تازہ ترینکالم

ماہ شعبان کی فضیلت

peerاسلامی آٹھواں مہینہ شعبان ہے ۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں ۔چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے ۔نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں ۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لئے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کے لئے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے ۔یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ (ماثبت من السنتہ صفحہ141)
شعبان معظم میں مندرجہ ذیل مشہور واقعات ہوئے ۔
1 اسی مہینہ کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی ۔
2 اسی مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت یعنی لیلۂ مبارکہ ہے جس میں امت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے ۔
3 اسی ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا ۔پہلے ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا ۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضور سراپا نور شافع یوم النشور ﷺ کی مرضی کے مطابق کعبہ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا ۔اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں ۔(عجائب المخلوقات صفحہ47)
شعبان المعظم کی فضیلت:شعبان کا مہینہ ایک با برکت مہینہ ہے جس کی فضیلت میں کتب احادیث لبریز ہیں ۔چند احادیث مبارکہ لکھی جاتی ہیں ۔
۱۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شعبان رجب اور ماہِ رمضان کے درمیان ایک مہینہ ہے لوگ اس کی شان سے غافل ہیں ۔اس میں بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور مجھے یہ محبوب ہے کہ میرے اعمال اس حال میں اٹھیں کہ روزہ دار ہوں ۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ141)
۲۔ شعبان میرا مہینہ اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے ۔(ماثبت من السنۃ صفحہ141)
۳۔ حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو تمام مہینوں سے زیادہ پیارا مہینہ شعبان تھا ۔(نزہۃ المجالس جلد1صفحہ131)
۴۔ سیدی و سندی حضرت شیخ عبد القاد ر حسنی حسینی جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شعبان میں پانچ حرف ہیں ۔
1۔شین 2۔عین 3۔باء 4۔الف 5۔نون
پس شین عبارت ہے شرف سے ۔اور عین عبارت ہے علو سے ۔باء عبارت ہے بر(بھلائی ) سے ۔اورالف عبارت ہے الفت(محبت) سے ۔اور نون عبارت ہے نور سے۔لہٰذا اللہ تعالیٰ ماہِ شعبان میں اپنے نیک بندوں کو یہ پانچ چیزیں عطا فرماتا ہے ۔نیز فرماتے ہیں کہ اس مہینہ میں محبوب کبریا ﷺ پر درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ مہینہ حضور سراپا نور شافع یوم النشور ﷺ کا ہے ۔اس لئے اس مہینہ کے وسیلہ سے بارگاہ الہٰی میں قرب حاصل کرنا چاہیے۔ (غنیۃ الطالبین جلد1صفحہ188)
پہلی شعبان کے نفل اور روزہ:حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو پہلی تاریخ شعبان کی رات بارہ رکعت نفل پڑھے ۔ہر رکعت میں الحمد للہ شریف کے بعد قل ھو اللہ احد 5مرتبہ پڑھے ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو 12ہزار شہیدوں کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔اور 12سال کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھا جاتا ہے ۔گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے کہ گویا ابھی وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور 80دن تک اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے ہیں ۔
نیز آپ نے فرمایا کہ جو آدمی شعبان کی پہلی جمعرات اور آخری جمعرات کو روزہ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے ۔ (نزہۃ المجالس جلد1ص131)
شب برأت کی فضیلت:ماہ شعبان کا تمام مہینہ برکتوں والا سعادتوں کا مجموعہ ہے ۔خصوصاً اس کی 15ویں رات جس کو شب برأت اور لیلۂ مبارکہ کہتے ہیں ۔باقی شعبان کی راتوں بلکہ تمام سال کی اکثر راتوں سے افضل ہے ۔
مطلب یہ ہے کہ لیلہ مبارکہ سے مراد شب برأت ہے اور یہی مفسرین کا مذہب ہے اور اس مبارک رات میں ہر شخص کا رزق لکھ دیا جاتا ہے کہ اس سال اس قدر اس کو ملے گا اور اتنا استعمال کرلے گا۔
اسی طرح اجل بھی لکھ دی جاتی ہے کہ فلاں شخص اتنی مدت تک زندہ رہے گا اور فلاں وقت میں مرے گا۔ اسی طرح جو کام آئندہ سال ہونے والا ہوتا ہے سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے غرضیکہ اس رات میں نئی فہرستیں تیار ہوتی ہیں اور بارگاہ الہٰی میں پیش کی جاتی ہیں ۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کی 15ویں رات میں خدائے ذوالجلال اس سماءِ دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے یعنی اس کی رحمت نازل ہوتی ہے اور کارکنان غیبی اللہ تعالیٰ کے سامنے سال بھر کے اعمال نامے پیش کرتے ہیں ۔اس کے بعد احکم الحاکمین اپنی شفقت سے بندوں کو پیارے خطاب فرماتا ہے ۔ ’’خبردارہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ میں اس کے گناہوں کو بخش دوں ۔خبردار ہے کوئی روزی مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں ۔خبردار ہے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار کہ میں اس کو معافی عطا کروں ۔خبردار ہے کوئی ایسا ایسا یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے ۔
وہ لوگ کتنے سعادت مند ہیں جو اس رات کو عبادت کرتے ہیں اور توبہ کر کے اپنے رب کو راضی کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور رزق حلال مانگ کر خزانۂ غیب سے مالا مال ہو جاتے ہیں ۔بیماروں اور مصیبتوں سے پناہ مانگ کر ان سے خلاصی حاصل کرتے ہیں ۔اس رات اللہ تعالیٰ سے مسلمانوں کے لئے عام معافی کا اعلان ہوتا ہے اور سب کی مغفرت ہو جاتی ہے سوائے چند لوگوں کے ۔
سیدنا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور رحمۃ اللعالمین ﷺ نے فرمایا:’’ بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی 15ویں رات میں رحمت کی تجلی فرماتا ہے ۔پس تمام مخلوق سوائے مشرک اور کینہ پرور کے بخشش فرماتا ہے ۔‘‘رواہ ابن ماجہ(مشکوٰۃ صفحہ115)
بعض روایتوں میں ہے کہ مشرک ۔جادو گر ۔کاہن ۔زنا پر اصرار کرنے والا ۔ہمیشہ شراب پینے والا ۔ان کی بخشش نہیں ہوتی ۔اس سے معلوم ہوا کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان سے غیر شرعی طور پر کینہ اور عداوت رکھتا ہے اس کی مغفرت نہیں ہوتی ۔اس لئے پہلے زمانہ کے لوگ شب برأت سے پہلے ہی ایک دوسرے سے معافی مانگتے اور ان کو راضی کرتے تھے تاکہ اس رات کی رحمت و مغفرت سے بہرہ ور ہو سکیں ۔
حکایت:کسی شخص نے سیدنا حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ سے توبہ کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ شراب پینے کا عادی تھا اور میری چھوٹی سی بچی تھی ۔جو میرے سامنے ہی شراب کی بوتلوں کو انڈیل دیتی تھی ۔جب وہ دو سال کی ہوئی تو وفات پا گئی ۔جس کی وجہ سے میرے دل پر بڑا صدمہ ہوا ۔
جب شعبان کی 15ویں رات آئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی ہے اور ایک بڑا اژدھا اپنا منہ کھولے ہوئے میرے پیچھے لگ گیا ۔ میں نے بھاگنا شروع کر دیا ۔مجھے ایک نیک بزرگ نظر آیا ۔میں نے اسے کہا کہ مجھے اس سانپ سے بچاؤ خدا تمہیں بچائے ۔
تو اس نے رو کر کہا کہ میں ضعیف و کمزور ہوں تمہیں نہیں بچا سکتا ۔لیکن تم آگے جاؤ شاید اللہ تعالیٰ تیری نجات کا کوئی ذریعہ بنا دے ۔
میں بھاگا اور ایک آگ کے پاس گیا تو آواز آئی ۔واپس جاؤ ۔میں پیچھے واپس ہوا ۔مگر سانپ میرے پیچھے لگا ہوا تھا ۔میں پھر اس بزرگ کے پاس سے گزرا اور اس سے پناہ مانگی ۔اس نے کہا کہ میں کمزور ہوں تیری مدد نہیں کر سکتا ۔البتہ تو اس پہاڑ کی طرف چلا جا اس میں مسلمانوں کی امانتیں ہیں ۔اگر تیری بھی کوئی امانت ہوئی تو وہ تیری مدد کرے گی ۔
جب میں پہاڑ کے قریب پہنچا تو ایک فرشتہ نے آواز دی کہ دروازہ کھول دو شاید اس کی تمہارے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو دشمن سے پناہ دے گی ۔جب دروازہ کھل گیا تو اچانک مجھے بچی نظر آئی ۔جس نے اپنے دائیں ہاتھ سے مجھے پکڑا اور بائیں ہاتھ سے ازدھا کو دفع کیا ۔تو وہ سانپ بھاگ گیا ۔پھر بچی نے کہا ابا جان! ’’کیا ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ تو توبہ کر ے ۔‘‘میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تو قرآن شریف جانتی ہے ؟ اس نے کہا ہاں! میں نے اس سانپ کے متعلق پوچھا ۔تو بچی نے کہا کہ وہ تیرا عمل بد تھا اور وہ بزرگ تیرا نیک عمل تھا ۔مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں گھبرا تے ہوئے بیدار ہوا تو میں نے مکمل طور پر توبہ کی ۔(نزہۃ المجالس جلد اول 132)
اللہ تعالیٰ ہمیں شب برأت میں اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی توفیق دے ۔آمین

یہ بھی پڑھیں  ملائیشیا نے گمشدہ طیارے کا بلیک باکس ملنے کی تصدیق کر دی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker