شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / مکتوب رینالہ خورد :وزیر اعلی پنجاب کے نام

مکتوب رینالہ خورد :وزیر اعلی پنجاب کے نام

renala khurd
تحریر : مہر محمد حنیف
کروڑوں روپے کی لاگت سے بنایا جانے والا پل حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے ضائع ہونے لگا ۔ سابقہ دور حکومت میں ٹریفک اور آبا دی کی زیادتی کو دیکھتے ہوئے کروڑوں روپے کی لاگت سے نہر لوئر باری دو آب پر نیا پل بنایا گیا لیکن ناقص حکمت عملی اور سیاسی چپقلش کی وجہ سے اس کو کسی طرف سے بھی راستہ نہ دیا جا سکا البتہ سابقہ اے سی رینالہ رانا شکیل احمد نے اس بابت آر ای واپڈا کی رہائش کے پاس سے اس کے رستے کی فیزیبلٹی رپورٹ بھی تیار کی تھی لیکن ان کے تبادلہ ہو جانے کی یہ رپورٹ ان کے ذہن میں ہی محفوظ ہو کر رہ گئی جبکہ اے آر ای واپڈا کی پرانی کوٹھی بھی پرانے پل توسیعی منصوبے کی طرح مرمت ہو رہی ہے۔ موجودہ ایم این اے اور ایم پی اے نے سو سالہ پرانے پل کی توسیع کے لیے کروڑوں کا فنڈ منظور کر وایا جو کہ فنڈ جاری کرنے والوں اور کروانے والوں کی انتہائی ناقص منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے اس کی مثال یہ ہے کہ لوئر باری دو آب پر پرانے پل کی بنیادوں پر لنٹر ڈال کر اسے کھلا تو کر دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ بجلی گھر والی نہر پر موجود پل کی حفاظتی دیواروں کو توڑ کر اسے صرف 6 فٹ کھلا کر نے کا منصوبہ ہے وہ بھی پایہ تکمیل کو کبھی نہیں پہنچے گا کیونکہ پل کی حفاظتی دیواروں کو توڑ کر معمولی پائپ سے حفاظتی گرل لگائی جارہی ہے جس کا کو ئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا کیونکہ آگے پر وہی تنگ رستہ رہے گا ۔سو سالہ پرانا پل توسیع منصوبہ کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو کر رہ گئیں ہیں ۔ متبادل رستہ تنگ ہونے کی وجہ سے متعدد گاڑیاں نہر میں گر چکی ہیں جبکہ کسی بھی منصوبہ پر عمل کرنے سے پہلے اس کے متبادل انتظام کر نے کا علیحدہ سے فنڈ جاری کیا جاتا ہے ۔ لیکن ادھر تو اندھیر نگری مچی ہوئی ہے عوام زلیل و خوار ہو رہے ہیں ٹھیکیدار کو اس بابت متعدد بار کہا گیا تو اس نے کہا کہ آپ اس بابت ایم پی اے سے رابطہ کریں مجھے جتنا کہا گیا ہے میں نے بس و ہی کام کر نا ہے۔ دوسری طرف رکشہ ڈرائیوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت پیسے اکٹھے کر کے راستے کے کھڈوں کو ہموار کر وا کر انتظامیہ کے منہ طمانچہ مار دیا۔ محکموں کی آپس میں کوارڈینینشن بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور کسی کو بھی پتہ نہیں کہ متعلقہ محکمہ کا دائرہ اختیار کیا کیا ہے ۔ مقامی شہری مہر محمد حنیف نے اے سی رینالہ خورد کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ مسافروں کو گذرنے کا رستہ دیا جائے جو متبادل رستہ مسافروں نے خود ہی بنایا ہے اس میں بھی جگہ جگہ کھڈے پڑے ہوئے ہیں انہیں ہموار کیا جائے اور جو دو چادرخت رستہ میں رکاوٹ ہیں ان کی وجہ سے مسافروں کو گذرنے میں پریشانی ہوتی ہے ان کو کاٹ دیا جائے حادثہ یا ایمرجنسی کی صورت میں شہر میں داخلہ تقریباً ناممکن ہو کر رہ گیا ہے اس کا کوئی حل کیا جائے اے سی رینالہ نے اس بابت ٹی ایم او ،ٹی او آر اورایکسین نہر کو رپورٹ دینے کا لکھ دیا کہ ٹی ایم او ۔ٹی او آر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ کام ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے آپ ایکسیئن محکمہ انہار سے رابطہ کریں۔ درخواست علیہ نے جب ایکسین نہر سے رپورٹ کر نے کو کہا تو ان کے متعلقہ نمائندہ نے کہا کہ درخت چوری ہوتے ہیں اس لئے ہم نے تمام درخت محکمہ جنگلات کے حوالے کر دئے ہیں آپ ڈی ایف او سے سے ملیں ڈی ایف او سے جب اس بابت بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہماری حد میں یہ علاقہ نہیں آتاہمارا اختیار نئے پل تک ہے آگے کی جگہ محکمہ واپڈاکی ہے آپ اے آر ای گرڈ اسٹیشن واپڈا سے بات کریں درخواست گزار جب اے آرای سے اس بابت ملنے ان کے آفس گئے تو پتہ چلا کہ وہ چھٹی پر ہیں وہ یکم جولائی کو آئیں گے اس کی بابت جب دوبارہ اے سی رینالہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں ایکسین انہار اور اے آر ای واپڈا سے بات کرتی ہوں لیکن تاحال کوئی امید کی کرن نظر نہیں آ رہی کہ عوام کے دکھوں کا مد ا وا جلد ممکن ہو سکے گا۔ اس بابت درخواست گذار سے پوچھا گیا کہ آپ نے فلاحی کام کروانا تھا اس کا کیا بنا تو اس نے کہا مجھے اس بارے میں ایک لطیفہ یاد آیا ہے جو میں آپ سے شیئر کر وں گا کہ ایک پاکستانی سعودی عرب گیا اس کی وہاں کسی وجہ سے سعودی سے لڑائی ہوگئی اس نے اس کو دو تھپڑ مار دیے معاملہ قاضی تک جا پہنچا قاضی نے پاکستانی سے پوچھا کہ آپ سعودی قانون کے تحت کاروائی چاہتے ہیں یا پاکستانی ۔ اس نے کہا کہ میں پاکستانی قانون کے مطابق سزا دیں قاضی نے تاریخ ڈال دی کہ آپ فلاں تاریخ کو پیش ہوں پاکستانی اس تاریخ کو پیش ہوا تو قاضی نے تاریخ اور آگے بڑھا دی ۔ اس طرح قاضی تاریخ پہ تاریخ دیتا رہا یہاں تک کہ پاکستانی کافی عرصہ قاضی کے سامنے پیش ہو تا رہااور آخر کار تنگ آگیا اور قاضی سے کہا کہ مجھے سعودی قانون کے مطابق سزادے دیں قاضی نے سعودی کو بلا یا اور اس سے پوچھا کہ پاکستانی نے آپ کو کتنے تھپڑ مارے سعودی نے کہا کہ دو قاضی نے کہا کہ قانون کے مطابق آپ اس پاکستانی کو دو تھپڑ ماریں او ر دو نوں گھر جائیں ۔ درخواست گزار نے ہنستے ہوئے کہامیرا تو محکموں نے پاکستانی جیسا حال کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں  موجودہ حکمران عوامی منڈیٹ پر تجارت کر رہے ہیں سید صمصام علی بخاری