تازہ ترینکالم

” مخلوط نظام تعلیم اسلامی اقدار کےلئے چیلنج ”

ریاست مد ینہ طیبہ کے بعد اسلام کے نام پر دوسر ی بڑ ی ریاست وطن عزیزملک پا کستان حا صل کیا گیا ،جس کی بنیا دیاور اساس کلمہ طیبہ پر رکھی گئی اور جسے حا صل کر نے کے لئے مد ینہ طیبہ کے بعد دو سر ی بڑی ہجرت کی گئی جس کی نظیرکہیں نظر نہیں آتی ،قیا م پا کستان کے لئے جد وجہد کر نے والے رہنماؤں کے ذ ہنوں میں صرف ایک با ت تھی کہ کسی بھی طر ح ایک الگ اسلامی ریاست کا قیام عمل میں لا یا جائے جہاں نظام مصطفی ﷺ کا عملا نفاذ کیا جانا چاہیے جہاں اسلامی طرز حکومت ہو نا چا ہیے اور اسلام کے مطا بق قوا نین وضع کر کے مکمل مذ ہبی آزادی کے سا تھ زندگی بسر کی جائے المختصر کہ تمام جد وجہد کا مقصد اسلامی فلا حی ریاست کا قیام تھا لیکن
’’اے بسا آرزو کہ خا ک شد ہ ‘‘ 
آج 72بر س گزر چکے ہیں اسلامی ریا ست ,اسلام کا قا نون ، اسلامی اصو ل اور مذ ہبی روا یات کی تر ویج واشاعت اور نفاذ میں ناکام رہے ہیں جس مقصد کے لئے اس ریا ست کا قیام عمل لا یا گیا اس مقصد کے لئے ہم نے من حیث القوم ایک بھی قدم آگے بڑ ھانے کی سعی نہیں کی ،پاکستان اسلامی ملک تو ہے لیکن ایک نعرہ کی حد تک ،یہاں اسلامی طر ز کا آئین اور قانون تومو جود ہے مگراسکا عملی نفاذ نہیں ، یہاں مذ ہبی روایات تو ہیں لیکن تا ک نیسیاں کی زینت گو کہ یہاں اسلام تو ہے لیکن اس کے نام لیو انہیں ہیں،ایسے ما حو ل میں علم و عر فان کے مو تی بکھیر نے والی مادرانِ علمی بھی دم توڑتی نظر آتی ہیں جو کبھی علم و تحقیق کے مر اکز ہو اکر تی تھیں جہاں سے طب ، ریا ضی ، فلسفہ ، کیمیا الغر ض کے تما م شعبہ جات میں انکا کوئی ثا نی نہیں تھا اور مغر ب جہاں سے علم حا صل کر نا اپنا فخر سمجھا کر تے تھے ، جہاں عظیم سا ئنسد انوں کی کھیپ ہمہ وقت تیار رہتی تھی لیکن صدافسوس ! 
کہ وہ تمام جامعات اور علم وتحقیق کے مراکز لا رڈ میکا لے کے تعلیمی نظام کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں ،جس نظام نے تعلیمی اداروں کی اصل روح کہ
’‘ اک مقدس فرض کی تکمیل ہو تی ہے یہاں ‘‘کو مسخ کر دیا اور مغر بی حو اریوں کی خو شنو دی اور لا رڈ میکا لے کی تعلیمی نظام ’’ مخلوط نظام تعلیم ‘‘ کو اپنا لیا اور پھر 
’’ اس کے بعد چر اغوں میں روشنی نہ رہی ‘‘ 
مخلوط نظامِ تعلیم اسلامی اقدار کے لئے ایک چیلنج بن کر سا منے آیا ہے ۔ہماری معاشرتی تباہی کا سبب مخلوط نظام تعلیم ہے۔مخلو ط نظا م تعلیم کے ذ ریعے بے ہو دگی ، بے پر دگی ، فحا شی و عر یانی ، عزتوں کی پا مالی اور اغیا ر کی تقلید کا عفر یت دن بدن ہما رے تعلیمی اداروں میں بھی بڑ ھتا چلا جا رہا ہے ، نام نہا د روشن خیا لی اور ماڈرن ازم کے نام پر اس نظام تعلیم کے ذریعے تعلیم کے اصل مقصد سے رو گردانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نظام تعلیم کے ذر یعے مر دو زن کے درمیان حا ئل ایک دبیر حجاب ختم ہو تا جا رہا ہے ،کم عمر ی کی لا حا صل محبتو ں کی وجہ سے خو د کشی کا رجحان بھی آئے دن ز ور پکڑ تا جا رہا ہے ، اس فر سو دہ پلید اور گندے نظام نے نو جو ان نسل کی دینی اور فکر ی سو چ کا زوایہ یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے جہاں اخلا قیات ،احترام اور شر م و حیا ء مخلو ط نظامِ تعلیم کی روح سے پرانے وقتوں کی با تیں ہیں، مخصو ص فکر کے تحت ایمان کی روح شرم و حیا کو مسخ کر نے کی سعی و کو شش کی جا رہی ہے، جہاں طالبا ت کے جا معا ت میں پر دہ کر نے پر پا بند یا ں عا ئد کی جانی شروع ہو چکی ہیں اور ہم اپنی نو جوان نسل کو جد ید نظام تعلیم حا صل کرتاپا کر خو شی سے تھکتے نہیں ہیں ۔حضرت علامہ اقبال ؒ نے بھی اغیار کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ 
* اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم ۔۔۔ ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دین فطرت ہے ،اسلام کے خوب صورت اور واضح قابل تقلید قوانین ہیں ۔مگر بدقسمتی ہے ہم نے اسلام کے اصولوں سے روح گردانی اور بغاوت کو اپنا فرض عین سمجھ رکھا ہے ،ماڈرن ازم اور جدت کے پر نام پر رائج مخلوط نظام تعلیم کی صورت میں ہم نے ایک ایسانا سورپال رکھا ہے جس نے اب رسنا بھی شروع کر دیا ہے جس کے بدبو داراور گندے اثرات ہمارے معاشرے پر واضح نظر آنے شروع ہو چکے ہیں ،نوجوان نسل مختلف جرائم کا شکار نظر آتی ہے ،مخلوط نظام تعلیم ہمارے معاشرے کیلئے کسی بھی بڑی لعنت سے کم نہیں ہے،
قارئین اکرام،
ماضی میں مخلوظ نظام تعلیم کو کوئی تصور نہ تھا دنیائے اسلام کی درسگاہیں جو علم وعرفان کا مرکز عراق ،شام ،مصر اور ترکی میں موجود تھیں دنیا بھر کے غیر مسلم بھی حصول تعلیم کیلئے یہاں آیا کرتے تھے،آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا کسی اعزاز سے کم نہیں مگر اس کے بانی راجربیکن نے بھی مسلم یونیورسٹیوں سے عربی میں تعلیم حاصل کی اور علماء سے متاثر ہوئے ۔کبھی مسلمان نت نئے تجربات سے علمی میدان کے شاہ سوار ہوا کرتے تھے اور آج حالت یہ ہے کہ فرنگی تخیلات کے گھوڑوں پر سوار اپنے فرسودہ تعلیمی نظام کا رونا رو رہے ہیں ۔یہ مخلوط نظام تعلیم کا ہی شاخسانہ ہے کہ آج ہم میں کوئی امام اعظم ابوحنفیہؒ ،امام شافعیؒ ،امام احمد بن حنبلؒ ،سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ ،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ ،قائد اعظم محمد علی جناح ؒ ،علامہ محمد اقبال ؒ جیسے لوگ پیدا نہیں ہو رہے اور نہ ہی اس تعلیمی نظام سے اس طرح کی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے ۔
اس سے بڑھکر ستم ظر یفی تو یہ ہے کہ ہم تا حا ل بھی نظام تعلیم کو اسلام اور نظر یہ پا کستان سے ہم آہنگ کر نے میں ناکا م رہے ہیں ، مخلوط نظام تعلیم جہاں وطن عزیز ملک پا کستان کے لئے کبھی سود مند ثا بت نہیں ہو سکتا وہیں اس نظام سے جامعات میں کبھی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ، اس عفر یت پر قا بو پا نے کے لئے ہنگا می بنیا دوں پر اقدا مات کر نا ہو نگے جس کا سب سے آسان اور مو ثر حل طلباء اورطا لبات کے لئے بر ابری کی سطح پر الگ الگ جامعات بنا ئی جا ئیں تا کہ طا لبات میں احسا سِ محر ومی نہ ہو اوروہ بھی تعلیم کے زیورسے آراستہ ہو سکیں ،نظام تعلیم میں بھی کچھ تبد یلیا ں کر کے تمام تعلیمی اداروں میںیکساں نصاب ، یکساں نظام اور قو می ز بان اردو کولا زمی قرار دیا جا ئے کیونکہ یہی تر قی یا فتہ قو موں کا شیو ہ ہے ،اسلامی نظام تعلیم ہی اس مسئلے کا بہترین حل ہے ۔ نام نہا د روشن خیا لی عا رضی اور تبا ہی کا راستہ ہے جبکہ اسلام مستقل اورخیر کی راہ ہے ، جب تک ہم اسلامی اصو لوں کو بنیا د بنا کر اپنے تعلیمی نظام کو اسلام کے سا نچے میں نہیں ڈھا لتے تو ایسے حا لات میں مستقبل کا مورخ تبا ہی کی تا ریخ لکھنے کیلئے قلم ہاتھ میں تھا مے منتظرکھڑا ہے ۔۔۔ 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button