تازہ ترینعبدالماجد ملککالم

شہری بابو بمقابلہ ماڈرن پینڈو

سادہ لوح انسان کے لئے اس چالاک اور مکار دنیا میں عزت سے رہنامشکل ہوتا جا رہا ہے اور اپنی سادہ لوحی اور سادگی کی وجہ سے ہر کہیں اسے مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے پھر بھی سادہ لوح انسان دنیا والوں کا مذاق اور شرارتیں ہنس کر سہتا ہوا ٹال دیتا ہے ،دیکھا جائے تو سادہ لوح انساں دیہاتوں میں اور کم آبادی والوں ان علاقوں میں اکثریت سے ہیں جہاں زندگی کی سہولیات اور جدید انداز زندگی نہ ہونے کے برابر ہے ،سادہ انسان کو یہ دنیا بے وقوف سمجھتی ہے حالانکہ وہ پاگل نہیں ہوتا ،البتہ اکثر باتیں انتہائی سادہ زباں میں کہ دیتا ہے جس پر ماڈرن دنیا کی ہنسی نکل جاتی ہے اور اس پر طنز کے تیر برسائے جاتے ہیں پھر بھی وہ ہنستے ہوئے سہتا ہے دراصل سادہ لوح انسانوں میں چالاکیاں نہیں ہوتیں اس لئے وہ محبت کے معاملے میں انتہائی فراخ واقع ہوئے ہیں اور دنیا میں مسکراہٹیں بکھیرتے رہتے ہیں۔
اب ان دیہاتوں میں بھی کچھ ماڈرن لوگ پیدا ہو گئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ دنیا کا ہر فیشن پہلے وہ اپناتے ہیں اس کے بعد باقی دنیا والے ان کی نقل کرتے ہیں اسی طرح ایک شہری بابو سے کسی ایسے ہی ’’ماڈرن پینڈو‘‘ کی ٹھن گئی،اور بات یہاں تک جا پہنچی کہ ’’ماڈرن‘‘کون ہیں؟اس بات کا فیصلہ اگلے ہفتے ہو گا جس میں’ شہر ی ماڈرن بابو‘جدید لباس اور فیشن کے ساتھ’ پینڈو ماڈرن‘ کے گھر جائے گا اور پینڈو ماڈرن اس کا استقبال جدید فیشن اور عمدہ لباس پہن کر کرے گا،فیصلے کی مناسبت سے شہری بابو جدید لباس اور فیشن کے ساتھ دیہاتی کے گھر کی طرف روانہ ہوا،پینڈو کے گھر پہنچنے سے پہلے وہ شہری بابو گرا اور اس کی پینٹ گھٹنے کی جگہ پھٹ گئی وہ کافی پریشان ہوا ،کہ اب کیا ہوگا؟ اسی پریشانی میں اسے ایک ترکیب سوجھی ،اس نے پھٹی ہوئی جگہ پر ایک پودے کاسبز پتا باندھ لیا اور چل دیا ،ماڈرن پینڈو بھی کسی سے کم نہیں تھا وہ بھی جدید خراش اور فیشن کے ساتھ شہری بابو کا نتظار کر رہا تھا اور گھر سے کافی پہلے ایک اونچی جگہ سے اس کی راہ تک رہا تھا کہ وہ کون سا جدید فیشن کر کے آ رہا ہے ؟تاکہ اس کے پہنچنے سے پہلے میں بھی اس کے مقابلے کا انداز اپنا لوں،جب اس کی نظر شہری ماڈرن بابو پر پڑی تو اسے اور تو کچھ نیا نظر نہیں آیا البتہ اس کے گھٹنے پر ایک بڑا سا پتا لگا ہوا ،پینڈو جلدی جلدی گھر پہنچا اور اس کے آنے سے قبل دونوں گھٹنوں پر پودے کے بڑے بڑے پتے باندھ لئے ۔
دیکھا جائے تو آج کل جدید دور میں اور موبائیل فونز کی بدولت سادگی اور سادہ لوحی کم ہوتی جارہی ہے لوگ چالاک ہوتے جارہے ہیں دنیا سے مسکراہٹیں غائب ہوتی جا رہی ہیں دیہاتوں میں بسنے والے بھی اب ماڈرن ہوتے جارہے ہیں اور زندگی کے نئے نئے انداز کو اپنا رہے ہیں ۔
کرم دین گائوں سے آیا ،اسے چودھری مقصود عالم سے ملنا تھا جو کہ ان کے گائوں کا اک بہت بڑا زمیندار تھا اس نے مجھے ایڈریس دکھاتے ہوئے مجھے چودھری کا پتہ پوچھا کہ وہ کہاں رہتا ہے میں نے ایڈریس سمجھاتے ہوئے اسے کہا کہ یہاں سے اگلی گلی میں ان کی سرخ پتھروں کی بنی ایک خوبصورت کوٹھی ہے پہلے تو وہ ہنسنے لگا کہ صاحب آپ مذاق کرتے ہو ،وہ اتنے بڑے زمیندار ہیں گائوں میں ان کی کافی زمینیں ہیں ان کے پاس ایک بڑی سی جیپ بھی ہے بھلا وہ کونسی چھوٹی سی ﴿کوٹھڑی﴾میں رہیں گے میں نے اسے سمجھایا کہ میں اس مذاق نہیں کر رہا ،اس نے پوری بات سنی ہی نہیں اور چل دیا میں نے یہ سمجھا کہ شاید وہ سمجھ گیا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر وہ میرے پاس آیاکہ صاحب جی ،ان کا ایڈریس نہیں مل رہا ہے میں نے اس سے پوچھا کہ جو پتہ میں نے سمجھایا تھا کیا اس پر نہیں گئے؟جی گیا تھا لیکن وہاں تو بڑی بلڈنگیں تھیں کوئی’’کوٹھی‘‘نظر نہیں آئی میں اس کی بات سمجھ کر اسے چودھری کے پاس چھوڑ آیا۔
سادہ لوح ہونا اس دنیا میں جرم بنتا جا رہا ہے لوگ جدید سٹائل کو ترجیح دے کر دنیا کے ہمقدم چلنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہاں پر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ہم جدید اور نئے انداز اپنا کر اپنی روایات کو بھی بھول رہے ہیں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو نظر انداز کرتے جارہے ہیں ۔
مانا کہ ہمیں حالات کے ساتھ خود کو بدلنا ہے لیکن اپنا تشخص برقرار رکھتے ہوئے اپنے خوبصورت اور تابناک ماضی کو بھی فراموش نہیں کرنا ہے ،آج دنیا ترقی کی نئی راہوں پر چل رہی ہے اس میں جدت تو آتی جارہی ہے لیکن وقت کی کمی اور مصروفیت کی وجہ انسان اپنے پیارے رشتوں کوفراموش کرتا جا رہا ہے اور ایک دوسرے سے دور ہوتا جا رہا ہے ،اس لئے حالات کے ساتھ چلتے ہوئے بھی اپنے عظیم رشتوں کا خیال رکھتے ہوئے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو انجوائے کریںکیونکہ زندگی بے وفا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker