پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

محبت اور اخوت کا رشتہ

اُس مختارِ کُل نے اِس اشرف المخلوقات ، مسجودِ ملائک کو اپنی نیابت سونپ کر دُنیا میں اختلاف کا حق دے کر بھیجا اورساتھ ہی مہلت بھی مقرر کر دی ۔یہ مہلت اُس وقت تک تمام نہیں ہوتی جب تک کہ آنکھ کی پُتلی نہ پھر جائے۔ یہی آئینِ خُداوندی ہے جو ازل سے جاری ہے اورتا ابد جاری رہے گا ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو روزِ ازل ابلیس کو اختلاف کی اجازت ملتی نہ فرعون ، شداداور نمرود کو ایک لحظے کی مہلت۔جب اُس تخلیق کار نے تو ہر انسان کو اختلاف کا حق دے کر بھیجا تو پھر ہمیں اپنے افکار ، نظریات اور تصورات بزورِ بازو دوسروں پر ٹھونسنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ انتہائی تکلیف دہ امر تو یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام (خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں) اِس حقِ نا حقِ کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ جب سبھی کا اللہ ، رسولؐ اور قُرآن ایک ، پھر پتہ نہیں کیوں ہم نے اپنے آپ کو فرقوں اور گروہوں میں بانٹ لیا اور وہ کہ جنہوں نے اخوت و محبت اور رواداری کا درس دینا تھا ، وہی نفرت ، منافرت اور جبر و تشدد کادرس دیتے نظر آتے ہیں۔دینِ مبیں ہمیں اختلافِ رائے کا حق تو دیتا ہے لیکن کسی کی گردن کاٹنے کا ہر گز نہیں۔یہ نہ تو قُرآن و حدیث میں لکھا ہے اور نہ ہی فقہ کی کسی کتاب میں کہ اگر دینی معاملے پر کوئی دینی بھائی آپ سے اختلاف کرتا ہے تو اُسے کافر کہنا یا قتل کرنا جائزہے البتہ حکمت کی کتاب یہ ضرور کہتی ہے کہ جس نے بِلا وجہ کسی ایک شخص کا قتل کر دیا اُس نے گویا پوری خدائی کو قتل کر دیا۔ہم تو عامی ہیں اور ہمارا دینی علم واجبی لیکن ہمارے علمائے کرام تو ماشاء اللہ بحرِ علمِ دیں کے شناور ہیں ۔کیا و ہ نہیں جانتے کہ شرک ، زنا اور خونِ ناحق ربّ کے ہاں ایسے کبیرہ گناہ ہیں جن کی معافی نہیں۔ پھر یہ شیعہ سُنی فسادات کیوں، فرقہ واریت کے دہکتے الاؤ کیوں؟۔پھر یہ مخمصہ کیوں کہ فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھنے والوں میں سے کسے شہید کہا جائے ؟۔شیعہ کو یا سُنّی کو؟۔
جوں جوں یومِ عاشور قریب آتا جا رہا ہے ، خوف کی چادر تنتی چلی جا رہی ہے اور اندیشوں کے سنپولیے سرسرانے لگے ہیں۔اُدھر حاکمانِ وقت کے نِت نئے بیانات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پوری قوم پر اَن دیکھی ، اَن جانی جنگ مسلّط کر دی گئی ہواور بد نصیبی کی انتہا یہ ہے کہ اِس جنگ کے متحارب گروہوں کے سالار عُلماء کرام ہی ہیں حالانکہ اگر احکاماتِ الٰہی کو مدِّ نظر رکھا جائے تو تمام فرقے اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے بھی باہمی احترام ، محبت اور اخوت کا رشتہ استوار رکھ سکتے ہیں۔
بصد ادب شیعہ حضرات سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا حسینؓ صرف اُنہی کے ہیں ، کسی اور کے نہیں؟۔اگر وہ سبھی کے سانجھے ہیں تو پھر یہ تفریق کیوں؟۔اگر تقلید کی بجائے تحقیق کی جائے توصاف نظر آتا ہے کہ
ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی
بو بکرؓ و عمرؓ ، عثمانؓ و علیؓ
ہم مرتبہ ہیں یارانِ نبیؐ
کچھ فرق نہیں اِن چاروں میں
خُلفائے راشدین کی تاریخ تو اخوت ، محبت اوریگانگت کے ساتھ ہی ساتھ خانوادۂ رسولؐ کے احترام کا درس دیتی بھی نظر آتی ہے لیکن ہم نے ’’یارانِ نبیؐ ‘‘ میں خالصتاََذاتی تفریق و تقسیم سے اتنی دوریاں پیدا کر دی ہیں جو مٹائے نہیں مٹتیں۔ایک دفعہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے بیٹے اور حضرت حسینؓ کھیل رہے تھے۔کھیل کے دوران اُن کا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تو حضرت امام حسینؓ نے کہا ’’ہٹ غلام زادے‘‘ ۔حضرت عمرؓ کا بیٹا بسورتا ہوا اپنے باپ کے پاس پہنچا ۔اُس نے شکایت کی کہ حسینؓ نے اُسے غلام زادہ کہا ہے ۔جب امیر المومنین نے یہ سُنا تو فرمایا’’بیٹے بھاگ کے جا اور حسینؓ سے یہ لکھوا لا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا کہا بھول جائیں اورہم اِس سعادت سے محروم رہ جائیں‘‘۔ یہ بھی تاریخ بتلاتی ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے جگر گوشوں ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو عین اُس وقت امیر المومنین حضرت عثمانؓ کی حفاظت پر مامور کیا جب شر پسند اُن کی جان کے درپے تھے ۔ اُس وقت حضرت علیؓ نے اپنے جگر گوشوں کی جان کی ہر گز پرواہ نہیں کی ۔اوریہ بھی اسلامی تاریخ ہی کا حصّہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے متعدد بار برملا یہ کہا کہ اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ تو ہلاک ہی ہو گیا ہوتا۔ لیکن ہم نے اخوت و محبت کے سارے درس بھلا کر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کو ہی خدمتِ دیں سمجھ لیا ہے۔کیا خونِ حسینؓ سے رنگین کربلا کی مٹی کا یہی درس ہے؟۔ہمیں تو بچپن سے بزرگوں نے یہی درس دیا اور اساتذہ نے یہی سکھایا کہ
قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
لیکن ہم تو ہر سال اپنوں کو ذبح کرکے کربلا کی یادیں تازہ کرتے اوراسلام کو’’ زندہ‘‘ کرتے رہتے ہیں ۔سوال مگر یہ ہے کہ تب تو حسینیت کے مقابل یزیدیت تھی لیکن اب؟۔۔۔اب توہرجانب حسینیت ہی حسینیت ہے۔ کون بد بخت ہے جو خانوادۂ رسولؐ سے پیار نہیں کرتا اور کون مردودایسا ہے جو یزیدکو لعین نہیں کہتا یا اُس سے نفرت کا کھُلم کھلا اظہار نہیں کرتا؟۔جب اِس سانحۂ عظیم پر ہرچشمِ مسلم اشکبارہے تو پھر جھگڑا کاہے کا ؟۔پھر یہ کس کا اسلام ہے جو صرف اپنوں کا خون بہا کر ہی زندہ ہوتا ہے؟۔
حضرت امام حسینؓ نے طاغوت کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ یہ جنگ کسی صورت میں بھی نہیں جیت سکتے ، اُنہوں نے نانا کے دین کی سرفرازی کے لیے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پورے خاندان کی شہادت قبول کر لی لیکن فسق و فجورکے آگے جھُکنا گوارا نہ کیا۔لا ریب کہ حسینؓ نے اپنی جان اُمتِ مسلمہ کو جوڑنے کے لیے دی تھی توڑنے کے لیے نہیں۔یہ تو ہم ہی ہیں جو خونِ حسینؓ کی خُوشبو کو پہچان نہ سکے اور نہ یہ جان پائے کہ درسِ کربلا کی اصل روح کیا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سبھی مسلمان مل کریومِ حسینؓ مناتے ، خواہ اپنے اپنے طریقے سے ہی مناتے اور وہی جذبہ خُلفائے راشدین کے دن مناتے وقت بھی نظر آتا لیکن ایساہوا نہیں اور نہ ہی ایسا ہوتا نظر آ رہا ہے جو لائقِ تحسین تو خیر کیا ہو گا البتہ جگ ہنسائی کا باعث ضرور ہے اور دیگر ادیانِ عالم کے طنز و تعریض کا سبب بھی ۔
یاد رکھیے کہ دین میں کوئی جبر نہیں اورہر شخص کے اعمال و افعال کا حساب لینے والی صرف ایک ہی ہستی ہے جس نے کسی فانی انسان کو فیصلے کاہر گز یہ حق نہیں دیا ۔ یہ فیصلہ بھی اُسی علیم و خبیر نے کرنا ہے کسی شیعہ یا سُنّی نے نہیں۔اُنہیں اگر حق ہے تو صرف اتنا کہ وہ محبت اور اخوت کے رشتے کو بر قراررکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کر سکیں اور ب

یہ بھی پڑھیں  ہم نے ہر قسم کے اختلافات بھلا کر عمران خان کے مشن کو کامیاب کرانا ہے ،عطا اللہ عیسیٰ خیلوی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker