بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

کوئٹہ،سوات ۔۔۔۔میدان کرب و بلا

bashir ahmad mirگذشتہ روز وطن عزیز کا انتہائی افسوسناک دن تھا جب کوئٹہ اور سوات میں بم دھماکوں سے ایک سو سے زائدکے قیمتی جانیں دہشتگردوں کی انسانیت سوز وارداتوں کی نذر ہو ئیں جن میں ہمارے تین صحافی بھائی بھی وطن کی خدمت کرتے اپنی جان قربان کر گے ان المناک واقعات میں 250شہری زمی ہوئے۔کراچی میں تو روزانہ کا معمول ہے کہ درجن بھر بے گناہ شہری ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہو رہے ہیں۔جہاں تک چوری،ڈکیتی،مار ڈھار سمیت دیگر سماجی جرائم کا تعلق ہے اس کا شمار ممکن نہیں ،پورا ملک دہشتگردوں اور سماج دشمنوں کے نرغے میں آیا ہوا ہے۔سوات میں تبلیغی جماعت پر دہشتگردی کی تاریخ میں پہلا حملہ ہونا باعث حیرت ہے ،یہ اللہ والے بے ضر ر مخلوق بھی ظالموں کے نشانے میں آ گے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ بھارت کی انتہا پسند تنظیم شیو سینا کی کارروائی ہو سکتی ہے تاہم قیاس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔بہرحال جو بھی ان مکروہ عزائم میں ملوث ہوں وہ قابل معافی نہیں،اگر یہ ہمارے مسلمان کر رہے ہیں یا ان دہشتگردوں کے آلہ کار بننے ہوئے ہیں ان کے لئے دونوں جہانوں کی ذلت ان کا مقدر رہے گی۔
آخر یہ کون بد بخت ہیں جو مسلمان ہو کر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ؟ انہیں پکڑنا،ان کی سرگرمیاں جانچنا اور ان کے اردگرد گھیرا تنگ کرنا کس کی ذمہ داری ہے ؟ یہ ایسی بیماری ہماری قوم بھگت رہی ہے کہ جس کا ابھی تک کوئی علاج نہیں ہو سکا،حالانکہ اگر ہمارے منصوبہ ساز کوشش کریں تو کوئی مشکل بات نہیں کہ ہم ان برے حالات سے جلد نکل سکتے ہیں مگر اس کے لئے وسائل بروئے کار لانا ازبس ضروری ہیں ،محض طاقت ہی علاج نہیں ،اگر طاقت میں ہی سب کچھ ہوتا۔۔۔۔ تو آج ایسا سماں نہ دیکھا جاتا۔
حکومت اگر آج یہ فیصلہ کر لے کہ ایک سال کے تمام مراعات وہ نہیں لیں گے،سول اور ملٹری بیوروکریسی یہ بات طے کر لے کہ وہ اپنی آمدن کا 20فی صد ایک مخصوص فنڈ میں جمع کروائے گے اور ملک کے ارب پتی اپنی تجوریاں تھوڑی مقدار میں کھول دیں جس سے اتنی مقدار میں رقم جمع ہو جائے جو حفاظتی منصوبہ بندی پر صرف ہو تو ایک مربوط منصوبہ بندی سے سماج دشمنوں اور دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملائے جا سکتے ہیں۔اس رقم کا کیا کرنا ہوگا ؟ آپ پر ضلع میں ایک نئی فورس تشکیل کریں ،ملک میں بے روزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے ،انہیں دہشتگردوں کا خام مال بنانے کے بجائے مثبت راستے پر ان کی تربیت کر کے مکل کی حفاظت کے لئے مامور کیا جائے۔اس طرح دو فوائد ایک وقت میں حاصل ہو سکیں گے،ایک تو بے روز گاری پر کسی حد تک کنٹرول ہو سکے گا جب کہ دوسری بڑی کامیابی یہ ہو گی کہ یہ فورس دہشتگردوں اور سماج دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی ایک بہتر کوشش ثابت ہو سکے گی۔
ہمارے منصوبہ ساز سطحی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اب تک اس بحرانی کیفیت سے نجات ممکن نہیں ہو پا رہی ہے۔اس ضمن میں ساری منصوبہ بندی کی حکمت عملی کو شائع کرنا مناسب نہیں اگر وزارت داخلہ مناسب سمجھے تو راقم اپنی خدمات پیش کر کے بہتر تجاویز دے سکتا ہے ،بہرحال یہ سب پریشان کن حالات پوری قوم کے لئے فکر مندی کا سبب ہیں جن سے عوام نکلنا چاہتی ہے۔فورسز کا تو اپنا زاویہ ہوتا ہے ،عوام کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی ان جنگی حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے طور ہوشمندی کا مظاہرہ کریں ،ہمارے شہر اور گاؤں میں کوئی معقول سیکیورٹی کا انتظام نہیں ،اگر کہیں پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنز ہیں ،ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے مالکان نے تمام تر توجہ اپنے کاروبار اور منافع پر لگا رکھی ہے50سال سے زائد بزرگوں کو سیکیورٹی گارڈ رکھا جاتا ہے جنہیں 7سے9ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے اور ان سے 12گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے ،ادھیڑ عمر کے لوگ اگرچہ سمجھ دار اور دور اندیش ہوتے ہیں مگر ان سے کسی مزاحمتی صورت حال میں کسی مثبت کردار کی توقع ممکن نہیں ،دراصل بد قسمتی سے سیکیورٹی کمپنیاں بھی ایک مخصوص مافیا کی زیر نگرانی چل رہی ہیں جو محنت کشوں کا کھل کر استحصال کر رہی ہیں ۔وزارت داخلہ کو چاہئے کہ ان تمام سیکیورٹی کمپنیوں کو سرکاری تحویل میں لیکر بہتر انداز سے ان کی تربیت اور کارکردگی سے استفادہ حاصل کیا جائے۔
امن کمیٹیوں کا گذشتہ عرصے میں قیام عمل میں لایا گیا تھا مگر ان سے بھی مطلوبہ نتائج بر آمد نہیں ہو سکے۔جبکہ بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر بھی ایک تنظیم سامنے لائی گئی تھی اس کی بھی کارکردگی نشت و برخاست تک محدود ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر محلے ،وارڈ،یونین کونسل ،ڈسٹرکٹ کونسل سے مرکز تک صاحب علم ،مستقبل بین اور معاشرے کے باخبر حضرات پر مشتمل تھنک ٹینک یا کور کمیٹیاں تشکیل کی جائیں اور ان کی آراء پر نچلی سطح سے اوپر تک مربوط منصوبہ سازی کی جائے ،اطلاعات کا نظام بہتر بنایا جائے،نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی نجی سیکیورٹی فورس زیر عمل لائی جائے ۔جس میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوں ،یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ عوام کی غالب اکثریت دہشتگردوں اور سماج دشمنوں کے خلاف ہے ،ہمیں اس افرادی قوت کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ۔اگر آج سے بنیادی خامیوں کا ادراک کر لیا جائے تو دہشگردوں کو بند گلی میں دھکیلا جا سکتا ہے ۔دیکھا تو یہ گیا ہے کہ وی وی آئی پیز کے لئے تو بھر پور سیکیورٹی ہوتی ہے مگر عام مخلوق اللہ کے آسرے پر چھوڑی جا رہی ہے۔اگر حکومت عوم کے تحفظ کا احساس کر ئے تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔اس ضمن میں سیاسی ،مذہبی اور سماجی کارکنوں کی مدد بھی لی جا سکتی ہے ہمارے پاس اللہ کے فضل سے عوامی قوت موجود ہے ،یہ بات ذہین نشین رکھئے کہ جب عوام ساتھ چھوڑ دے تو پھر حالات کو طاقت کے بل بوتے پر کسی صورت کنٹرول نہیں کیا جا سکتا،جس کی واضح مثال مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ،ہمیں ماضی کی غلطیوں اور تجربات سے سیکھنا چاہئے۔دشتگردی کی حالیہ لہر عام انتخابات سے قبل انتہائی توجہ طلب ہے جس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر تحفظ اور امن عامہ کو بہتر بنانے پر یکسو ہونا ہو گا ورنہ خدشہ ہے کہ دشمنان وطن ہمارے اداروں کو غیر یقینی صورت حال کا شکار کر دیں گے۔امید ہے کہ ارباب اقتدار ان حالات پر غور و فکر کر کے ٹھوس اقدامات کریں گے۔note

یہ بھی پڑھیں  برطانیہ کا تہران میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. acha news hai.mai khud kuch lekhna chahata ho.lakin suchta ho keh kaha se lekho .samhj mai nahi ata.kheir ALLAH behtar karega

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker