شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / عطائیت، ڈنڈا اورمحکمہ صحت کی بدتری

عطائیت، ڈنڈا اورمحکمہ صحت کی بدتری

دنیا بھر کے مہذب،اچھے اور بہترین نظام معاشرت میں سب سے زیادہ توجہ شعبہ تعلیم اورصحت پر ہی دی جاتی ہے،پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے آئین کے تحت یہاں ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اسے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات بہترین انداز میں میسر ہوں،مگر جتنی لاپرواہی،کوتاہی،پسماندگی اور درماندگی اس شعبہ جات میں ہے کہیں اور نہیں عالمی سٹینڈرڈ سے کہیں کم رقم ان دو شعبہ جات کے لئے مختص کی جاتی ہے بجٹ ہی کم ہو تب کسی بہتری کی امید کیسے؟جیسے شعبہ تعلیم میں کئی نظام ہائے تعلیم نے روانی سے ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،اسی طرح محکمہ صحت کی خود اپنی صحت خطرناک حد تک خراب اور عوام کی تکلیف کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے،الراقم کا تعلق بنیادی طور پر چونکہ پنجاب کے دیہی علاقہ سے ہونے پربخوبی علم ہے کہ عوام کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ کیا جاتا ہے،پنجاب کی مجموعی آبادی پاکستان کی نصف آبادی کے لگ بھگ جن میں سے اکثریت کا تعلق رورل ایریاز سے ہے،چند بڑے شہروں کے علاوہ اکثر اضلاع میں صرف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوراٹر ہی بڑے طبی مراکز اور پنجاب کی146 تحصیلوں میں THQs قائم ہیں،پنجاب بھر میں 293RHCاور2456BHUہے،50ہزار کے قریب میل و فی میل ڈاکٹرز6لاکھ دیہی آبادی کے لئے کافی ہیں؟کئی بنیادی ہیلتھ سنٹر گردو نواح کی آبادی سے عمومی طور پر کم از کم 10کلومیٹر دوری پر بھی قائم ہیں،محکمہ ہیلتھ کو بہتر بنانے کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی حاضری کو یقینی بنانے کی وجہ سے بائیو میٹرک سسٹم جسے ظاہری طور پر تو بہت خوش آئند کہا جا سکتا ہے مگر جب تک انہی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کی کمی،ادویات کی فراہمی میں پیچیدگیاں یا عدم فراہمی ہوتو پھر وہاں موجود عملہ بھی کیا کرے گا، عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں لوگوں کی مجموعی تعداد پرائیویٹ ہسپتالوں یا دیہات میں بنے عام کلینکس اور میڈیکل سٹور ز کا رخ کرتی ہے وہ سرکاری ہسپتالوں کی طرف منہ ہی نہیں کرتے،سپریم کورٹ نے آئینی طور پر عطائیت کے خاتمے پر فیصلہ دیا،پھر کیاتھاہر ضلع،ہر تحصیل میں تعینات ڈرگ انسپکٹرز کی منتھلی بڑھ گئی،پنجاب میں شعبہ صحت کی بہتری اور عطائیت کے خلاف پنجاب ہیلتھ کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا وہاں کے معاملات بھی غضب ناک ہیں،ہتھے چڑھ جانے والے دیہات میں بیٹھ
کر دوائی دینے والوں کے خلاف مقدمات کی بھرماربھاری مقدار میں جرمانہ الگ،الراقم اس بات سے اختلاف نہیں کرتا کہ کسی بھی مریض کو کوالیفائیڈ ڈاکٹر کے پاس ہی جانا چاہئے مگر یہ بھی سوچنا ہو گا کہ کیا ہم نے آبادی کے لحاظ سے طبی عملہ اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنا دیا ہے؟یہاں شرفاء مجرمان ہو کر بھی دنیا کی بہترین طبی سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں مگر ایک عام آدمی کا کیا قصور ہے؟حیرت تو یہ بھی ہے کہ لاہور اور وفاقی دارلحکومت میں قائم سرکاری ہسپتال بھی اشرافیہ کے معیار پر پورا نہیں اترتے،آئے روز کسی نہ کسی بڑی عدالت میں بڑے لوگ علاج کی غرض سے بیرون ملک سفر کی اجازت مانگ رہے ہوتے ہیں اکثر کو اجازت مل بھی جاتی ہے،جو عام لوگ جیلوں میں جل سڑ مر رہے ہیں،عام عوام صحت کے لئے بلکتی پھر رہی ہے وہ کدھر جائیں؟کسی بھی شہر میں چلے جائیں آپ کو ہر جگہ نشہ آور ٹیکوں سے ڈسے افراد کثیر تعداد میں ملیں گے،ایسے ٹیکوں کی فراہمی روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟کبھی ایسے ذمہ داران کو کوئی سزا ملی جو ایسے ٹیکوں کی روک تھام مارکیٹ سے نہیں کر سکے؟تب ان کے اختیارات کس جہنم میں چلے جاتے ہیں؟ ایسی روک تھام کے لئے کس اہل ضمیر آفیسر نے بے ضمیروں کو گرفت میں لانا ہے؟اس گھناؤنی اور کمینی حرکت کے اصل ذمہ داران کون ہیں؟انہیں صرف دیہات میں چند وہی لوگ نظر آتے ہیں جن سے عام آدمی کوئی گولی ٹیکہ لینے کی استطاعت رکھتے ہیں؟گذشتہ دنوں ایک دور افتادہ گاؤں میں رات گذارنے کا اتفاق ہواوہاں تک راستہ اس قابل بھی نہیں تھا کہ کار ہی آجا سکتی، اسی رات گاؤں کی ایک شخص کی طبیعت بگڑ گئی جسے قریبی ہسپتال (بنیادی مرکز صحت) جو کم از کم 8کلومیٹر دور تھا لے جانے سے پہلے سواری تلاش کرنے میں 45منٹ لگے، 200روپے کرایہ طے کرکے موٹر سائیکل رکشہ منگوایا گیا،کوئی تین گھنٹے بعد مریض کو قدرے بہتر حالت میں واپس لایا گیا،ماجرا سنا توپتا چلا کہBHUمیں ڈسپنسر تک بھی نہیں تھا وہاں کے چوکیدار نے دوائی دی اور واپسی پر انہیں نامعلوم ڈاکوؤں نے ان سیچار ہزار روپے اور موبائل فون چھین لئے، یہ بھی معلوم ہوا کہ اسی گاؤں میں ایک نوجوان نے ڈسپنسر کا کورس کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کے ایک بڑے ڈاکٹر کے پاس تین سال تک کام سیکھ رکھا اوراس نے یہاں چھوٹا سا کلینک بنا رکھا تھا،منتھلی نہ دی اسی گناہ میں ضلعی ذمہ داران کی رپورٹ پر ہیلتھ کمیشن والے وہاں آن پہنچے،دکان سیل اور وہ گرفتارکئی دن بعد ضمانت اورایک لاکھ جرمانہ ادا کرنے کے بعداس کی خلاصی ہوئی،اسی ڈر کی وجہ سے اس نے مریض کو دائی دینے سے انکار کر دیا تھا،اگر وہ دوائی اسے دے دیتا توتین گھنٹے کی تگ و دو،200روپے کرایہ اور کچی،تنگ اور ویران راستے پر وہ رات گئے لٹنے سے بھی بچ جاتے،عدالتوں کا حکم سر آنکھوں پر،مگر عوام رل گئی ہے،ذلالت کی ان کے مقدر میں پہلے ہی بہت فراوانی تھی جس میں کئی گنا مزید اضافہ ہو چکا ہے،اس واقعہ پر دل بہت دکھی ہوا کہ ہم کس نظام میں پل اور جی رہے ہیں؟ہمارا کبھی کوئی پرسان حال ہو گا بھی کہ نہیں؟ہماری بہتری کے خواب کی تعبیر ہماری کون سی نسل دیکھے گی؟آئین اور قانون تو بہت کچھ کہتا ہے صرف دور دراز دیہات وغیرہ میں تعلیم یافتہ نوجوان ہی زیر عتاب کیوں؟ چلو انہیں کام نہ کرنے دیا جائے مگر باقی ذمہ داریاں کس نے اور کیسے پوری کرنی ہیں؟موجودہ حکومت پہلی حکومت کی طرح تین سالہ مدت کے ہیلتھ کارڈ تقسیم کرنے میں مصروف ہے مگر یہاں ہمارا موضوع یہ نہیں کسی سیریس مریض کا علاج تو ہونا ہی کسی بڑے ہسپتال میں جو روزانہ کی بنیاد پر کیمیکل سے بنا دودھ پیتے ہیں،مردہ اور مضر صحت گوشت کھاتے ہیں،پینے کو صاف پانی میسر نہیں،کسی نجی کلینک جو ہر سرکاری ڈاکٹر کا ہے پر علاج ان کی دسترس سے باہر،ماحول کی آلودگی نے انہیں نیم مردہ لوگ کہاں جائیں؟ کسے اپنا دکھڑا سنائیں؟ سنائیں بھی تو ان کی تکالیف کا مداوا کون کرے گا؟ یہاں تو کئی دہائیاں گذر گئیں تاحال عوام کو علاج کی سہولت میسر کرنے کے دعوؤں کے سوا کچھ نہیں ہوا،پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر ریاسمین راشدہ ایک نیک اور درد دل رکھنے والی عوامی نمائندہ ہیں یہاں جتنا بگاڑ ہے اسے درست کرنا ان کے بس کی بات نہیں لگتا،پنجاب کیا وفاق سمیت ہر صوبہ کی گورنس کسی مذاق سے کم نہیں، ایسی گورنس عوام کی بہتری کے لئے نہیں بلکہ مزید انہیں دلدل میں دھکیلنے کے لئے تو یقیناً بہتر ثابت ہو سکتی ہے اور بہتر ثابت ہو بھی رہی ہے،محکمہ صحت پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے جتنا زور دیہات میں بیٹھے کم از کم کوالیفائیڈ ڈسپنسرز پر ہے اتنا زور محکمہ کو ٹھیک اور درست کرنے پر لگائیں اسی میں عوام کی بہتری ہے۔

یہ بھی پڑھیں  نومبر تک عام انتخابات کرائے جائیں، قاضی حسین احمدکا مطالبہ

What is your opinion on this news?