احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

لوگ جھوٹ کیسے بول لیتے ہیں۔۔۔؟؟؟

میں آپ کو ایک ایسے بندے سے ملوا سکتا ہوں جو جھوٹ بولنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اگر آپ اُس کے سامنے دو کلو مٹھائی اور ایک کلو گرم گرم دودھ رکھ دیں تو وہ اُسے کھا کر ایسے مکر جائے گا جیسے کوئی سیاست دان بینک سے قرضہ لے کر یا عوام سے وعیدہ (وعدہ) کر کے مکر جاتا ہے۔ وہ جھوٹ نہ بولے تو اُسے ایک سو چار بخار ہو جاتا ہے، کھانسی کا دورہ پڑنے لگتا ہے، پورے جسم میں کھجلی ہونا شروع ہو جاتی ہے اور جھوٹ اُس پر لعنتیں بھیجنا شروع کر دیتا ہے ۔ جھوٹ سے اُس کا بڑا پرانا اور گہرا رشتہ ہے اور وہ یہ رشتہ توڑنا نہیں چاہتا ۔ایک بار میں نے اُسے کیلے کھاتے ہوئے دیکھا تو عادتاً پوچھ لیا کہ کیا کھایا جا رہے جناب!۔۔۔تو کہنے لگا سیب کھا رہا ہوں نظر نہیں آرہا کیا؟۔۔۔ ہیں سیب!!!۔۔۔میں چونکاکہ شائد میری قوت سماعت جواب دیتی جا رہی ہے یا پھر میری عینک کا نمبر بڑھ گیا ہے۔۔۔ذرا غور سے دیکھا تو وہ واقع ہی کیلے کھا رہا تھا ۔ میں نے اس بات کی تصحیح کرنا چاہی تو بجائے شرمندہ ہونے کے اُلٹا مجھے کہنے لگا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔۔وہ جھوٹ بولنے کا اس قدر عادی ہے کہ اپنی شادی والے دن اپنے دوستوں سے کہتا پھر رہا تھا کہ یہ میری شادی تو نہیں ہو رہی یہ تو محلے میں ایک کھڑوس سا آدمی ہے اُس کی شادی ہو رہی ہے۔شادی کے بعد وہ اپنی بیوی کو چھانگا مانگا لے گیا اور کہنے لگا کہ یہ ہمارے نانا جان کا فارم ہاؤس ہے اور اُنہوں نے عوام کی سیرو تفریع کے لیئے وقف کر رکھا ہے۔صرف یہی نہیں وہ تو اپنے بیٹے کی پیدائش پر بھی اپنے دوستوں سے کہتا پھر رہا تھا کہ یہ بچہ۔۔۔۔۔
وہ اپنے دادا مرحوم کے متعلق بھی بڑی لمبی لمبی چھوڑتا ہے۔ اُنہیں کسی پہنچی ہوئی سرکار سے بھی زیادہ پہنچا ہوا تصور کرتا ہے اور لوگوں کواُن کی کرامات بھی سُنا تا رہتا ہے۔ کہتا ہے کہ دادا حضور کی قبر پر فرشتوں کی مختلف ڈیوٹیاں لگی ہوئی ہیں کوئی قبر پر جھاڑو دیتا ہے ۔ کوئی اپنے پروں سے ہوا دیتا ہے۔ کوئی روشنی کا بندوبست کرتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ صرف فرشتے ہی نہیں جن بھی دادا حضور کی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور ہر وقت چار جن دادا حضور کی قبر پہرہ بھی دیتے ہیں ۔۔۔ کیا دادا حضور قبر سے بھاگ جاتے ہیں؟ جو جنوں کو پہرہ دینے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔میں نے بڑی حیرانگی سے پوچھا۔ ۔۔ جس کا غصہ اُس نے اُس وقت نکالا جب اُس کے دادا حضور کا سالانہ ختم تھا اور مجھے جان بوجھ کر چکن بریانی سے محروم رکھا گیا تھا۔۔۔۔ میں اُسے کئی بار مشورہ دے چکا ہوں کہ تم سیاست میں آ جاؤکیوں کہ تمہارے اندر تمام بڑے بڑے سیاست دانوں کی خوبیاں موجود ہیں ۔ برا سا منہ بنا کر کہنے لگا کہ سیاست تو نام ہی جھوٹ کا ہے اور میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں۔کیونکہ مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔ایک دن جب وہ میرے پاس آیا تو غصے سے بھرا پڑا تھا میں نے وجہ پوچھی تو اپنے ایک پرانے دوست کا شکواہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ یار اب تو کسی کا اعتبار ہی نہیں رہا کسی پر بھروسہ ہی نہیں رہا ۔ میں نے کہا بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے جو تم اس قدر خفا ہو رہے ہو۔ کہنے لگا کہ یار وہ اختر ہے نا میر ا دوست ۔۔۔ ہاں ہے ۔۔۔ کیا ہوا ہے اُسے ؟۔۔۔یار ہونا کیا ہے کل میں نے اُس سے پچاس ہزار روپیہ مانگا تھا دو ماہ کے لیئے اور اُس نے دو ٹوک جواب دے دیا کہ اُس کے پاس تو پانچ ہزار بھی نہیں ہے تو پچاس ہزار کہاں سے دے لیکن آج میں نے اُسے دیکھا ہے کہ نئی موٹر سائیکل لے کر آیا ہے ابھی ابھی۔۔۔مجھے پیسے نہیں دینے تھے تو نہ دیتا لیکن اس طرح جھوٹ بولنے کی اُسے کیا ضرورت تھی۔۔۔ یار مجھے اس بات کی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ آخر لوگ جھوٹ کیسے بول لیتے ہیں۔۔۔؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ:ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد مزرائیت سےتوبہ کرکےدائرہ اسلام میں داخل ہوگئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker