ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

بے روزگاری، مہنگائی اور مزدور کی بے بسی

بے روزگاری تقریبا تمام ممالک کا مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ہر معشیت میں کسی نہ کسی طور پر بیروزگاری کے حالات پائے جاتے ہیں ۔ بے روزگاری کے مسئلے میں زیادہ شدید صورت اس وقت اختیار کی جبکہ 1930 ؁ء کے عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے پوری دنیا اس کا شکار ہو گئی۔ ان دنوں میں صرف امریکہ میں کروڑوں آدمی بے روزگار ہو گئے۔ اسی طرح پوری دنیا غربت اور بے روزگاری کے جال میں پھنس گئی۔ بے روزگاری بھی مختلف قسم کی ہوتی ہیں مثلا بناوٹی بے روزگاری میں اگر ملک میں افرادی قوت کے مقابلے میں سرمائے کی کمی ہو اس ملک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے مطابق سرمائے میں اضافہ نہیں ہوتا۔ یوں بہت سے افراد بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دوسری موسمی بے روز گاری جو کارخانے موسم کے لحاظ سے چلتے ہیں یعنی برف اور شوگر ملز وغیرہ ان کے افراد بھی بعد میں بے روز گاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر جدید تکنیک کی بے روز گاری ہے۔ یعنی بعض اوقات صنعتی ترقی بھی بے روزگاری کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کپڑے کی صنعت میں پاور لومنر کا استعمال شروع ہوا تو دستی کھڈی کے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ۔ یوں موجودہ جدید دور میں آٹومیٹک مشینوں کے استعمال سے بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بے روز گاری شدید ترین مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جس کی بڑی وجہ وسائل کا غیر پیداواری کاموں میں استعمال ہے۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ پاکستان میں کسی چیز کی کمی ہے جو بیروزگاری میں دن دگنی رات چگنی ترقی ہو رہی ہے۔ قدرت نے ہمیں قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ اب ان کاصحیح استعمال کرنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ چاہیں تو اپنی زمین سے سونا اگوا سکتے ہیں۔
بنیادی طور پر پاکستان زرعی ملک ہے۔ مگر افسوس اسی شعبے میں بیس سے پچیس فیصد بے روزگاری جنم لیتی ہے۔ کیونکہ کم زمین پر زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔ یوں بظاہر وہ لوگ کام تو کرتے ہیں مگر بے کار ہوتے ہیں۔ کیونکہ چار ایکڑ زمین پر دو آدمی بھی کام کر سکتے ہیں۔ جہاں چار آدمی مصروف ہیں یوں دو آدمی مخفی بے روز گاری کا شکار ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی جو کاشتکاری میں استعمال ہو رہی ہے۔ مثلا گندم کاٹنے والی مشین وغیرہ جسکی وجہ سے لاکھوں غریب بے روزگاری کا شکار ہوتے ہیں۔ اب ہر عام آدمی بھی بے روز گاری سے وقف ہے فیکٹریوں میں جدید مشینری کے استعمال سے آدمیوں کی ضرورت کم اور مشینری کی زیادہ مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔
یوں ہنر مند آدمی بھی بے روز گار ی کے چنگل میں پھنس گیا ہے۔ پڑھے لکھے افراد ہاتھوں میں ڈیگریاں اٹھائے سڑکوں پر خاک چھان رہیں ہیں مگر رشوت دینے کے لیے جیب گرم نہیں، سفارش کے لیے تعلقات نہیں ۔یوں مہنگائی کے دور میں تعلیم اور ہنر کی بھی قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔
پرائیویٹ شعبوں میں بھی رشوت پہلے لی جاتی ہے جب جا کر 8000سے10000کی نوکری ہاتھ آتی ہے۔ یہاں بھی تعلیم میں گریڈ دیکھے جاتے ہیں مگر تنخواہ میں 7500سے 8000تک واجبات ادا کرنے کے بعد بچتے ہیں اور یوں ایک انمول نعمت ہاتھ آتی ہے۔ اب یہ 8000میں سے ایک فرد بجلی کا بل 4000اور گیس کا بل 1000روپے ادا کرے تو وہکیسے باقی پورا مہینہ پیٹ کا دوزخ کو بھرے؟ اسکے باوجود اسی پرائیویٹ ادارے میں کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ وجہ صرف بے روزگاری ہے اگر وہ یہ بھی چھوڑ دیں تو اس مہنگائی کے دور میں ضروریات زندگی کیسے پوری کریں ۔
اور دوسری طرف سرکاری شعبہ جات، ان شعبوں میں نوکری تو ایک عام آ دمی کے خواب و خیال سے بھی باہر ہے کیوں کہ یہاں سب سے زیادہ رشوت سفارش اور بے ایمانی کام آتی ہے وہ آدمی جس کے پاس سرمایہ ہے اور بڑی سے بڑی سفارش ہوتو نوکری ان کے لیے پہلے ہی مقرر کر دی جاتی ہیں خواہ ان میں قابلیت ہے یا نہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد صرف برائے نام اخبارات اور اشتہارات میں نوکری کے اشتہارات دیے جاتے ہیں ۔
بے روز گاری کئی معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔جو لوگ جو حالات سے گھبرائے ہوئے اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر غیر قانونی کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے دہشت گردی اور بے راہ روی جنم لیتی ہیں ۔ شایداسلئے کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی انسان پیدائشی مجرم نہیں ہوتا بلکہ حالات اور معاشرہ اس کی افزائش کے ذمے دار ہوتے ہیں ۔
پاکستان میں بے روزگاری کی بڑی وجہ انتظامیہ کی نا اہلی ہے کیوں کہ جس ملک کی زمین اتنی زرخیز ہو اور معدنیات موجود ہونے کے ساتھ ساتھ قومی آمدنی بھی معقول ہو وہاں روز گار کے مواقع پیدا کرنے کوئی مشکل نہیں ہوتے ضرورت صرف موثر منصوبہ بندی اور منظم طریقہ کار کی ہے۔ قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے یعنی بجلی جس میں تقریبا ایک عرب روپیہ اور موبائل فون کے بیلنس پر ہی صرف ایک دن کا ٹیکس عربوں روپے بن جاتا ہے اسکے علاوہ دیگر شعبوں سے بھی ٹیکس حاصل کئے جاتے ہیں اگر ان کا استعمال صحیح ہو جائے تو اس ملک میں بے روز گاری تو ایک طرف معاشرے میں غربت کا نام بھی غائب ہو جائے۔ لیکن افسوس ہمارے قومی خزانے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ان میں جو بھی ڈالا جائے اضافے کی بجائے کمی ہی محسوس ہوتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بین الااقوامی قرضے اٹھائے جاتے ہیں جن کا بوجھ بھی عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ کبھی ٹیکسوں میں اضافہ کر کے تو کبھی مہنگائی کے نام پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ۔ ان تمام خساروں کو پورا کرنے کے لیے ہماری حکومت قرضوں پر انحصار کرتی ہے پاکستان میں پہلی بار قرضہ 1950 ؁ء میں 57ملین ڈالر سالانہ کے حساب سے لیا جبکہ 1958 ؁ء کو یہ قرضے حاصل کئے گئے یوں آج تک یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے۔ مگر ہمارے شاندار حکمرانوں کے کارنامے دیکھ کر غیر ممالک نے بھی قرضوں سے انکاری کے لیے ٹھوس وجہ تلاش کر لی ہے۔ یوں آج پاکستان صرف ناکامی اور بے روزگاری کے علاوہ معاشی پسماندگی کا بھی شکار ہے۔ کیا اس ملک میں ایسا ایک بھی شخص نہیں بچا جو فخر سے سر اٹھا کر کہہ سکے ابھی کچھ نہیں بگڑا میں اس ملک کو سنواروں گا؟ کیا کوئی امید کی کرن باقی نہیں؟ ہمارے سارے حکمران صرف تماشا دیکھنے اور اپنے لیے سوچ رکھتے ہیں؟ کوئی شخص بھی نہیں جو اس سر زمین پاک کی خاطر کچھ کرے؟ اگر ہے تو سامنے آئے ملک کو اس وقت بہت ضرورت ہے سچے جذبے، مخلص رویے اور سچی لگن کی ۔جس کا مقصد صرف ملک کی بھلائی اور ترقی ہو اور ملک کو بے روزگاری کے اندھیروں سے نکال کر روزگار کے راہ پر ڈالناہو۔ جو اپنے بارے میں بعد میں سوچے پہلے ملک کے بارے میں سوچے

یہ بھی پڑھیں  انتہائےِ بے حسی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker