی حکومت ایکٹ2013سامنے آیاہے ۔اگرچہ ستر سے زائد صفحات پرمشتمل اس بل کی تفصیل کافی طویل ہے تاہم یہ نظام کیاہے اور اس میں (مردوعورت)شہری کیسے شامل ہوسکتے ہیں اس غرض کے لئے اس کے بعض چیدہ چیدہ نکات اور خصوصیات کوپیش کیاجارہاہے ۔ ایسی سلسلے میں دیر لوئر کی سماجی تنظیم صیڈو گُذ شتہ روز ایک مذاکراتی پروگرام کا انعقاد کیا جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں صحافیوں اور سیاسی شخصیات نے حصہ لیا۔ مقامی حکومت ایکٹ 2013کے تحت مقامی حکومت کے اداروں کی مدت تین سال ہوگی۔ دیہی یامحلہ کونسل کے انتخابات غیرجماعتی جبکہ تحصیل اور ضلع کے انتخابات جماعتی بنیادوں پرہوں گے۔انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پرہوں گے اورغیرجداگانہ ہوں گے۔انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی عمر اکیس سال ہوگی۔صوبائی سطح پرلوکل گورنمنٹ کمیشن اور صوبائی فنانس کمیشن کاقیام عمل میں لایاجائے گا۔اس ایکٹ کے تحت مقامی حکومتوں کے نظام کا سیاسی ڈھانچہ تین سطحوں پرمشتمل ہوگا۔ دیہی یا محلہ کونسل،تحصیل کونسل اور ضلع کونسل ۔شہروں میں محلہ کونسل جب کہ دیہاتوں میں دیہی کونسل کہلانے والی دیہی محلہ کونسل کی آبادی دوہزار سے دس ہزار پرمشتمل ہوگی اور ہر وہ شہری جس کاووٹ اس دیہی یامحلہ کونسل میں رجسٹرڈ ہوگااور مطلوبہ شرائط پر پورااترتا ہووہ انتخاب میں حصہ لے سکے گا۔اس کونسل کے ارکان کی تعداد دس سے پندرہ ہوگی اور پانچ سے دس عام نشستیں ہوں گی عام نشستوں میں کوئی بھی مسلمان مردوعورت حصہ لے سکے گا۔اس کے علاوہ دو نشستیں خواتین کے لئے ،ایک نوجوان کے لئے،ایک اقلیت اور ایک مزدورکسان کے لئے مخصوص ہوگی۔اس ایکٹ کی رو سے نوجوان کے لئے مخصوص نشست سے مراد کوئی بھی ایسامردیاعورت جس کی عمر تیس سال سے کم ہواس نشست کے لئے امیدوار ہوسکتاہے۔کسان سے مراد کوئی بھی ایسامرد جوکسی کے کھیتوں میں کام کرتاہویا پچھلے پانچ سالوں میں ان کے پاس پانچ ایکڑ سے کم زمین ہواس نشست کے لئے اہل امیدوار ہوسکتے ہیں جب کہ اقلیت سے مراد غیر مسلم پاکستانی مرداورعورت ہے۔ان تمام نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوگااورعام نشستوں پرسب سے زیادہ ووٹ لینے والاامیدوارناظم اور دوسرے نمبرپرآنے والانائب ناظم منتخب ہوگا۔علاقے میں موجودتمام سرکاری اداروں کی نگرانی ،سہلکاری اور اس میں بہتری لانا دیہی یامحلہ کونسل کی ذمہ داری ہوگی۔ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جومعمولی نوعیت کے جھگڑے ،تنازعات اور اختلافات نمٹائے گی۔شادی بیاہ ،اموات اورپیدائش کااندراج، انفراسٹرکچر،کھیل کے میدان اور دیگر مقامی اجتماعی مقامات کی حفاظت ،ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی ،نکاسی آب کاانتظام،گاؤں کاسالانہ ترقیاتی پروگرام،کونسل کی آمدنی بڑھانے کے لئے ٹیکس کااجراء اور علاقہ کے سالانہ بجٹ کی منظوری اس کونسل کے کام ہوں گے۔دیہی یامحلہ کونسل کاناظم کونسل کاسربراہ ہوگا جو ذمہ داریاں پوری کرے گااور تین ماہ بعد تحصیل کونسل کورپورٹ بھیجے گا۔اس ایکٹ کے تحت شہروں میں ٹاؤن جبکہ دیہی علاقوں میں کہلانے والے تحصیل کونسل میں عورتوں کے لئے تیس فیصد،مزدورکسان کے لئے پانچ فیصد،نوجوانوں کے لئے پانچ فیصداور مذہبی اقلیتوں کے لئے پانچ فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں۔تحصیل کونسل کے انتخابات میں تحصیل کووارڈزمیں تقسیم کیا
جائے گاجن میں جماعتی بنیادوں پربراہ راست انتخاب ہوگا۔مخصوص نشستوں کوحاصل کی گئی عام نشستوں کے تناسب سے جماعتوں میں تقسیم کیاجائے گا۔ہاؤس کے مکمل ہونے کے بعد ہاؤس کے اندر ٹاؤن یاتحصیل ناظم کاانتخاب عمل میں لایاجائے گا۔ٹیکس،جرمانہ اورسزاؤں کی منظوری،میونسپل سروسزکے لئے قوانین کی منظوری،ٹاؤن یاتحصیل کے سالانہ بجٹ کی منظوری،طویل المدتی اور قلیل مدتی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری،ٹاؤن یاتحصیل کونسل کے ماسٹرپلان کی منظوری ٹاؤن یاتحصیل کونسل کی ذمہ داری ہوگی جبکہ ٹاؤن یاتحصیل کونسل قائمہ کمیٹی،فنانس کمیٹی،اکاؤنٹس کمیٹی،کونسل کاانتظام چلانے کی کمیٹی،ضابطہ اخلاق کمیٹی اور ترقیاتی رپورٹ کی سکروٹنی کمیٹی کاانتخاب کرے گی اور اکاؤنٹس کمیٹی اورتحصیل کی کارکردگی کی رپورٹ کاجائزہ لے گی۔ضلع کونسل میں عام نشستوں کی تعداد،مخصوص نشستوں کی تقسیم،انتخابات کاطریقہ کارتحصیل کونسل کی طرح ہی ہوگااورناظم ونائب ناظم کاطریقہ انتخاب بھی وہی رہے گا۔ضلع کونسل قوانین ،ٹیکس،بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری،ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل،غربت کے خاتمے اور نظراندازشدہ طبقات کی بہتری کے لئے تجاویزاور سکیم کی منظوری ضلع کونسل کی اہم ذمہ داری ہوگی۔اگرچہ مقامی حکومت ایکٹ 2013میں ابہام بھی پایاجاتاہے،سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس پر تحفظات کابھی اظہارکیاجارہاہے،اس ایکٹ پر بحث اور اس میں ترمیم کی گنجائش بھی ہوگی لیکن اس بات سے انکارنہیں کہ مقامی حکومتیں علاقائی ترقی اور مفاد عامہ کے لئے ناگزیر ہیں دیکھنایہ ہے کہ کب بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں اور کب یہ ایکٹ اپنی اصل روح کے مطابق نافذالعمل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  جمبر:مولانا اشرف آصف جلالی اور خالد خان کو فوری رہا کرو، مولانا صابر صدیقی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker