تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

کوئٹہ میں گورنرراج ،حکمرانوں کےنزدیک میرے مُلک میں اِنسانی خون اورپانی برابرہیں.

Azam Azim Azamگزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ہزارہ کمیونٹی سمیت سیکڑوں نہتے اِنسانوں کی شہادت اور اِن کاخون پانی کی طرح بہہ جانے کے بعد بالآخر آج کوئٹہ میں گورنرراج نافذکردیاگیاہے اِس پر میراخیال یہ ہے کہ اِس حکومتی اقدام کی اصل وجہ ہزارہ کمیونٹی کی پانچ دن تک اپنے86 پیاروں کی لاشوں کے ساتھ علمدرار روڈکوئٹہ میں سخت سرد ی اور بارش میں دیاجانے والاوہ دھرناہے جس نے حکومت کو بلوچستان کے حالات پر سوچنے اور سنجیدگی سے کوئی قدم اُؔ ٹھانے پر مجبورکیا اور یوں بلوچستان میں گورنرراج کا نفاذممکن ہوایہ اِن کی اِس جدوجہد اور محنت کا ہی ثمر ہے جس کے نتیجے میں اِنہیں اپنے مقصدمیں کامیابی حاصل ہوئی اور اِسی کے ساتھ ہی یہاں میں یہ بھی کہناچاہوں گاکہ اگر حکومت کی جانب سے یہ اقدام بہت پہلے کرلیاجاتا تو ممکن ہے کہ بلوچستان کے حالات اِس نہج پر کبھی نہ پہنچتے جہاں ابھی پہنچ چکے ہیں مگر میں پھر بھی یہ کہوں گاکہ دیرآیددرست آیداِس حکومتی اقدام سے قبل سانحہ کوئٹہ کے خلاف بلوچستان میں شٹرڈاؤن ہوا ،کوئٹہ میں 86لاشوں کے ساتھ دھرناپانچویں روز میں داخل ہوااور مجلس وحدت مسلمین ، شیعہ علماکونسل و دیگر تنظیموں کی جانب سے کراچی ، حیدرآباد سمیت پشاور، فیصل آباد، سکھر ، بدین سمیت ملک میں بھی احتجاج و ہڑتال اورسوگ، مظاہرے اور دھرنے کا سلسلہ جاری رہاجس سے ملک کا نظام دھرم بھرم ہوکررہ گیاتھابالآخراتنے دن گزرجانے کے بعد ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جوں رینگ گئی اور حکومتی مشینری حرکت میں آئی اور دھرنیوں کے مطالبات کو مان لیاگیا۔
اگرچہ اپنے کچھ اتحادیوں کی شدیدمخالفت کے بعد ہمارے منفردالمقام وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے علمدارروڈ پر 86لاشوں سمیت13جنوری کو چار دنوں سے دھرنادینے والے ارکان سے ملاقات کی اور اِس دوران اُنہوں نے دھرنیوں کو بتایاکہ وفاقی حکومت نے کوئٹہ کے حالات سے پیداہونے والی صورت حال کے حوالے سے دن بھر اجلاسوں اور مشاورت کے بعد اپنے کلیجے پر چھری چلا دی ہے اوربلوچستان حکومت کو برطرف کردیاہے اور اعلان کیا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان بھر میں آرٹیکل 234کے تحت دوماہ کے لئے کوئٹہ میں گورنر راج نافذکردیاہے اِس موقع پر وزیراعظم نے کو ئٹہ میں دھرنے کے شرکا سے اظہارتعزیت اور ہزارہ برادری کے خلاف مقدمات بھی واپس لینے کا اعلان بھی کیا یہ ٹھیک ہے کہ وزیراعظم کے اِس حکم کے تحت کورکمانڈرایف سی کی کارروائیوں کی براہ راسست نگرانی کریں گے،آئندہ صوبے کے حالات کے پیش نظرانتظامیہ فی الفور فوج طلب کرسکے گی اِسی طرح اپنے اِس اقدام کے حوالے سے وزیراعظم کا کہناتھا کہ نوٹیفکیشن جاری کردیاگیاہے۔
جبکہ اِس موقع پر ہزارہ کمیونٹی کے دھرنیوں کا مطالبہ تھاکہ اَب ہم میں اپنے پیاروں کی لا شیں اٹھانے کی ہمت نہیں ہے اِن کا کہناتھاکہ کم ازکم جس قدر جلد ممکن ہوسکے ہماری جان اور مال کی حفاظت کے لئے فوج تعینا ت کی جائے جس پر ہمارے وزیراعظم نے اپنے مخصوص لب و لہجے میں دھرنیوں کو سمجھاتے ہوئے کہاکہ ہمارے اِس اقدام کے تحت آئین کے مطابق انتظامیہ جب چاہئے گی اپنی مدد کے لئے فوج کو طلب کرسکے کی جس پر دھرنیوں نے وزیراعظم کو بھی اِس بات کا یقین دلایاکہ جیسے ہی ہم آپ کا جاری کردہ نوٹیفیکشن دیکھ لیں گے تو ترنت دھرناختم کردیں گے اور پھر ایساہی ہوا جیسادونوں جانب سے وعدہ کیاگیاتھا۔
اُدھر دوسری جانب حکومت کے اِس اقدام پر حکومتی اتحادی میں شامل ایک مذہبی جماعت جمیعت علمائے اسلام(ف) اور اِس کے سربراہ مولانافضل الرحمن جو بسااوقات اپنی ضرورت سے زیادہ دانش سے آگے نکل کر سوچنے اور بہت کچھ کرنے کے عادی ہیں اُنہوں نے بلوچستان میں گورنرراج کے نفاذ اور فوج بلانے کی مخالفت کرتے ہوئے اپنا یہ موقف اختیار کیاکہ ہم کسی بھی صورت میں بلوچستان میں فوج بلانے ، ایمرجنسی لگانے اور گورنرراج لگانے کے حق میں قطعاََ نہیں ہیں اِن کے نزدیک کوئٹہ میں انسانی خون کو پانی کی طرح بہائے جانے والے واقعات سے کہیں زیادہ مقدم جمہوریت اور جمہوری روایات کی پاسداری ہے جس کی وجہ سے اُنہوں نے کہاکہ بلوچستان میں لائی جانے والی کسی غیر آئینی اور غیرقانونی تبدیلی کی ہم حمایت نہیں کریں گے اِن کہناتھا کہ اگربلوچستان میں تبدیلی لانی ہے تواِن ہاؤس تبدیلی لائی جائے تو اِس پر غورضرورکیاجاسکتاہے ۔میرے نزدیک اگرحکومت اِن کی اِس رائے پر عمل کرتی تو اِس کے لئے کئی دن لگ سکتے تھے اور جب تک حالات اور بگڑنے کے اندیشہ قائم رہتامگر وہ تو اچھاہواکہ اِن کی نہیں چلی۔
مگریہاں یہ امر حوصلہ افزاء ہے کہ ایک جمہوری حکومت کا بھرپور فائدہ اُ ٹھاتے اور اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے صدر آصف علی زرادی اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے بعد بلوچستان میں گورنرراج کے نفاذ کا جو فیصلہ کیا ہے بلوچستان کے اِن حالات میں اِن کے اِس اقدام کی ہر محب وطن پاکستانی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتاہے اور جس کے لئے ساری پاکستانی قوم متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قائد الطاف حُسین اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر سینیٹرچوہدری شجاعت حُسین کی ضرور مشکور ہے کہ اِنہوں نے کوئٹہ کے موجودہ حالات پر صدر اور وزیراعظم کو اپنی تجاویز دیں کہ بلوچستان میں گورنرراج نافذکریں اور وزیراعلی اسلم رئیسانی فوراََ ملک واپس آئیں اور مستعفی ہوجائیں کیوں کہ بلوچستان کے حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے فوج ناگزیرہوچکی ہے جس پر صدر اور وزیراعظم نے لبیک کہااور بلوچستان میں فی الفورگورنرراج نافذکرنے کا اعلان کردیاگیا۔

یہ بھی پڑھیں  احتساب عدالت کا حسن، حسین نواز کی جائیداد قرق کرنےکا حکم

اَب اِس سارے حالات اور اِس منظر اور پس منظر کے حوالے سے میں اپنے دل کی ایک بات کہتاچلوں کہ اکثرمجھے اپنے ملک کے حاکموں کی نااہلی کی بنا پر عوامی مسائل اور اِن کے بروقت حل کے معاملے میں حکمرانوں کی روارکھی جانے والی بے حسی اور اِسی بے حسی اور لاپرواہی کی وجہ سے ملک کے طول و ارض میں پھیلی ہوئی اِن کی بدانتظامی اور پھر اِسی بدنظمی کی بنیاد پر ہونے والے عوامی احتجاجوں ، دھرنوں اورلانگ مارچ سے پیداہونے والی صورتِ حال اور اِس کے بعد پھر حکمرانوں اور اداروں کی جانب سے کئے جانے والے جزوقتی اقدامات اور انتظامات پر خلیل جبران کا یہ قول یاد آجاتاہے ’’قابل رحم ہے وہ قوم جس کی آواز ماتمی جلوس کے سواکبھی سُنائی نہ دے، جو اپنے کھنڈروں پر فخرکرتی ہو اور صرف اُس وقت سنبھلنے اور اُبھرنے کی کوشش کر ے جب اس کا سرتن سے جداکرنے کے لئے تلوار اور لکڑی کے درمیان رکھاجاچکاہو‘‘

یہ بھی پڑھیں  خواجہ سعد رفیق کی نااہلی کیلئے درخواست دائر

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker