تازہ ترینحکیم شہبا ز انو رکالم

ماں کی ممتا اور بیٹے کا کردار

ہر ما ں کا خوا ب ہو تا ہے کہ اس کا بیٹا بڑا ہو کر دنیا کا سب سے اچھا انسا ن بنے ۔ یہ خو اب وہ اس و قت سے بُننا شر و ع کر د یتی ہے جب یہ انسا ن ابھی جنین کی شکل میں اس کی کو کھ میں ہو تاہے۔ جب وہ پیدا ہو تا ہے تو ما ں ہر طر ح کے دکھ تکلیف کا سا منا کر تی ہے ۔ یہا ں تک کے وہ سر د یوں جیسی لمبی ر اتوں کوجب اس کا لخت جگر بستر کو گیلا یعنی بستر پر ہی پیشا ب کر تا ہے تو ماں خو د گیلے بستر پر لیٹ جا تی ہے اور اپنے بچے کو خشک اور د بیز بستر پر لیٹا تی ہے ۔تا کہ اس کا ننہ منے سے بچے کو آرام کی نیند �آ سکے خو د کی نیند اپنے دُلارے پر ہی قر بان کر دیتی ہے رات کو بار بار اُٹھ کر اس کی دیکھ بال کر تی ہے ۔ ایک طر ف اس کے ور نے کی آو از ماں کے کان پر پڑی نہیں کہ سبھی کا م کا ج چھو ڑ کر اس کی خد مت کر نے میں مصر وف ہو جا تی ہے۔ خو د بھو کھی پیا سی رہ کر اپنے بچہ کا پیٹ پا لتی ہے۔ ابھی یہ اتنا چھو ٹا ہو تاہے کہ رونے کے علا وہ بو ل نہیں سکتا پھر بھی اس کے رونے کی ہر وجہ کو جا ن جا تی ہے۔ شر و ع شر و ع میں اس کو مماں ، پاپا کا لفظ سکھاتی ہے اور آہستہ آہستہ اپنی زبا ن پر عبور حا صل کر تی ہے ۔ با پ کی انگلی پکڑ کر یہ دورنا سکھتاہے۔ با پ اپنے لادلے کی آغوش میں دنیا کی تما م خو شیاں لا ڈلنے کے لیے تما م کو شش کر تا ہے۔ وہ اپنے بچے کی خا طر خو د کو جا نور کی طر ح محنت مز وری میں مگن کر لیتا ہے پھر چا ہیے کڑی دھو پ یا پھر سردیوں کی لمبی راتیں! اپنی نیند کی پر و ہ کیے بغیر اپنے آپ کو محنت مزدوری میں مشغول رکھتا ہے ۔ کس لیے؟
کہ اس کے بیٹے کو کسی چیز کی کمی نہ ہو ۔ وہ خو دکی زند گی افقوں میں بسر کرتا ہے اور تھو ڑے تھوڑے روپے جمع کرتا ہے کہ اس کا بیٹا بڑا ہو کر اچھی تعلیم حا صل کر سکے اور ایک اچھا سا افیسر بننے اور بڑا آدمی بن کر اپنے گھر کی غر بت کو دور کر ئے گا تا رتخی کو اُجا لوں میں تبد یل کر گا۔ابھی یہ چھو ٹا سا بچہ ہو تا ہے اور ان کے والدین کے دل میں یہ ارما ن جنم لینا شروع ہو جا تے ہیں۔جیسے جیسے ان کا لخت جگر بڑا ہو تا ہے وہ اس کو تعلیم حا صل کروانا شر و ع کر دیتے ہے اور شب و سحر محنت کر کے اس کے تعلیمی اخرا جا ت بر داشت کر تے ہیں ۔جوں جوں وقت گز رتا ہے وہ اپنی تعلیم مکمل کر لیتا ہے اور روزگا ر کی تلا ش میں کہی نہ کہی درخواست دائر کر تا ہے جب کسی بھی جگہ اس کی تعلیم کی قدر نہیں کی جاتی تو پھر گھر میں ما یو س ہو کر بیٹھ جا تا تو والدین جنہوں نے پہلے ہی ایک ایک روپے جمع کر کے اس کو انہی روپوں سے پڑ ھا یا لکھا اب ان کی اتنی قوت نہیں کہ وہ اس کو روپے دے اچھی پو سٹ دِ لا سکے اور و یسے بھی وہ حا لات کا سامنا کر تے کرتے اپنی قسمت سے ہا ر چکے ہو تے ہیں۔ لیکن جو ارما ن ان کے دل میں سجا ئے بیٹھے ہیں ان کو پو را کر نے کے لیے اپنی قسمت کو بد لنے میں مصر وف ہو جا تے ہیں ۔آخر ایک دن وہ روپے جمع کر کے اس کو بڑا افیسر بنا نے میں کا میا ب ہو جا تے ہے۔ اس کی شا دی کی جا تی ہے ۔
جہاں تک کے اس کی ہر خو شی کو نظر انداز کیا جا تا ہے۔ جب بہوں گھر میں آتی ہے تو گھر کے ما حو ل میں کچھ تبد یلی رو نما ہو نا شر وع ہو جا تی ہے بہوں اپنی سا نس اور سسر کو نو کر وں سے بد تر کر دیتی ہے اور شوہر کے دل میں ان کے لیے زہر بھر نا شروع کر تی ہے ۔ اور بیٹا کس خا طر ما ں با پ نے زما نے کی تما م تر ٹھو کر یں کھا ئی انہی کو ہی ان کے گھر سے بے دخل کر یتاہے۔ اور اپنے والدین کے ارمانوں کی شیشے کی طرح چور کر دیتا ہے۔ اگر اکیلے والد ین اپنی اولا د کو پالتے ہی نہیں بلکہ ان کی اختیا جا ت کو بھی کر سکے ہیں تو کیا وہ سب مل کر اپنے والدین کو نہیں پا ل سکتے
ہر کو ئی وا لدین اپنے بچوں کے لیے اپنے خون اور پسینے کو یکسا کر کے اپنی اولا کی ہر خوا ہش کا خیا ل رکھتے ہیں اور ان کو کسی نہ کسی طرح پو ری کرتے ہیں ۔ لیکن بہت افسوس کی با ت ہے کہ جب ایک طر ف ان کی شا دی ہو تی ہے وہا ں دوسر ی طرف کچھ ہی دنوں بعد وہ اپنے ما ں ، باپ کو ساتھ بیتائے لمبے عر صے کو ایک خواب کی طر ح بھول کر اپنی دوجہ سے الگ رہنے کا راستہ اختیا ر کر لیتے ہیں ۔ ماں با پ جنہوں نے اپنی زند گی کا ہر لمحہ ان کے لیے وقف کر رکھا تھا اس کو پل بھر میں ہی بھو ل کر اِک نئی زند گی کا آ غا ز شر وع کر تے ہیں اور اپنے آپ کو خو ش قسمت اور دانا سمجھتے ہیں ذرا کبھی کسی خو د غر ض نے یہ خیا ل کیا ہے کہ ان کے والدین پر اس وقت کیا بیت رہی ہو گی ۔ان جیسے لو گوں کے ذہین میں کبھی یہ بات نہیں آتی کہ کل کو ہما رے بچے بھی ہم کو اپنے ہی گھر سے بے گھر کر دے گے کیو نکہ کہا جا تا ہے کہ،،جیسی کر نی ویسی بھر نی ،،
ہر جانو ر جو انسان کی خد مت میں آ جا ئے حق خد مت اداکر تاہے۔ ستا ئش کی تمنا اور صلے کی پر وا کیے بغیر ۔ مٹھی بھر دانہ اور سو کھی سٹر ی گھا س پر عمر گزار لیتا ہے ، خد مت کر تے کرتے ہی وہ فنا ہو جا تا ہے۔ لیکن پھر بھی ما لک کو اس کا احسا س تک نہیں ہو تا ہے یہ کا ر آ مد جا نور بھی جا ندار ہے ، اس کے لیے کس کس طر ح سے ہلکا ن ہو تاہے نہ خد مت کی قد ر ، نہ محنت کا اجر ، نہ کا م کی عزت اور آ خری ذلت یہ کہ مر نے لگے تو ذبح کر کے کھا لیا جسے کھا نہ سکے اس کی کھا بیچ کھا ئی ۔ ایک طر ف سے دیکھا جا ئے تو آ ج کا انسا ن کسی قصا ئی سے کم نہیں !ما ں ، باپ اپنے بچوں کی خد مت کر تے کر تے لاغر ی میں ڈھل جا تے ہیں اور جب ان کی کی ہو ئی خد مت کو رنگ لانا چا ہیے وہ ان کو اس کا صلہ کچھ یو ں دیتے ہیں کہ ان کو اپنے ہی گھر سے بے دخل کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ہزاروں نہتے فلسطینیوں کا قاتل اسرائیل کا سابق وزیراعظم ایریل شیرون چل بسا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker