تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

لانگ مارچ ،لانگ مارچ ،لانگ مارچ

malik sajid awanلانگ مارچ لانگ مارچ اور لانگ مارچ اب صرف ہمارے نصیب میں لانگ مارچ ہی رہ گیا ہے جس نے حکومت میں آنا ہوتا ہے وہ لانگ مارچ کا نعرہ لگادیتاہے اس لانگ مارچ سے فائدہ کس کا ہوگا یا پھر یہ کامیاب بھی ہوجائے گا کہ نہیں اب باری ہے طاہر القادری صاحب کی جو لانگ مارچ کرنے جارہے ہیں اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو موجودہ حکومت کا حصہ ہیں کیا یہ لانگ مارچ بے بس اور لاچارعوام کے مسائل حل کرسکے گا نہیں کبھی نہیں اس وقت جو حالات پاکستان کے جارہے ہیں اللہ معاف کرے کسی دشمن کو بھی ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے ہماری عوام بھوکی مررہی ہے اورہمارے سیاستدانوں کو لانگ مارچ کی پڑی ہوتی ہے اگر اس حکومت کے خلاف ہی لانگ مارچ کرناتھا تو جب یہ حکومت بنی اس کے ایک سال بعد ہی لانگ مارچ کے ذریعے تبدیلی لائی جاتی تو اچھا ہوتا اور اب تو حکومت ویسے ہی اپنے پانچ سال مکمل کرنے والی ہے کسی کو بھی اس عوام سے ہمدردی نہیں ہے گھریلو گیس نہیں مل رہی اور نہ ہی بجلی بلکہ بل ضرور آتے ہیں فیکٹریاں تباہ وبرباد ہوگئی ہیں لاکھوں مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں سی این جی سٹیشنز بندپڑے ہیں اور ان پر کام کرنے والے مزدور دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں ہر طرف چوربازاری ہے جو امیر ہے وہ امیر تر اورجوغریب ہے غریب تر ہوچکاہے گیس اور بجلی نہ آئے انکو پرواہ نہیں ہے ان کے گھروں میں جنریٹر چلتے ہیں اور غریب کے بچے مررہے ہیں اب عوام اتنی مایوس ہوچکی ہے کہ ان کا ہر ایک سے اعتبار اٹھ گیا ہے طاہر القادری صاحب کہتے ہیں کہ جان کی پرواہ نہیں ہے حکمران عبرتناک سزاکے لئے تیار ہوجائیں پہلے یہ کہاں تھے اب اچانک ان کو کیسے خیال آیا کہ عوام کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے ۔ ہے نہ ایک نیا ٹوپی ڈرامہ ہے الطاف حسین صاحب نے ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے سیاسی ڈرون حملہ کیا یہ لوگ دوسرے ڈرون حملوں کو روک نہیں سکتے بس اپنی عوام پر حملے کرنے کے عادی ہیں اور اپنے آپ کو قائداعظم محمدعلی جناح کے ساتھ ملادیا اگر قائداعظم نہ ہوتے تو آج ہم ہندوؤں اور انگریزوں کے غلام ہوتے کیا یہ الطاف حسن کا سیاسی ڈرون حملہ ہے اور ہماری عوام لکیر کی فقیر ہے جس طرح سیٹی بجا کر تیتر کو بلایاجاتاہے وہ ہی حال ہماری عوام کا ہے کبھی نواز شریف کے گیت کبھی زرداری کے گیت کبھی پرویز الہی کے ا ورکبھی عمران خان کے گیت اور اب طاہر القادری کے گیت گارہی ہے ہماری عوام اتنی بے بس اور مجبور ہوچکی ہے کہ غلام سے بھی بدتر ہیں ہمیں لانگ مارچ نہیں سکون چاہیئے مہنگائی نہ ہو‘بے روزگاری نہ ہو‘ چوربازاری کاخاتمہ ہو‘ عدالتوں میں انصاف ہواورصرف اور صرف قصوروار کو سزا ملے ہماری عوام کو جاگنا ہوگاورنہ نہ جانے کب تک بند ر کی طرح ناچتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں  مشرف غداری کیس اور افواہیں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker