تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

مکانوں کی چھتوں پر موت کے ٹاورز

مارٹن کوپر کوئی بہت عروف نام نہیں ہے لیکن آدھی سے زیادہ دنیا کی آبادی ان کی ایجاد سے آشنا ہے۔ فون ہاتھ میں لے کر گھومنے کا خیال مارٹن کوپر کے ہی ذہن میں آیا تھا ۔جدید دور کے موبائل فون نے اس صنعت میں اس قدر انقلاب برپا کیا ہے کہ اس کے استعمال کے نئے طریقے بھی نکل آئے ہیں اور نئی نئی ٹیکنالوجیز کی بدولت آج یہ سہولت امیر تو امیر غریب کے پاس بھی میسر ہے۔اور اس ایجاد نے جہاں بے شمار سہولتیں دنیا میں پھیلائی ہیں وہیں اس کے مضرِ صحت ریڈئیشن نے بیماریاں بھی بے شمار پھیلا دی ہیں جس سے صارفین سمیت اہلِ دنیا کے افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
جدید زمانے میں بہت ہی تیزی رفتاری سے ترقیاں ہو رہی ہیں۔ دنیا نئی نئی ایجادات اور جدت کی طرف مائل ہو رہے ہیں انہیں میں ایک حساس مسئلہ بھی پروان چڑھ رہا ہے جو موبائل فون کمپنیوں کے ٹاورز ہیں۔ جس دن سے یہ موبائل ٹیلی فون سروس کا مقابلہ شروع ہوا ہے تب سے ہی یہ کمپنیاں اپنے ٹاورز لگانے کا کام کر رہی ہیں۔ تاکہ اپنے اپنے صافین کو بہتر کوریج اور بہترین سہولیات بہم پہنچا سکیں۔ پہلے یہ دیکھا جاتا تھا کہ بڑی بڑی عمارتوں پر ان کے ٹاورز نصب ہوتے تھے مگر اب تو اکثر گھروں کی چھتوں پر بھی یہ ٹاورز نظر آنے لگے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں۔ لوگ چند پیسوں کی خاطر اور اپنی تنگ دستی دور کرنے کے لئے سہارے ڈھونڈتے ہیں اور موبائل کمپنیاں انہیں یہ سہولت بہم پہنچا رہی ہیں۔ لیکن یہاں پر یہ ذکر ضروری ہے کہ جو لوگ ٹاورز لگوا رہے ہیں وہ اس ٹاورز سے خارج ہونے والے ریڈیشن (شعاؤں) سے اور ان کے خطرناک مضمرات سے بالکل نا بلد ہیں۔ کرایہ ملنے کا لالچ ایسے لوگوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیتا ہے ۔ یہ ریڈیشن انسانی صحت کے لئے بہت زیادہ خطر ناک ہیں تو سمجھنے کی بات ہے کہ جو لوگ اس ٹاورز کے نیچے اور آس پاس رہ رہے ہیں وہ ان ریڈیشن سے کتنے متاثر ہو رہے ہونگے۔ اس لئے آج کے انسان کو یہ ضرور سو چنا چاہیئے کہ کچھ پیسوں کے لئے انسانی زندگی اور صحت پر کسی قسم کا سودے بازی نہ کریں۔ آپ دوسروں کا خیال رکھیں گے تو دوسرے آپ کا بھی خیال رکھنے کو ترجیح دیں گے۔
ایک زمانہ تھا کہ گلیوں، محلوں میں چڑیوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ نظر آتے تھے،علی الصبح ان چڑیوں کے چہچہانے سے یہ احساس ہو جاتا تھا کہ طلوعِ صبح ہو گئی ہے۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان موبائل ٹاورز سے نکلنے والے شعاؤں نے ان چڑیوں کو بھی موت کے آغوش میں سلا دیا ہے۔ اب تو چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں شائد و نادر ہی سنائی دیتی ہیں۔ کوئل کی کُو کُو تو گئے زمانے کی بات لگتی ہے۔ شہروں میں جگہ کی قلت کا یہ عالم ہے کہ اب موبائل ٹاورز گھروں کی چھتوں پر لگانے کا رواج عام ہو رہا ہے۔ ماہانہ آمدنی کے لالچ نے مکان کے مالکوں نے صرف اپنی ہی نہیں بلکہ پڑوسیوں کی صحت کے ساتھ بھی کھلواڑ کررہے ہیں ۔ ٹاورز سے نکلنے والا ریڈیئشن ہماری آنے والی نسلوں کو بھی بیمار بنا رہا ہے۔ گائیڈ لائین کے فقدان کے باعث اس کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ میڈیا اور اخبارات میں بہت دنوں سے یہ بات گردش میں ہے کہ موبائل ٹاورز سے پیدا ہونے والا ریڈیئشن لوگوں کی صحت اور ماحولیات کیلئے نقصان دہ ہے یا نہیں۔ اس حساس موضوع پر کافی تحقیق بھی ہوئی ہے کچھ نے اسے بے معنی گردانا توکچھ نے اسے نہایت خطرناک حد تک نقصان دہ بتایا۔ کئی ملکوں کی حکومتوں نے اب جاکر اس کا اعتراف کر لیا ہے کہ یہ ریڈئیشن کے ربط میں آنے سے لوگوں کی صحت پر بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ محقیقین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام ہینڈ سیٹس سے نکلنے والا ریڈئیشن یکساں نہیں ہوتا۔ ایک محقق نے اس ریڈیئشن کی اصطلاح اس طرح بتائی ہے کہ اسے ’’ Specific Obsarption Rate‘‘ اس کا مطلب یوں بیان کیا گیا ہے کہ ایک وقت میں موبائل فون استعمال کرنے کے دوران باڈی ٹیشوز کے ذریعہ جذب کئے جانے والا ریڈئیشن۔ اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ موبائل ہینڈ سیٹ تو ہر وقت آپ کے جیب میں ہوتا ہے تو اس کا نقصان زیادہ ہونا چاہیئے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہینڈ سیٹ کا استعمال مسلسل نہیں ہوتا مگر ٹاورز سے جو ریڈئیشن خارج ہوتا ہے وہ رکتا نہیں بلکہ مسلسل چوبیس گھنٹے ریڈئیشن پھیلاتے رہتے ہیں۔ موبائل کا زیادہ استعمال کرنے والا صارف نیورو مشکلات سے دو چار ہو رہے ہیں یا بالوں میں جلن، تھکان، بے خوابی اور سر درد جیسے مشکلات میں مبتلا پائے گئے ہیں۔
طبیعات کے ماہرین اور ڈاکٹروں کے پینل کے مطابق موبائل ٹاورزنہ صرف انسانی صحت کے لئے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں،بلکہ ان سے نکلنے والی شعاعیں انسانوں میں کینسر اور برین ٹیومر کا سبب بھی بن رہے ہیں۔خاص طور پر اس کے منفی اثرات بچوں پر زیادہ مضر ہوتے ہیں۔اگرچہ برین ٹیومر کے بچے مریض ایک اندازے کے مطابق 70%شفایاب ہو جاتے ہیں مگر ساری عمر کی کسی معذوری یا کوئی اور سائیڈ ایفیکٹ ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ برین ٹیومر کی علامات میں سر درد خاص کر وہ درد جو صبح آپ کے جگانے کا سبب بنے ، آنکھوں کی کمزوری، بولنے میں دقت یا پھر یاد داشت کا کھو جانا شامل ہیں۔ مگر یہ بھی ذہن نشین رہے کہ یہ تمام علامات کسی اور وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں۔
ایک اخباری خبر کے مطابق راجھستان کی عدالت نے موبائل سروس پروائڈرز کو ایک حکم نامے کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ دو مہینے کے اندر اندر اسکولوں ، ہسپتالوں اور پلے گراؤنڈز کے نزدیک لگے ہوئے سبھی ٹاورز کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے کیونکہ بچوں کی صحت اس کے خارج کردہ ریڈئیشن سے متاثر ہو سکتی ہے۔
ان تمام جائزہ کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ خود فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ اب آپ کو کیا کرنا ہے ۔ حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ جہاں آپ رہتے ہیں وہ جگہ آپ کے لئے مفید ہے یا نہیں اور آپ ان ٹاورز سے جتنی زیادہ دور ی پر رہیں گے آپ اتنے ہی اس کی ریڈئیشن سے محفوظ رہیں گے۔ دوسری اہم بات یہ کہ گھروں کے مالکان بھی صرف چند روپوں کے لالچ میں ایسے اگریمنٹ نہ کریں کہ جس سے خود آپ کی فیملی اور احباب سمیت اہلِ محلہ بھی اس خطرناک ریڈئیشن کا شکار ہو جائیں۔ اب یہ عوام کے مفاد کے لئے فرض ہو چکا ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ کوئی موبائل فون ٹاورز ان کے لئے خطرناک بیماریوں جیسے تحائف تو نہیں لا رہا اور اگر لا رہا ہے جیسا کہ اوپر مدلل دلائل تحریر کیا جا چکا ہے تو وہ ان اندھی بیماریوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں اور بیماریوں سے پاک معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں  16 سال بعد پاکستان چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker