بین الاقوامیتازہ ترین

پاکستانی صحافیوں کو تشدد اور خطرات کا سامنا ہے، ایمنیسٹی

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایمنیسٹی انٹرنیشنل ( اے آئی) نے کہا ہے کہ پاکستانی صحافیوں کو مسلسل قتل کی دھمکیوں، ہراساں کرنے اور دیگر اقسام کے تشدد کا سامنا ہے اور خطرات انٹیلی جنس ایجنسیوں ، سیاسی جماعتوں اور عسکری گروہوں کی جانب سے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے،’ ایک گولی آپ کیلئے منتخب کرلی گئی ہے ؛ پاکستان میں صحافیوں پر حملے’ نامی رپورٹ میں صحافیوں کے قتل، تشدد اور ہراساں کرنے کے ان گنت واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی مجاز ادارے، ‘ میڈیا نمائیندوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے یا ذمے داروں کو سزا دینے میں ناکام رہے ہیں۔ آج جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق ملک میں سال 2008 میں جمہوریت کے بحالی کے بعد صحافیوں کے قتل کے 34 واقعات ہوئے ہیں جنہیں رپورٹنگ کے دوران یا صرف صحافتی عمل کی خاطر ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ‘ پاکستانی صحافی برادری بہت حد تک عتاگ کی شکار ہے۔ وہ صحافی جو قومی سیکیورٹی معلات یا انسانی حقوق پر لکھ رہے ہیں ان کی آواز خاموش کرانے کیلئے جبری عناصر ہر طرف سے نشانہ بنارہے ہیں،’ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ایشیا پیسیف کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ گرفتھس کے حوالے سے کہا۔ ‘ حکومت نے وعدہ کیا تھاکہ وہ صحافیوں کی صورتحال کو بہتر بنائے گی، جن میں ہونے والے حملوں کی عوام تفتیش اور عدالتی کارروائی شامل ہے۔ لیکن اس ضمن میں چند ہی ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں،’ گرفتھس نے کہا۔ ‘ فوری اقدامات نہ اٹھانے کی صورت میں پاکستانی میڈیا خاموش بھی ہوسکتا ہے۔ آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں منظرِ عام پر لانے جیسے عمل پر پر خوف کے سائے نے پہلے ہی سرد اثرات مرتب کررکھے ہیں،’ انہوں نے بتایا۔ یہ رپورٹ پاکستان میں 70 کیسز اور انٹرویوز کے بعد مرتب کی گئی ہے اور اس کیلئے پاکستان میں میڈیا سے وابستہ ایک سو سے زائد افراد سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بہت سے صحافیوں کا انٹرویو کیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) سے وابستہ انفرادی اشخاص کی جانب سے حملے، خوفزدہ یا ہراساں کرنے کی شکایت کی ہے۔’ ‘ رپورٹ میں بعض افراد کے نام بدلے گئےہیں اور دیگر نے تو نام تبدیل کرنے پر بھی اپنی زندگی خطرے میں ہونے کا اظہار کیا ہے،’ ایمنیسٹی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا۔ ‘ ملک بھر میں صحافیوں کو غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بھی ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میڈیا میں بھرپور کوریج کی وجہ سے ملک کے طاقتور سیاسی کردارمن پسند کوریج کیلئے صحافیوں پر شدید دباؤ ڈالتے ہیں، رپورٹ نے مزید کہا۔ رہورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں جیسے غیر ریاستی عناصر بھی صحافیوں کو خوفزدہ اور ہلاک کرنے میں ملوث ہیں۔’ اے آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی اور بلوچستان میں صحافیوں کیخلاف کئی اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجاز ادارے ذمے داروں کو گرفتار کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہے ہیں۔ ایمنیسٹی نے بہت سے معاملات پر تحقیقات کی ہیں۔ ادارے شاید ہی خطرات اور دھمکیوں پر تفتیش کرتے ہیں یا ذمے داروں کو عدالت تک لاکر انصاف فراہم کرتے ہیں،’ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے۔ ‘ اس ضمن میں پاکستان کیلئے ایک اہم قدم یہ ہوگا کہ وہ خود اپنی فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں تک تفتیش کا دائرہ بڑھائے تاکہ صحافیوں کیخلاف تشدد کرنے والے ذمے داروں کا تعین ہوسکے۔ اس سے ان صحافیوں کو نشانہ بنانے والے دیگر عناصر کو یہ ٹھوس پیغام پہنچے گا کہ وہ اس عمل میں اب آزاد نہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker