تازہ ترینکالم

مجیدنظامی ۔۔۔۔۔۔ایک دیدہ ورشخصیت

تین دسمبر کی دوپہر کی نکھری نکھری دھوپ ،سرسبزوشاداب پیڑوں کی شاخوں پرپرندوں کی چہکار،دورتک پھیلے نیلے آسمان،قطاردرقطار مہکتے سرخ گلاب اوردور تک پھیلی اُجلی ہریالی کانظارہ دیکھ کرمیری روح سیراب ہوگئی،مجھے ان خوش نصیب افراد کی قسمت پرناز ہے جواس فطری ماحول کاایک حصہ ہیں۔لاہورشہر میں شب وروزہونیوالے بے ہنگم شور،ہرطرف اڑنے والی گردوغبار،بلندوبالاعمارتوں اورشاہراؤں کے درمیان پنجاب یونیورسٹی کاسبزہ زار کسی بہشت کی طرح لگتاہے ،ہریالی کے رنگ فطرت کے رنگ ہیں اورہریالی کے بغیر خوشحالی بے معانی اوربے رنگ ہے۔لاہورسمیت پورے ملک کوپیڑوں کی اشدضرورت ہے شجرکاری کے وقت پھل داردرخت لگائے جائیں توان سے آکسیجن اورایندھن کے ساتھ ساتھ ہرموسم کے پھل بھی مل سکتے ہیں اوران کی فروخت سے کافی ریونیوبھی اکٹھا کیا جاسکتا ہے ۔پنجاب یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی اورفروغ کے ساتھ ساتھ وہاں صفائی ستھرائی ،ڈسپلن اورامن وامان برقراررکھنے کاکریڈٹ وی سی ڈاکٹرمجاہدکامران کوجاتا ہے۔تین دسمبر کے دن پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے نظریہ پاکستان کے علمبرداراورقلم قبیلے کے سرخیل جناب مجیدنظامی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کی خوشی میں ایک پروقارظہرانہ دیا گیا ۔ڈاکٹرمجیدنظامی نے جس طرح ہرفوجی اورسول آمر کے دوراقتدارمیں کلمہ حق بلندکیا اوربھارت نواز مداریوں کی مکاریوں اورفنکاریوں کے باوجودنظریہ پاکستان کوفروغ دیا وہ ان کے سواکوئی نہیں کرسکتا تھا۔مجیدنظامی کیلئے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بلاشبہ خودپنجاب یونیورسٹی اورصحافت سے وابستہ ہرفرد کیلئے اعزازاورسرمایہ افتخار ہے۔مجیدنظامی کیلئے ڈاکٹریٹ کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹرمجاہدکامران کا تاریخی اقدام اور ان کے شایان شان پذیرائی مستحسن ہے ۔مجیدنظامی پاکستان کی قدآورشخصیت ہیں اورڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ان کی خدمات کامظہر ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں بڑی شخصیات کاان کی زندگی میں اعتراف نہیں کیاجاتا لہٰذا ڈاکٹرمجاہدکامران نے اس روش پرکاری ضرب لگائی ہے ۔نظریہ پاکستان،تحریک قیام پاکستان اورایٹمی پاکستان کی وکالت کاحق اداکرنے کے ساتھ ساتھ حضرت اقبال ؒ اورحضرت محمدعلی جناح ؒ کے افکارکی ترجمانی کرنے پرڈاکٹرمجیدنظامی کوبابائے پاکستان اوربابائے صحافت کہنا بیجانہیں ہوگا۔سپہ سالار صحافت مجیدنظامی نے ہردورآمریت میں اپنے بے نیام قلم سے جھوٹ اورجبرکاسرقلم کیا ہے،وہ فوجی آمروں کواس وقت للکارتے اورپچھاڑتے رہے ہیں جس وقت ان کی آمریت کاسورج سوانیزے پرہوتا تھا۔زندگی میں کبھی کوئی مصلحت مجیدنظامی کے آڑے نہیں آئی ،وہ تحریک پاکستان کے ممتازرہنما،مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی اور اپنے مرحوم بھائی حمیدنظامی کے جس مقدس مشن کو تنہا لے کرچلے تھے آج وہ ایک تحریک بن چکا ہے جبکہ پاکستان سے بے پناہ عقیدت اورمحبت رکھنے والے افراد اس تحریک اور کارواں میں جوق درجوق شریک ہورہے ہیں اوریہ تحریک دن بدن مزید بڑھتی،پھلتی پھولتی اورتاریخ رقم کرتی چلی جائے گی۔جومجیدنظامی کی طرح نظریہ پاکستان کواپنااوڑھنابچھونابناتے ہیں پھر زندگی بھران کانظریہ ضرورت سے واسطہ نہیں پڑتا۔مجیدنظامی اپنی شخصیت اورخدادادصلاحیت کے اعتبارسے اہل سیاست اوراہل صحافت کیلئے ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔مجیدنظامی ایک دیدہ ور ہیں اور اس پرآشوب عہد میں نظریہ پاکستان کے حامیوں کیلئے ان کادم غنیمت ہے۔
ظہرانہ کی تقریب سعید کے پرخلوص میزبان ڈاکٹرمجاہدکامران اوران کے ہمراہ برادرم اکرم چودھری منتظرتھے جبکہ معزز مہمانوں کی آمدکاسلسلہ جاری تھا ،پنجاب یونیورسٹی کے انتھک وی سی ڈاکٹرمجاہدکامران ، اکرم چودھری،ڈاکٹرشوکت علی،جاویدسمیع ،شمائلہ گل اوربرادرم ایثاررانانے اپنے مخصوص اورخوبصورت اندازمیں قلم قبیلے کی ممتازشخصیات کافرداً فرداًاستقبال کیا۔ ڈاکٹرمجاہدکامران روحانی طورپرواقعی ایک مجاہدہیں اورانہوں نے اپنے علم اورقلم سے جہالت اورجبرواستبدادکیخلاف جہاد شروع کیا ہوا ہے۔انہیں اپنے شعبہ تعلیم میں بلاشبہ جوکامیابی وکامرانی ملی وہ نصیب سے نہیں بلکہ مسلسل محنت ،علم وبصیرت سے ملی ہے۔ڈاکٹرمجاہدکامران نے پنجاب یونیورسٹی کی کایا پلٹ دی ہے ،انہیں پنجاب یونیورسٹی کی باگ ڈورملنے سے پہلے یہ تاریخی مادرعلمی یرغمال اوربدحال تھی مگر انہوں نے اپنے ٹیم ممبر زڈاکٹرشوکت علی ممبرسینڈیکیٹ ،جاویدسمیع ممبر سینڈیکیٹ ،شمائلہ گل ممبر سینڈیکیٹ ،پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرارڈاکٹرخان راس مسعود،ایڈیشنل رجسٹراراورنگ زیب عالمگیراورایڈیشنل رجسٹرار ملک ظہیر کے ہمراہ ٹھوس اوردوررس اقدامات اٹھائے اوراس ادارے کاتشخص اوروقاربحال کر دیا ۔
اس ظہرانہ میں شریک منجھے ہوئے میڈیامنیجرمحمداکرم چودھری جوسیاست میں آنے پر شروع میں کچھ سال عمران خان کی تحریک انصاف کے میڈیا منیجر اورپھر مسلسل کئی برس مسلم لیگ (قائداعظمؒ )پنجاب کے ترجمان اورصوبائی سیکرٹری اطلاعات رہے ہیں،پچھلے دنوں انہیں مسلم لیگ (قائداعظمؒ )کی قیادت اور اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے بعض اقدامات پرتنقیدکرنے کی پاداش میں شوکازنوٹس دیا گیاتھا جس پرانہوں نے اپنا استعفیٰ بجھوادیاجوپچھلے کئی ماہ سے ان کی جیب میں پڑاہواتھا،انہوں نے ”اچھے وقت”میں درست اوردوررس فیصلہ کیا ہے۔چودھری برادران کوسیاسی طورپرچھوڑنے کے بعد اکرم چودھری اداس یاپریشان ہونے کی بجائے بڑے خوش اور اطمینان میں ہیں جس طرح انہیں کسی بھاری بوجھ سے نجات مل گئی ہے۔اکرم چودھری کس جماعت میں جارہے ہیں،یہ سوال آج کل ہرسیاسی تقریب میں لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں اورظہرانہ میں بھی بیشتر لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے مگراس ضمن میں مجھ سمیت کسی کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔مسلم لیگ (ن)،تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی نے اکرم چودھری کواپنے ساتھ آنے کی باضابطہ دعوت دی ہے مگرانہوں نے ابھی اپنے سیاسی مستقبل کاکوئی فیصلہ نہیں کیا ۔مجید نظامی کے اعزازمیں یہ ظہرانہ بھی برادرم اکرم چودھری کے ذوق اورحسن انتظام کاآئینہ دارتھا۔پنجاب یونیورسٹی سمیت اب لاہورمیں میڈیاکی کوئی تقریب اکرم چودھری کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔وہ ایک منجھے ہوئے اورباریک بین سیاستدان ہیں ، اکرم چودھری جس پارٹی میں بھی جائیں گے اس کوتقویت ملے گی۔
پنجاب یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹرمجاہدکامران کی طرف سے مجیدنظامی کے اعزازمیں جو ظہرانہ دیا گیااس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی اوردبنگ جنرل (ر)حمیدگل ،سی پی این ای کے منتخب صدر جمیل اطہر ، ممتازایڈیٹراورکالم نگاررحمت علی رازی،میرے بڑے بھائی دبنگ اوردرویش کالم نگارڈاکٹراجمل نیازی،ایڈیٹر نیشن سلیم بخاری ،،ایڈیٹر دن وکالم نگار میاں حبیب سیاستدان اورکالم نگارحفیظ اللہ خان نیازی،صدائے لاہور کے چیف ایڈیٹرامان اللہ خاں،ایڈیٹر نئی بات وکالم نگارعطاء الرحمن،چیف ایڈیٹرسماء منوراحمد ،ایڈیٹرسماء وکالم نگار عاطف سعیدفاروقی،ایڈیٹرالشرق وکالم نگارفیصل ادریس بٹ،قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر چودھری جعفر اقبال ،ممتازتجزیہ کاراورکالم نگارمحمداکرم چودھری،ممتازکالم نگارسعیدآسی،ممتازصحافی وکالم نگارفرخ سعیدخواجہ،کالم نگارفضل اعوان،ممتازصحافی مزمل سہروردی،منفرداسلوب کے کالم نگاربرادرم ضمیرآفاقی ، مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی میاں مرغوب احمد،ڈاکٹر اسد اشرف،خواجہ عمران نذیر،حافظ نعمان ،رانااقبال خاں،جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ،امیرالعظیم ،پی ٹی آئی کے احسن رشید،پیپلزپارٹی کے نویدچودھری ،ممتازقانون دان خواجہ محموداحمداورڈاکٹرخالدرانجھا،جسٹس (ر)ناصرہ اقبال، جی سی یونیورسٹی لاہور کے وی سی پروفیسر ڈاکٹرخلیق،معروف فنکارشجاعت ہاشمی ،جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے مولانازبیرالبازی اورمولاناعبدالقادرلونی ،پنجاب یونیورسٹی کے منتخب ممبران سینڈیکیٹ ڈاکٹرشوکت علی،جاویدسمیع ،شمائلہ گل،چلڈرن ہسپتال کے شعبہ ای این ٹی کے سپیشلسٹ پروفیسر عارف تارڑاورتجزیہ کارڈاکٹرمجاہدمنصوری سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتازشخصیات شریک تھیں ۔تقریب میں مختلف مقررین نے اپنے اپنے اندازمیں گفتگوکرتے ہوئے جناب مجیدنظامی کی نظریہ پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ اورشعبہ صحافت میں ان کی گرانقدرخدمات کوسراہااورزبردست خراج عقیدت پیش کیا۔جنرل (ر)حمید گل نے مجیدنظامی کوقطبی ستارہ قراردیاجوبھٹکے ہوئے مسافروں کی رہنمائی کرتا ہے ۔
ڈاکٹرمجیدنظامی بلاشبہ پچھلی کئی دہائیوں سے نظریہ پاکستان کی ڈھال اوراہل قلم کیلئے رول ماڈل بنے ہوئے ہیں ،ان کے ہوتے ہوئے نظریہ پاکستان میں زیرزبر کی تبدیلی یااس پرکوئی آنچ نہیں آسکتی ۔کچھ اندرونی اورکچھ بیرونی قوتوں کی طرف سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کوداخلی طورپرکمزورکرنے کیلئے اس کی نظریاتی اساس اورنظریاتی سرحدوں پربار بار حملے کئے جارہے ہیں۔ بابائے قوم ؒ کے حوالے سے متنازعہ باتوں کوجان بوجھ کرہوادی جارہی ہے ۔میراایمان ہے ہمارا نام رکھنے کااختیار بھی جس نے ہماری روح بنائی اس کوہے ہم انسان تومحض نام رکھنے کی ایک رسمی کاروائی کرتے ہیں، لہٰذا ”محمدعلی ”کے مقدس نام نامی والی کوئی شخصیت سیکولرنہیں ہوسکتی اورنہ اس نام سے زیادہ کوئی اورنام معتبر ہوسکتا ہے ۔پاکستان کامعرض وجودمیں آنابلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ایک زندہ معجزہ اورانقلاب ہے اوراس معجزے اورانقلاب کیلئے قدرت نے محمدعلی جناح ؒ کاانتخاب کیا۔ہمارے صوفی شاعر اوردوقومی نظریے کے روح رواں حضرت اقبال ؒ کی جوہرشناس نگاہوں نے محمدعلی جناح ؒ کی پوشیدہ قائدانہ صلاحیت کوبروقت شناخت کرلیا تھا ۔ہمارے ہاں کچھ عقل کے اندھوں کواپنے حقیقی ہیروزاورآزادی کی قدروقیمت کاادراک تک نہیں ہے اوروہ تاریخ اورتحریک پاکستان کی ایمان افرازداستان سے نابلدہیں اوربابائے قوم ؒ کی شان میں ہرزہ سرائی کرتے شرم تک محسوس نہیں کرتے،”جس تھالی میں کھانااسی میں چھیدکرنا”یہ محاورہ ان افرادپرصادق آتا ہے۔پاکستان کے استحکام کیلئے نوجوانوں میں نظریہ پاکستان کی آبیاری ناگزیر ہے اوراس کیلئے نظریہ پاکستان کو پرائمری سکول سے یونیورسٹی تک تعلیمی نصاب کا لازمی مضمون قراردیا جائے ۔پاکستان سمیت دنیا کی کوئی قوم اپنے بنیادی نظریات سے انحراف کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی پڑھیں  درگزکہنے سے معاملہ ختم ہو گیا۔۔۔؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker