عبدالماجد ملککالم

دوپٹہ گورنمنٹ

واک کرتے ہوئے اس کے موبائل کی بیل سنائی دی اس نے فون سننے کے بعد ہمیں یہ بتایا کہ اباّ جی کی کال تھی اور ہماری بات سنے بغیر یہ جا ،وہ جا۔اس طرح اکثر ہوتا تھا کہ ہم کہیں کھانا کھا رہے ہوتے ،یا کسی تقریب میں ہوتے یا پھر باغ جناح میں واک کر رہے ہوتے تو جب بھی اس کے موبائل کی گھنٹی سنائی دیتی ہمیں پتا چلا جاتا کہ ابّا جی کا فون ہوگا اور واقعی وہ ابّا جی کی ہی کال ہوتی ،فون سننے کے بعد اگر کھانا کھارہے ہوتے تو کھانا چھوڑ دیتے ،واک کر رہے ہوتے تو واک کوخیر باد کہ دیتے ،اگر کسی تقریب میں ہوتے تو ان سے معذرت کرکے اٹھ کر چلے جاتے اور ابّا جی کے فون پر لبیک کہتے ہوئے گھر کو روانہ ہوجاتے،
اتنی زیادہ سعادت مندی دیکھ کر مجھے ان کے والدین پر رشک آتا کہ ان کے بڑھاپے میں انہیں اللہ کی طرف سے ایسی فرمانبردار اولاد نصیب ہوئی ہے ،بڑھاپے میں نیک اور فرمانبردار اولاد کا ہونا اللہ کی طرف سے کسی خوبصورت انعام سے کم نہیںہوتا ۔کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیاکہ والدین جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو بچے انہیں گھر کے کسی کونے کھدرے میں ڈال کر بھول جاتے ہیں اور ان کے مرنے کی دعا کرتے ہیں ،کچھ تو ان کے منہ پر کڑوے کسیلے جملے کہ جاتے ہیں اور بے چارے والدین اُف تک نہیں کرتے ۔یہاں اسی طرح ایک واقعہ ذہن میں آرہا ہے کہ ایک دفعہ کسی گھر کی منڈیر پر ایک کوا بیٹھا تھا تو بچے کی بوڑھی والدہ نے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے ؟بچے نے کہا کوّا ہے ،بوڑھی ماں نے پھر پوچھا کہ بیٹا یہ کیا ہے؟بیٹے نے ذرا سخت آواز میں کہا کہ یہ کوّا ہے ،بوڑھی والدہ نے پھر یہی سوال دہرایا تو بیٹے نے انتہائی گستاخانہ لہجے میں غصے سے کہا کہ آپ کو سنائی نہیں دیتا جو بار بار پوچھے جا رہی ہو،اس پر وہ بوڑھی والدہ مسکرائی اور کہا کہ جب تو چھوٹا بچہ تھا اور اسی جگہ ایک کوّا بیٹھا تھا تو نے معصومیت سے پوچھا تھا کہ یہ کیاہے ؟تو میں نے بتایا کہ یہ کوّا ہے تم نے اپنا سوال پورے چالیس بار دہرایا تھا ،ہر بار تم معصومیت سے پوچھتے تھے اور ہر بار میں محبت سے بتاتی تھی اور پھولے نہیں سماتی تھی۔
آج معمول کے مطابق ہم پھر واک کر رہے تھے جب حافظ صاحب کے موبائل کی بیل بجی تو ہم نے بے ساختہ کہا کہ ابّا جی کا فون آگیا ہے اب تمہیں جانا پڑے گا حافظ صاحب نے جب نمبر دیکھا تو کہا کہ واقعی ابّا جی کی کال ہے اب حافظ صاحب کی بدقسمتی کہیں یا کچھ اور ۔ان کا راز فاش ہونا تھا کیونکہ اس دن حافظ صاحب کا موبائل خراب تھا اور اس کا سپیکر آن تھا جیسے ہی حافظ صاحب نے کال یس کی اور ہیلو کہا تو آگے سے آواز آئی ،مظفر شام ہوگئی ہے تم ابھی تک نہیں پہنچے جلدی گھر پہنچو ،یہ بات کہ کر فون بند ہوگیا حافظ صاحب نے فون بند کیا اور معمول کے مطابق کہا کہ ابّاجی کا فون تھا مجھے جانا ہے ہم نے انہیں پکڑ لیا اور بتایا کہ اب آپ کا راز فاش ہو چکا ہے کیونکہ ہم نے غلطی سے آواز سن لی ہے حافظ صاحب کافی شرمندہ ہوئے اور بتا نے لگے کہ تم لوگ ایسے جان تو نہیں چھوڑتے مجبوراََ ابا جی کا بہانہ لگانا پڑتا تھا کیونکہ دوپٹہ گورنمنٹ سے ڈر لگتا ہے ،اب جب کبھی بھی حافظ صاحب کے موبائیل کی بیل سنائی دیتی ہے ہم شور مچا دیتے ہیں کہ ابّا جی کا فون آگیا پہلے پہلے تو حافظ صاحب بھی شرمندہ ہوتے تھے لیکن وہ بھی ہمارا شور مچانے پرمسکرانے لگتے ہیں ۔
اللہ نے صنف نازک میں کافی کشش رکھی ہے اس لئے انسان اس کے پیچھے لگا رہتا ہے ہمارا ایک دوست تو اس حد تک آگے نکل گیا ہے کہ جب کسی حسینہ کو دیکھتا ہے تو زور سے سبحان اللہ کہتے ہوئے بتاتا ہے کہ قدرت کے حسین شاہکاروں کو دیکھ کر اللہ کی تعریف کرنی چاہئے وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ کسی نامحرم کو دیکھنا گناہ ہوتا ہے آج کل کے نوجوان لڑکے حسینائوں کے پیچھے گھومتے دکھائی دیتے ہیں میں نے ایک لڑکے سے پوچھا کہ انسان کی کتنی مائیں ہوتی ہیں اس نے پانچ مائیں کہ کر مجھے حیران کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اس کی اپنی ماں ہوتی ہے ،ایک دادی ماں ہوتی ہے،ایک نانی ماں ہوتی ہے ،ایک ’ساسو‘ماں ہوتی ہے اور ایک وہ بھی ہوتی ہے میں نے حیرت سے پوچھا کہ ’وہ‘سے کیا مراد ہے وہ تھوڑا ہچکچایااور کہا کہ اک وہ جس سے رات کو دوبجے بات ہورہی ہوتی ہے اور امی اپنی چارپائی سے چپل کھینچ کر مارتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’اس ٹائم کیری ماں نال لگا ایں‘‘﴿اس وقت کس ماں سے بات کر رہے ہو﴾۔
شادی سے پہلے تو لڑکے کافی شرارتیں کرتے رہتے ہیں لیکن شادی کے بعد یہ بھیگی بلی بنے نظر آتے ہیں اور بیوی کی ہر بات پر لبیک کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اس سے ثابت یہی ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ مظبوط اور پاور فل’’دوپٹہ گورنمنٹ ‘‘ہے۔ چاہے وہ دوپٹہ سر پر ڈالے ،چاہے گردن میں لٹکالے لیکن شوہر کو اپنے دوپٹے سے باندھنے کا ہنر ہر بیوی کو آتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker