تازہ ترینعلاقائی

اب کیا کہوں، تحریر محمد منان طاہر

اب کیا کہوں
تحریر محمد منان طاہر

اوکاڑا جس کو1982 میں ضلع بنایا گیا اپنے جغرافیائی ،سیاسی اور تاریخی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔رائے احمد یار کھرل جیسے سپوت اسی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں یہ علاقہ ملکی سیاست میں بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے۔اسی شہر کی ایک اور خاص بات اس کا مشہور بازار جسے گولچوک کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ بازار اوکاڑا کے دوسرے بازاروں اور دوسرے شہروں سے منفرد حثیت رکھتا ہے اس بازار کے چاروں طرف چار دروازے ہیں اور ان چاروں دروازوں میں چار پیپل کے درخت ہیں اور درمیان میں گول مسجد ہے جس میں ہرروز پانچ مرتبہ اللہ اکبر کی صداسنائی دیتی ہیں۔اس طرح کا بازار کسی اور شہر میں موجود نہیں ۔ یہاں ہر وقت خریداروں کا رش رہتا ہے۔اس بازار کے حسن میں کمی یہاں پر قائم ناجائز تجاوزات کی وجہ سے ہوئی دوکانداروں نے تجاوزات کو آگے بڑھا کر راستوں کو تنگ کردیا ہے ریڑھیاں ،فوڈ سٹالز وغیرہ نے بازار کا حسن خراب کر نے میں کوئی نہیں چھوڑی ،ہر وقت کی دھکم پیل سے خواتین کا شاپنگ کرنا محال ہے اوپر سے بازار میں شاپنگ کے لیے آئے ہوئے لوگ اپنی گاڑیاں بےئریر ہونے کے باوجود بازار میں لے آتے ہیں جس سے نہ صرف ٹریفک بری طرح بلاک رہتی ہے بلکہ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوتیں ہیں۔ دیپالپور چوک میں بھی ناجائز تجاوازات کی بھر ما ر ہے جس کی وجہ سے اکثر ٹریفک بلاک رہتی ہے یہاں ریڑھیوں والوں نے سڑک کے اوپر اپنی اشیاء فروخت کے لیے پھیلا رکھی ہیں جس سے ٹریفک کی روانی میں مشکلات پیش آتی ہیں آئے دن یہاں پر کوئی نہ کوئی حادثہ دیکھنے کو ملتا ہے فیصل آباد روڈ جس کو حال میں ہے ون وے کیا گیا یہاں پرانی کچہری چوک میں رکشوں اور ریڑھیوں کی بھرمار نے ون وے کی سہولت کو ختم کر کے رکھ دیا ہے اسی روڈ پر خان کالونی سٹاپ کاجو کٹ رکھا گیا ہے وہ نہایت غلط ہے اس سے کم از کم آدھ کلومیٹر ون وے کی خلاف ورزی کر کے خان کا لونی کی طرف آنا پڑتا ہے آئے روز یہاں بھی حادثات ہو تے رہتے ہیں۔اسی طرح بے نظیر روڈ پر لنڈا بازار جہاں پرموسم سرما کی شدت کی وجہ سے آجکل بہت رش ہوتا ہے روڈ بلاک رکھنے کا سبب بن رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے ان تمام جگہوں سے ناجائز تجاوزات کو ختم کیا جائے خاص طور پر گول چوک میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگائی جائے اور ناجائز تجاوازات کا خاتمہ کیا جائے ۔مقامی گورنمنٹ کو چاہیے کہ ناجائز تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور آئندہ اس کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button