آصف یٰسین لانگوتازہ ترینکالم

مدارس سے خوفزدہ امریکہ

متحدہ امریکہ دنیا ایک مضبوط ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ سپر پاور ہونے کا بھی اعزاز رکھتا ہے ۔ اس سے قبل سپر پاور کا طاقت رکھنے والا سویت یونین تھا امریکہ نے اس سے اعزاز چھیننے میں مسلم ریاستوں کو کامیاب ہتھیار بنا کر حاصل کی ہے۔ وہ اس طرح امریکہ نے 11ستمبر 2001 ء کے عالمی تجارتی مرکز( ورلڈ ٹریڈ سینٹر) کے حادثے کا الزام اسامہ بن لادن اور القاعدہ پر لگا دیا گیا ۔ ان لوگوں کو طالبان نے پنا ہ دے رکھی تھی اور افغانی روایات کے مطابق انھیں دشمن کے حوالے نہیں کیا جاسکتا تھا۔اس بہانے 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مدد سے اسلامی جمہوریہ افغانستان پر حملہ کر دیا اور افغانستان پر قبضہ کر دیا ۔ اور امریکہ نے بعد میں عراق پر قبضہ کیا ۔ جس سے یہ سوچا جا سکتا ہے کہ ایک تو اس نے عراق پر حملے سے پہلے افغانستان کی ایسی حکومت کو ختم کر دیا جہاں سے ممکنہ مدد عراق کو جہاد کے نام پر مل سکتی تھی ۔ طالبان کی حکومت کوختم کر کے افغانستان پر بھی قبضہ کیا اور عراق پر بھی قبضہ کیا ۔اگر پہلے عراق پر حملہ یا قبضہ کرتا تو افغانستان حکومت سے جہاد ی تنظیموں سے عراق کو کافی مدد مل سکتا تھا جس امریکہ کو شکشت کا سامناکرنا پڑتا تھا مگر امریکہ کی چالاکی ہے ۔افغانستان اور عراق پر قبضہ کر کے پاکستان کو بھی دباؤ میں رکھ کر ایران اور کسی حد تک اسلام کے مرکز سعودی عرب کو بھی کھیرے میں لے لیا ۔ خلیج فارس پر اتنی زیادہ امریکہ بحری طاقت قائم ہو گئی جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہے۔امریکی ایما پر جرمنی کے شہر یون میں ایک افغانی حکومت کا قیام عمل میں آیا ۔جس کے سربراہ حامد کرزئی تھے۔9اکتوبر 2004 ء کو حامد کرزئی کو افغانستان کو صدر چن لیا گیا ۔ملامحمد عمر افغانستان کی طالبان تحریک کے رہنماء 1996ء سے 2001 تک افغانستان کے حکمران رہے۔ پھر امریکی و نیٹو افواج نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔ اس وقت وہ امریکی و نیٹو کے خلاف گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔
1989ء میں روسی افواج کی افغانستان سے واپسی ہوئی اور مقامی لوگوں نے اقتدار جونہی سنبھالاتو بد امنی میں اضافہ ہو بلکہ پوری طرح سے ناکام حکومت تشکیل پائی اور بہت خراب ہوگئے ۔ ہز طرح کی جرائم میں اضافہ ہوا تو ملا عمر نے مدارس سے طلباء کی ٹیم بنام طالبان بنا کرجہاد شروع کر دیا اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد افغانستان پر اپنی حکومت میں شریعت نافذ کر کے افغانستان کو سکون ، خوشحالی، امن اور شرعی نظام فراہم کیا مگر یہ امریکا کو راس نہ آیا اور امریکا نے پاکستان کے ساتھ ملک افغانستان پر حملہ کر کے طالبان کو ہشت گرد ی کا الزام میں پھسا کر اپنی حکومت قائم کردی۔ کاش کہ پاکستانی حکومت 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ ساتھ نہیں دیتا جس سے افغانستان پر حملہ ہوا بعدازاں عراق پر اور آج امریکہ اندرونی طور پر پاکستان پر معتد بار حملہ کرچکا ہے اور پاکستان کی تمام دہشت گردوں کی سربراہی کر رہا ہے ۔
اگر افغانستان میں حملے کی اجازت نہیں دیتا تو لاکھوں بے گنا ہ مسلمان افغانستان ، عراق اور پاکستان سر عام قتل نہیں ہوتے۔نہ امریکہ اسلام ممالک پر اپنا قبضہ جماتا ۔
اب گزشتہ روز امریکہ نے عالمی دہشت گردی سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف مناسب اقدامات نہیں کر رہا ، فاٹا اور بلوچستا ن کے مدارس افغانستان اور بھارت پر حملوں کا سبب ہیں ۔ 2013 کے دوران پاکستان میں القاعدہ کمزور ہوئی تاہم کئی کالعدم تنظیموں کی جانب سے مسلسل دہشت گرد کاروائیوں کا سلسلہ جا رہا۔پاکستان میں القاعدہ ، کالعدم تحریک طالبان، پنجابی طالبان، لشکر جھنگوی نے دہشت گرد کاروائیاں کیں تاہم لشکر طیبہ کی جانب سے پاکستان میں فنڈنگ کیے جانے کے باوجود کوئی کاروائی سامنے نہیں آئی۔ پاکستان میں القاعدہ کمزور ہوئی ہے ، تنظٰم کی قیادت اور دیگر جنگجو گروپوں کے درمیان رابطے کٹ گئے ہیں۔ دوسری جانب القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک سال2013 ء میں بھی امریکی مفادات کے لئے خطرہ رہی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے پاکستان اور امریکی مفادات کو خطرہ لاحق رہے ہیں ۔ایمن الظواہری کی قیادت دہشت گردنیٹ ورک القاعدہ کے مر کزی دھڑے کو اگر چہ کافی کمزور بنا دیا گیا ہے تاہم اس سے منسلک دیگر کئی گروہ کافی خودمختار اور جارحانہ ہوتے جارہے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا ہے کہ جن پاکستانی تنظیموں کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہے وہ پاکستان میں بے حد آسانی سے اپنے نام بدل کر کسی بھی طرح کی پابندیوں سے بچ نکلتی ہیں ۔ بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گرد تنظیموں کے اثاثے ضبط کرنے کی مہم سست رہی ہے ۔ حکومت پاکستان کے بارے میں اس رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کئی نئے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ دہشت گردی کے مقدمات کیلئے بنی عدالتوں میں گواہوں ، وکلاء ، ججوں اور پولیس کو شدت پسندوں کی طرف سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے عدالت کی رفتار سست اور مبینہ دہشت گرد اکثر برہ ہو جاتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے تعلقات کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ہیں ۔ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو اب پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ حاصل ہے ۔ مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں کمزور حکومتوں اور عدم استحکام کی وجہ سے القاعدہ کے حامی گروپ اور اسی طرز کی انتہا پسندانہ سوچ کے حامل دیگر تنظیموں نے اپنی کاروائیوں کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے ۔ یمن ، شام، عراق، شمالی افریقہ اور صومالیہ میں ب ڑھ رہا ہے ۔ دنیا بھر سے ہزاروں جنگجوؤں نے شام کا رخ کیا ہے جہاں صدر بشار الاسد کے خلاف مسلح تحریک جاری ہے ۔ ان میں کئی جنگجو انگریزی زبان بھی بول سکتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق 2013ء میں یورپی ملک ڈنمارک سے 90 جنگجوؤں نے شام کا رخ کیا جبکہ اسی دوران 184 فرانس سے ، 240 جرمنی سے ، 30سے 40 ناروے سے ، 100 کے قریب بیلجیم سے 75 جنگجو سویڈن سے شام پہنچ گئے ہیں ۔ پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کی چوٹی کی قیادت نے نیٹ ورک کو دھڑوں میں بانٹنے کا عمل تیز کر دیا ہے ۔ ایران دہشت گردی کا ایم سر پرست بنا ہو ا ہے ۔ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے اثاثے ضبط کرنے کی مہم سست ہے ۔ لشکر طیبہ تو پیسہ اکٹھا کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ خلیج اور مشرقی وسطیٰ کے ممالک اور یورپ سے بھی مالی مدد مل رہی ہے ۔
امریکہ کامزید کہنا ہے کہ پاکستان کیمناسب اقدامات نہیں کر رہا ہے ۔ فاٹا اور بلوچستان کے مدارس افغانستان اور بھارت پر حملوں کا سبب ہیں ۔ درحقیقت امریکہ نے سویت یونین کو شکست دلانے والے مدارس کے کم سن با ہمت مجاہدین سے خوف طاری ہے کہ سویت یونین کو غرق کرنے والے مدارس کے طلبا ء اسے بھی سویت یونین جیسا حشر کر سکتے ہیں اسی لیے یہ طالبان کے نام پر کافی واردات کر وا کر طالبان اور مدارس کو بد نام کرنے کا بھی کام کرتا ہے تاکہ اس کے راستے کے تمام کانٹے دور ہو جائیں ۔ اسلام زندہ باد اور اللہ اکبر کے نعرہ لگا کر جہاد کرنے والے صرف مدارس میں ہیں باقی تو تعلیمی ادارے تو یہودی کلچر پھیلانے کا کام کر رہے ہیں ۔ مدارس ہی میں اسلام کلچر پائی جاتی ہے اسے امریکہ بدنام کر کے اسلام کلچر کا خاتمہ کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے ۔ امریکہ سیاست دانوں کو بھی خرید سکتا ہے ۔ صحافیوں کو بھی خرید سکتا ہے ۔ تجزیہ نگاروں کو بھی با آسانی خرید سکتا ہے مگر مدارس میں طالب علم جو کہ جہاد اللہ کی خواب دیکھتے ہیں ان کو نہیں خرید سکتا ہے ۔ اب امریکا اسلامی مدارس سے بہت ہی خوف زدہ ہے کوشش میں ہے کہ اسلامی ریاستوں بالخصوص بلوچستان اور فاٹا کے مدارس پر پابندی عائد ہو جائے تاکہ اسلام کے لئے جہاد کرنے والوں کی نشان ہی ختم ہو جائے ۔اور امریکا اپنی مفادات آسانی سے حاصل کرتا رہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker