تازہ ترینکالم

حرمتِ رسول ﷺ اور حقیقی محبتِ رسولﷺ

hakeem karamatآج ہم بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں پیارے پیغمبرﷺ سے محبت کے۔دیواریں رنگین کر دی لکھنے والوں نے ،،،غلامیِ رسول میں موت بھی قبول ہے ،،،بڑی بڑی تنظیمیں بھی وجود میں آ گئی مگر اس ساری محبت کا جوش صرف ربیع الاول کے مہینے میں ہی نظر آتا ہے ۔12 ربیع الاول کے بعد پتہ نہیں وہ عاشقانِ رسول ﷺ کہاں غائب ہو جاتے ہیں ۔دیواریں رنگین کرنے سے بات نہیں بنتی ۔خالی نعرے بازی سے بات نہیں بنتی ۔سڑکیں بلاک کرنا توڑ پھوڑ کرنا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے محبت کا ۔حقیقی محبتِ رسول ﷺ کیا ہے اور سچے عاشقِ رسول ﷺ کون تھے آئیں ذرا ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تا کہ ہمیں پتہ چلے کہ سچی محبت کیا ہوتی ہے ۔
بدر کا میدان کارِ زار سجا ہوا ہے ۔تین سو تیرہ عاشقِ رسولﷺ بے سرو سمانی کے عالم میں حرمتِ رسول میں غلامیِ رسول ﷺ میں اپنا تن من دھن لٹانے کے لیے بلکل تیار ہیں ۔انہیں تین سو تیرہ میں دو بچے ایک کا نام معاز اور دوسرے کا نام معوز ہے ایک کی عمر نو سال اور دوسرے کی عمر گیارہ سال ہے ۔ماں کا حکم ہے کہ یا دشمنِ رسولﷺ کو قتل کر دو یا خود غلامیِ رسول میں اپنی جان دے کر خود شہید ہو جاو اور مجھے شہداء کی ماں بنا دو ۔یہ دونوں بچے میدانِ بدر کے شہسوار حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے پاس آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ چچا جان ہمیں بتاو کہ ابو جہل کون ہے اور کہاں ہے ۔حضرت عبدالرحمٰنؓ حیران ہو کر دیکھتے ہیں ۔اوربچوں سے پوچھتے ہیں کہ بیٹا ۔بیٹا تم ابوجہل کا کیوں پوچھ رہے ہو ۔ان بچوں کے دل میں عشقِ رسول کا بحر ٹھاٹھیں مار رہا ہے ۔بیک زبان جواب دیتے ہیں ۔کہ ہم اس کو آج قتل کرنے کے لیے آئے ہیں سنا ہے کہ یہ ظالم ہمارے نبیﷺ کا گستاخ ہے اور ہم اس کی گستاخی کی سزا آج اسے ضرور دیں گے۔ان بچوں نے کوئی نعرہ نہیں لگایا کسی کی دیوار پر کچھ نہیں لکھا ۔بلکہ یہ میدانِ عمل میں آ گے ہیں اپنے ۔یہ عزم کر کے کہ یا تو ہم گستاخِ رسول کو ختم کر دیں گے یا خود شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو جائیں گے۔حضرت عبدالرحمٰنؓ نے انگلی کے اشارے سے بتایا جب نے بچوں نے دیکھا تو ابو جہل گھوڑے پر بیٹھا ہے اور اپنی تلوار انگلی میں گھما تے ہوئے میدان میں چکر لگا رہا ہے ۔یہ عظیم ماں کے عظیم سپوت دوڑتے ہوئے گے اور دیکھتے ہی دیکھتے مکے کا مغرور سردار خون میں لت پت زمین پر پڑا تڑپ رہا ہے ۔یہ ہیں معاز اور معوز جنہوں نے گستاخِ رسول کا خاتمہ کر دیا ان کے دل عشقِ رسول سے حقیقی طور پر معمور تھے ۔انہوں نے کوئی ٹائر نہیں جلائے ۔کوئی سڑک بلاک نہیں کی۔کوئی گاڑی نہیں جلائی ۔ہاتھ میں بینرز اور جھنڈے پکڑ کر جلوس نہیں نکالا ۔بلکہ عملی طور پر گستاخِ رسول ﷺ کو جہنم رسید کر دیا۔کیوں کہ یہ حقیقی محبت تھی۔
محبت کے تقاضے ہوتے ہیں اور ان تقاضوں کو پورا کرنا ہوتا ہے ۔ایمان کا اطاعت کا اور جب بات ایمان و اطاعت میں آ جاتی ہے تو پھر آگے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
ہمارے پیارے پیغمبرﷺ کی شانِ اقدس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی بھی جس کا امتی بننے کی خواہش کرتے رہے ۔اور نبی ﷺ امام الانبیاہیں ۔ایک اور موقع پر میدانِ جنگ میں آپﷺ نے اپنے صحابہؓ سے کہا کہ کون ہے جو اپنے آخری دم تک میرے خیمے کے باہر پہرہ دے گا ۔تو ایک صحابیؓ اٹھا اور کہا کہ آقا میں اپنے آخری دم تک آپ کے خیمہ کے باہر پہرہ دوں گا وہ صحابی کمزور جسم کا مالک تھا ۔اس لیے آپﷺ نے بیٹھنے کا اشارہ فرمایا ۔اور پھر کہا ۔پھر وہی عاشقِ رسول اُٹھا۔ آپ ﷺنے پھر بیٹھا دیا ۔ حتیٰ کہ تیسری بار آپ نے کہا اور پھر بھی وہ ہی عاشقِ رسولﷺ اُٹھا ۔ تو آپﷺ نے اس کو اجازت دے دی اور وہ پہرہ دینے لگا ۔ادھردشمنوں کے تیر وں کی بارش ہونے لگی اور تیر آ کر اس عاشقِ رسول ﷺکے سینے کو زخمی کرنے لگے عشقِ رسول ﷺ سے معمور یہ سینہ ہر زخمِ ستم سہتا رہا ۔جب 52 تیر لگے تو یہ صحابیؓ گر پڑا دوسرے اصحابؓ نے اُٹھا کر لے جانے لگے تو وہ کہنے لگا کہ مجھے کہیں نہ لے جاو میں نے واعدہ کیا ہے آپﷺ سے کہ تا دمِ مرگ آپﷺ کی پہریداری کروں گا۔اس لیے مجھے کسی طریقے سے اسی خیمے کے سہارے کھڑا کر دو ۔لہذا انہوں نے دوبارہ اس صحابیِ رسول ﷺ کو اس جگہ سہارا دے کر کھڑا کر دیا تیروں کی بارش مسلسل ہو رہی تھی ۔پھر اسی صحابیؓ کو ۴۰ تیر لگے ٹوٹل 92 تیر لگے اور یہ عاشقِ رسولﷺ اور صحانیِ رسولﷺ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گیا ۔اور نبی ﷺسے کیا ہوا اپنا وعدہ وفا کر گیا
یہ ہیں وہ عاشقِ رسولﷺ جو اپنے خون کا آخری قطرہ تک آپ ﷺ کی حرمت پر قربان کر دیتے۔اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہو جاتے ۔دنیا و آخرت کی فلاح پا جاتے۔جب بھی کسی کافر منافق نے پیارے پیغمبرﷺ کی توہین کا سوچا تو میرے آقاﷺ کے جانشینوں نے ان شمع و ہدا کے پروانوں نے سڑکیں بلاک نہیں کیں اپنی گاڑیاں نہیں جلائیں اپنے ملک کا نقصان نہیں کیا اپنی مسجدوں چوراہوں میں پرزور تقریریں نہیں کیں بلکہ ۔اس گستاخ کو جہنم واصل کرنے کے لیے عملی اقدام کیے اور اس وقت تک چین سے بیٹھے نہیں جب تک اس گستاخ کا سر تن جدا نہیں کر لیا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اسلام اور پیارے پیغمبرﷺ سے صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین والی محبت عطا فرما آمین

یہ بھی پڑھیں  ٹی ایم اے جہلم میں نقشہ برانچ میں کرپشن کی انتہا شہر میں جگہ جگہ پلازے تیار ہونا شروع ہو گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker