امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

ماں کی گود پہلی درسگاہ (۱)

مثالی معاشرے میں عورت کاکرداربڑی اہمیت کا حامل ہوا کرتا ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ماں کی گود اولاد کی پہلی درسگاہ ہے۔اس درسگاہ سے (بغیر کسی کتاب کے)بچے کوجوعلم و ہنرملتا ہے وہ دنیا کی کوئی طاقت اس سے جُدا نہیں کرسکتی ۔ہمارے معا شرے میں عورت(ماں) کی سوچ بہت محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔محدود اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں عورت پڑھی لکھی ہونے کے باوجود باشعور کم ہی ہوتی ہے ۔جس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ۔خیر میرا آج کا موضوع ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے ۔اس میں ماں کا پڑھا لکھا یا اَن پڑھ ہونا کوئی شرط نہیں ہے صرف ماں ہونا ہی کافی ہے ۔ ۔ایک اَن پڑھ ماں اپنی اُولاد کوکوئی کتاب نہیں پڑھاتی پھربھی اس کی گود اولاد کے لیے پہلی درسگاہ ہی ہوتی ہے ۔لیکن اگر یہی ماں پڑھی لکھی ،باشعور اور حکیم ہو تو اولاد کے لیے ایسی مشعل روشن بن جاتی ہے۔جوپوری زندگی کو روشن کردیتی ہے ۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ ماں سے جو علم اولاد تک پہنچتا ہے وہ کتابی نہیں قدرتی طریقے سے پہنچتاہے۔ یا پھر ماں کی وہ عادات ہوتی ہیں جہیں وہ اکثر دہراتی رہتی ہے ۔خاص طور پر ایک مسلمان معاشرے میں ماں کا اچھے اوصاف کامالک ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کی اولاد بھی اچھے اوصاف اپنائے گی ۔اور خاص طور پر بیٹی کیونکہ ہمارے ہاں بیٹوں کو تو سکول و مدرسے کے بعد گھر سے باہر کی دنیا میں گھومنے پھرنے کی مکمل آزادی ہے لیکن بیٹی ماں کے پاس گھر میں ہی رہتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ اپنے بچوں کے رشتے کرتے وقت بچیوں کے ساتھ ساتھ ماؤں کے کردارکا جائزہ بھی لیتے ہیں ۔کیونکہ اگرماں نمازی ہے تو لازم ہے کہ بیٹی بھی نمازی ہوگی ،اگرماں نیک سیرت ہے تولازم ہے کہ بیٹی بھی نیک سیرت ہوگی،اگر ماں اچھاکھانا پکاتی ہے تولازم ہے کہ بیٹی بھی اچھا کھانا پکائے گی،اگر ماں کا اخلاق اچھاہے تولازم ہے کہ بیٹی کا اخلاق بھی اچھا ہوگا۔ماؤں سے بڑی ہی معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے ۔چاہے جیسی بھی ہو۔اگر یہی ماں ڈانسر ہوتو بیٹی کو بھی تھوڑے بہت سٹپ ضرور آتے ہوں گے ۔اگر ماں شراب پیتی ہو گی تو بیٹی بھی کبھی کبھی پیتی ہوگی ۔ممکن ہے نہ پیتی ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ماں سے بھی زیادہ پیتی ہو۔دیر تک عورت کی برائی بیان کرنا راقم کے بس کی بات نہیں ۔اس لیے بات پر مختصر کرتا ہوں۔ ماہرین کی رائے کے مطابق کہ ماں میں پائی جانے والی ہر خوبی اور خامی کابیٹی کی عادات میں شامل ہونا 98یااس بھی زیادہ فیصد تک ممکن ہوتا ہے ۔ آج دنیا میں عورت کی مظلومیت پر تو بہت زیادہ لکھا ،پڑھا اور بولا ،سنا جاتا ہے او ر بہت زور و شور کے ساتھ بحث مباحثے اور تقریریں تو کی جاتی ہیں لیکن نتیجہ زیرورہتا ہے ۔اس بات کو سمجھنا قدرے مشکل ہے کہ ایک مسئلے پر پوری دنیا کام کررہی ہے ۔بہت سے قوانین بنتے اور تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔صدیوں سے عالم انسان میں اس مسئلے پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ بہت سے وسائل بھی استعمال ہورہے ہیں ۔لیکن مسئلہ حل ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے آخر کیوں؟؟اس مسئلے پر مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہے ۔ میرے خیا ل میں انسا ن خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہوقدرت سے بہتر قانون نہیں بنا سکتا ۔آج عورت دنیادار انسانوں سے اپنے حقوق مانگ رہی ہے ۔جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف مجھ (اللہ)سے مانگواور میرے (اللہ)کے لیے شریک مت بناؤ۔میں امتیاز علی شاکر نہیں مانتا کہ کائنات میں سوائے قانون قدرت کے کوئی قانون موجود ہے ۔نہ صرف عورت بلکہ پوری انسانیت کو کوئی قانون کوئی ضابطہ انصاف دے سکتا ہے تو وہ اسلام ہے ۔کوئی مانے نہ مانے میری نظر میں دنیا میں سوائے اسلام کے کوئی ضابطہ حیات ہے ہی نہیں ۔اور جب تک ہماری عورت کو اسلام کی سمجھ بوجھ نہیں ہوگی وہ کس طرح اپنی اولاد کو کچھ بتا پائے گی ۔جب ماں کو خود نماز نہیں آتی تو وہ بچے کو کس طرح نماز سکھائے گی ،جب ماں کو غسل اور وضوکا طریقہ نہیں آئے گا تو کس طرح بچے کو غسل اور وضو کرنا سکھائے گی اور پھر جب ایک ماں دوبیٹیوں کی پرورش اس حالت میں کرے گی تو اس طرح دنیا میں دو اور ایسی مائیں پیدا ہوجائیں گی جوکہنے کو تو مسلمان ہونگی لیکن علم و عمل سے میری طرح خالی رہیں گی ۔ایسی درس گاہوں سے نکلے ہوئے لوگ کس طرح کا معاشرہ بنائیں گے اس تفصیل میں جانے کی مجھے ضرورت نہیں ہے کیوں وہ ہمارے سامنے ہے جس کاہم خود بھی حصہ ہیں ۔ آپ کو نہیں لگتا کہ میری ماؤں نے دین اسلام سے دوری اختیار کرکے ہماری پہلی درس گاہ کواسلام سے دور تر کردیا ہے ۔جس کی وجہ سے آج مسلمان دنیا میں رسوا ہوکررہ گئے ہیں ۔اور اسی وجہ سے آج دین کی ٹھکیداری صرف مولویوں کے پاس ہے۔بچہ پیدا ہوگیا کان میں اذان کہنی ہے لاؤ مولوی کو،کوئی فوت ہوگیا میت کو غسل دینا ہے لاؤمولوی کو،جنازہ پڑھانا ہے لاؤ مولوی کو،کوئی جانورذبح کرنا ہو لاؤمولوی کو،گھر میں قرآن خوانی کرانی ہو لاؤ مولوی کو ۔میرا یہ سوال اپنے مسلمان بہن بھائیوں سے ہے کہ اسلام صرف مولوی کو سیکھنا چاہیے یا ہر مسلمان کو ؟؟؟دوستواسے اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا کیا حق ہے جو اپنے بچے کے کان میں اذان تک نہیں پڑسکتا؟؟؟مجھے یہ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہورہی کہ ہماری اس حالت کی ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے ۔بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا سارا بیڑا غرق میرے جیسے نااہل علماء جاہل مولویوں نے کیا

یہ بھی پڑھیں  جیسے عوام ویسے حکمران

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker