تازہ ترینکالم

مکڑی کا جالہ

rizwan khanعرفان بھی اس سسٹم سے ناراض اور حد درجہ بے زار نوجوان ہے ۔ یہ بھی دن گن رہا ہے کہ کب اس کا امیگریشن پراسس مکمل ہو اور کب یہ ناقدری کے پاکستانی ماحول سے نکلے اور آسٹریلیا جا کر اپنے ملک سے حاصل کیا ہوا انجینئرنگ کا ہنر اپلائی کرے۔ اس کی باتیں بہت سخت ہیں اس کا لہجہ انتہائی سرد۔ میں جب بھی اسے ملا یہ غصے نفرت کا ابلتا ہوا آتش فشاں محسوس ہوا اور باتیں اس کی سچی ہیں دکھ اس کے ہرے ہیں۔ اس نے انجینئرنگ کے بعد اپنے کیریئر کا آغاز ایک سرکاری ادارے سے کیا۔خوشامد چاپلوسی اور نااہلی کے تعفن زدہ ماحول میں اس کا دم گھٹنے لگا ۔ دوسرے افسران محض اس کی قابلیت اور شارپ مائنڈ کی وجہ سے اسے حیلے بہانوں سے ذلیل کرنے لگے ۔ بات پھولوں کی ہوتی تو بے چارہ سہہ جاتا لیکن جب کانٹوں پر بھی غریب کا حق نہ رہا تو سب ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ یہ سسٹم کے سامنے اکڑ گیا اس نے باس از آل ویز رائٹ کے فقرے کو یکسر ٹھکرا دیا۔ گریڈ چھوٹا تھا اور نعرہ بڑا۔ بت بڑے تھے تلوار چھوٹی تھی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ سال بھر کی لڑائی بھڑائی تو تکارکے بعد سارا محکمہ اس کے خلاف ہوگیا۔ مایوس ہو کر لڑتی ہوئی فوج نے بالا آخر پسپائی اختیار کرلی ۔ عدنان نے سرکاری نوکری کو خیر باد کہا اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم ہوگیا۔ وہاں بھی وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں جیسی صورتحال پھر سے شروع ہوگئی ۔ خوشامداور قابلیت کا پھر سے میچ شروع ہوگیا۔ جیسے محبت اور ڈر کی جنگ میں جیت ہمیشہ ڈرکی ہوتی ہے ۔ ٹھیک ویسے ہی یہاں بھی ٹیلنٹ کو دوبارہ شکست ہوگئی ۔ اس دن اسے یقین ہوگیا کہ یہ سسٹم ڈیزائن ہی کچھ اسطرح سے ہوچکاہے کہ آپ اگر قابل ہیں تو آپ سسٹم کے لئے خطرہ ہیں سسٹم آپ کو دھکا دینے کی نکال باہر کرنیکی بھرپور کوشش کرے گا ۔ آپ کی تمام صلاحیتیں کام کی بجائے اپنی سروائیول پر ضائع ہونا شروع ہوجائیں گی۔ اگر فرض محال آپ سروائیو کر بھی گئے تب بھی آپ کے پاس دوراستے ہیں کہ اپنی تما م صلاحیتوں کو محض تمام کیریئر اپنے بقاء کی جنگ لڑنے کی نذر کردیں ۔یا "If you cannot beat them then Join them”پر عمل کرکے باقی کے گینگ کو جوائن کرلیں۔ میرا بھولا بھالا دوست اب دوسری آپشن کو جزوی طور پر قبول کرچکا ہے۔ یہ ایک پرائیویٹ انڈسٹری میں ملازم ہے ۔ جھوٹی سمائلز دینے کا دن رات بزنس کر رہا ہے ۔ صبح سے شام تک باس کے جنسی موضوعات پر لطیفے سنتا اور داد دیتاہے بادل نخواستہ مسکراتاہے ۔ یکم کو اے ٹی ایم کارڈ ڈال کرسیلری نکالتا ہے اور منتظر ہے کہ کب آسٹیریلین گور نمنٹ اسے امیگریشن فیس جمع کروانے کو کہے اور کب یہ لطائف کے عوض حاصل ہونے والی تنخواہ سے امیگریشن فیس جمع کروا کر اس ناقدری کی دلدل سے آزاد ہو۔ میں نے اس نوجوان کی بپتا کئی دفع سنی ہے اور ہر دفعہ یہ سوال میرے سامنے ایک اژدھے کی مانند پھن پھیلا کر کھڑا ہوجاتاہے کہ ہم ایسا سسٹم بنا کر کب تک ترقی کے جھوٹے خواب دیکھنے میں مگن رہیں گے۔ ہم خوش ہیں کہ ہم مکڑی کے جالے میں روز بروزالجھتے جارہے ہیں ۔ ہر کسی کی زبان پر یہ گلہ ہے کہ سسٹم کیوں زوال کا شکار ہے۔ ایک دفعہ ایک صاحب جو کسی انٹرویو کمیٹی کے ہیڈ تھے فرمارہے تھے کہ دس سیٹیں ہیں جن میں سے دو تو بحرحال ہمیں میرٹ پر فل اپ کرنی پڑیں گی ۔ میں نے اس زحمت کی وجہ پوچھی تو بڑی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آخر سسٹم بھی تو چلانا ہے۔ اگر دس کے دس سفارشی رکھ لیں گے تو سسٹم کیسے چلائیں گے ۔سرکار کی تو خواہش ہے کہ دس کی دس سفارشی پرچیاں بھرتی کرلی جائیں۔لیکن میں نے اسٹینڈ لیا ہے کہ میرٹ پر بھی کچھ بھرتی ضروری ہے ۔یہ صاحب ملک کا درد رکھتے ہیں اس لئے بچے کھچے میرٹ کی بات کرکے انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا ۔ضمیر مطمئن کرلیا ۔ یہ بھرتی غیر سیاسی دور میں ہورہی تھی ۔ سیاسی ادوار کی بھرتیوں کا تو ذکر ہی نہ چھیڑئیے۔یہی سفارش پر میرٹ کی Voilationکرکے بھرتی کردہ افراد دو طرح سے اداروں کو برباد کرتے ہیں اول تو ان کا ماٹو ہی روز اول سے کرپشن ہوتا ہے ۔ دن رات پیسہ جوڑنے کی فکر انہیں اداروں کی بربادی پر مجبور کرتی رہتی ہے ۔ دوم جو خود قابلیت پر بھرتی ہونے سے محروم رہے اسے ہر قابل اور میرٹ پر بھرتی شدہ آدمی بے کار اور اپنے لئے خطرہ محسوس ہوتا رہتا ہے۔ یہ صاحب لوگ اپنی سفارش اور لوٹ مار کے پیسے کو اپنے ملازمتی کیرئیر کی ہر رکاوٹ عبور کرنے کے لئے نہائت ایمانداری سے استعمال کرتے ہوئے دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے آخر کار ایک دن محکمے کے کرتا دھرتا بن جاتے ہیں ۔ ان کے نیچے ہر روز میرٹ کا ،قابلیت کا قتل عام ہوتا ہے ان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ یہ ہمیشہ اپنے جیسے سفارشی چاپلوس اور خوشامد پسند لوگوں کو پروموشن کے وقت پرموٹ کرتے ہیں ۔ یوں ان کا کنبہ خوب پھلتا پھولتا رہتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت یہ خوب تسلی کرلیتے ہیں کہ کہیں سسٹم کسی ایماندار اور میر ٹ پسند آدمی کے ہاتھ نہ چلا جائے کیونکہ ایسی صورت میں ان کے بیٹوں بھتیجوں بھانجوں کی بھرتیاں نہ ہوسکنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ اسی Evil Cycleکی وجہ سے ہی ہمارے پل گر گر پڑتے ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ ہمارے قابو سے باہر ہے ۔ ہماری میٹرو ایک بارش کی مار نہیں سہہ پاتی ۔ ہم سیلابوں کی مار سہتے سہتے مر چکے ہیں۔ قابل لوگ ملک سے پر اسرار خاموشی سے فرار ہوتے جارہے ہیں۔ یہی حال پرائیویٹ سیکٹر کا بھی ہے وہاں سیٹھ کو اپنی ہاں میں ہاں ملانے اور ہر بات پر وفادار کتے کی طرح دم ہلانے والے نا اہل ہرکارے درکار ہیں۔ میرٹ صرف اور صرف میرٹ ہی واحد حل ہے جو ہر محکمے میں بنے ہوئے ،تنے ہوئے کرپشن لوٹ مار کے جالوں کو توڑ سکتا ہے۔ سب سے پہلے سفارشی مکڑیوں کو اس سسٹم سے الگ کرنا ہوگا جہاں محکموں کے حکومت کے سربراہ گلابی اردواور بے سری پنجابی میں تقریریں کرتے ہوں وہاں ترقی کے بارے میں سوچنا بھی ایک جرم ہے ۔ بور باتیں کافی ہوگئیں ذرا ہنس بھی لیں اسی مناسبت سے کیا خوب کہا ہے عابی مکھنوی نے ؛
مرچ میں اٹھاؤں تو اینٹ کا برادہ ہے
دودھ پانی پانی تو شہد لیس چینی کی
وردیوں میں ڈاکو ہیں
کرسیوں پہ کتے ہیں
عصمتوں پہ بولی ہے
چینلوں پہ بکتی ہے بھوک مرنے والوں کی
دیر تک رلاتا ہے رش تماش بینوں کا
بے زبان لاشوں کا
جس جگہ میں رہتا ہوں
بے حسوں کی جنت ہے
مومنوں کی بستی ہے
بے پنا ہ یہ سادہ ہیں
سود کے نوالوں سے جب ڈکار لیتے ہیں
شکر کی صداؤں سے رب کو یاد کرتے ہیں
رب بھی مسکرا تا ہے جب یہ طاق راتوں میں کچھ تلاش کرتے ہیں !!!

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button