شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ملاح اورمداح

ملاح اورمداح

پاکستان اورچین کی دیرینہ” دوستی” کے کئی” دشمن ”ہیں،ایک” زمانہ” ان کا”یارانہ” توڑ ناچاہتا ہے مگر جو تعلق فطری اورسودوزیاں سے بے نیازہوں وہ اٹوٹ ہوتے ہیں۔بھارت اوراس کا بھگت اسرائیل اپنے آقا امریکاکے آشیرباد کے باوجود پاکستان اورچین کے کسی جوائنٹ ایڈونچر کاکچھ نہیں بگاڑسکتے۔سات سمندرپارامریکا کی” محبت ”میں اپنے دوہمسایوں پاکستان اورچین سے شدید”نفرت” بلکہ بدترین دشمنی میں بھارت کیلئے سراسر گھاٹا ہے۔پاکستان اورچین ایک دوسرے کیلئے آئیڈیل پڑوسی ہیں،یہ دونوں ملک دوستی کے کئی امتحان” پاس” کرتے کرتے ایک دوسرے کے بہت ”پاس ”آگئے ہیں،اب دنیاکا کوئی ملک ا نہیں کسی معاملے میں ” بائی پاس” نہیں کرسکتا۔پاکستان اورچین کی تاریخی دوستی میں جہاں قائدعوام ذوالفقارعلی بھٹو،معمارپنجاب میاں شہبازشریف،ماہرمعدنیات میاں محمدسعیدکھوکھر،متحرک تنظیم ”انڈرسٹینڈنگ چائنہ” کے روح رواں اوردانشورشعیب بن عزیز سمیت کئی شخصیات نے اپنا قابل رشک کرداراداکیا ہے وہاں علم وعرفان اورپاکستانیت کے علمبردار ”مشاہد”حسین سیّد کی پرخلوص اوردوررس خدمات کاایک زمانہ” شاہد” بلکہ مداح ہے،جس ناؤ کے ملاح مشاہدحسین سیّد ہوں اسے کنارے تک آنے سے کوئی طوفان نہیں روک سکتا۔میاں شہبازشریف کوچینی حکام اورعوام پسند جبکہ انہیں ”شہبازسپیڈ”کے نام سے یادکرتے ہیں۔ پاکستان اور چین کی بینظیر دوستی کیلئے شہبازشریف کے دوررس ا قدامات کوفراموش نہیں کیا جاسکتا۔شہبازشریف کے بعدعمران خان اور عثمان بزدار نے جس طرح پنجاب کوتختہ مشق بنایا اس سے شہبازشریف کی سیاسی اورانتظامی اہمیت مزید بڑھ گئی،پنجاب کے سنجیدہ آفیسرز کوبزدار کے ساتھ کام کرناپسند نہیں۔آج لوگ شدت سے شہبازشریف کویادکرتے بلکہ ان کی راہ دیکھتے ہیں۔کپتان نے اپنے معتمد بزدار کی صورت میں نہ جانے پنجاب کے عوام کو کس ناکردہ گناہ کی سزادی ہے۔حکمرانوں کی طرف جہاں شب وروز شہبازشریف پربیجاتنقیدکی جاتی ہے وہاں وہ ان کے منصوبوں پراپنے نام کی تختیاں بھی لگارہے ہیں۔
وطن عزیزپاکستان نے آج تک مشاہدحسین سیّد سے جوکام لیا وہ اس سے بہت زیادہ اہم کام انجام دے سکتے تھے،قادروکارسازاللہ رب العزت کی پاک بارگاہ میں دعا ہے پاکستان میں دانااورتوانا مشاہدحسین سیّد سے ان کی خدادادصلاحیتوں اورتوانائیوں کے مطابق عالمی سطح پر کام لیا جائے کیونکہ ہماراملک اورمعاشرہ اس طرح کی زیرک شخصیت کے ضیاع کامتحمل نہیں ہوسکتا۔راقم نے چند برس قبل ورلڈکالمسٹ کلب کے پلیٹ فارم سے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلہ میں ایک قومی سیمینار میں مشاہدحسین سیّدکوکشمیرکمیٹی کاچیئرمین بنانے کی تجویزدی تو سیمینار میں شریک سنجیدہ شخصیات نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا،بعدازاں راقم نے اپنے کالم میں بھی یہ تجویزتحریرکی صورت میں دہرائی تواسے بہت پذیرائی ملی تھی۔میں نے دیکھا ہے پاکستان سے والہانہ محبت کرنے اوراس کی تعمیروترقی کیلئے بہت کچھ کرنے کاپختہ ارادہ رکھنے والے لوگ نیک نام اورنیک نیت مشاہدحسین سیّدکوبہت پسندکرتے ہیں۔مشاہدحسین سیّد آج تک جس منصب پربھی فائز رہے انہوں نے اپنافرض منصبی اداکرتے ہوئے اپنے ہرعہدے اورعہد کے ساتھ بھرپور انصاف کیا۔پاکستان میں برین ڈرین کاسلسلہ بہت پرانا ہے،مشاہدحسین سیّد سے زیرک اور پروفیشنل بھی بسااوقات اپنی لیاقت،فہم وفراست اوربصیرت کے باوجودسیاسی تعصب کانشانہ بن جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں شہرلاہورکے مقامی ہوٹل میں مشاہدحسین سیّد نے بعنوان” شا ہراہ ریشم کے دیرینہ دوست ” پروقاراورپراثر قومی سیمینار کااہتمام کیاجس میں گورنر پنجاب محمدسرورچوہدری، ورلڈ کالمسٹ کلب کے میاں سیف الرحمن،ڈاکٹرنبیلہ طارق ایڈووکیٹ،سلمان پرویز،چین میں پاکستان کے رضاکارانہ سفیرعامرعلی عامر اوران کے چینی مہمانوں سمیت پاکستان اورچین کی اہم شخصیات شریک تھیں۔اس قومی سیمینار کے انعقاد سے مشاہدحسین سیّد اپنے تعمیری مقاصدحاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب رہے۔مشاہدحسین سیّدکی شخصیت اسلامیت،انسانیت اور پاکستانیت کی آئینہ دار ہے۔وہ پاکستان اورچین کے درمیان نہ صرف انتہائی پائیداراورخودکار” پل” کاکرداراداکررہے ہیں بلکہ وہ دو سچے دوست ملکوں کے درمیان مزید پل بھی بنارہے ہیں۔اس سیمینار میں سی پیک بارے کئی ابہام انتہائی مہارت سے منطقی انجام تک پہنچادیے گئے،میں نے سیمینار میں سی پیک بنتااوربھارت روتاہوادیکھا۔گورنر پنجاب محمدسرورچوہدری اورمشاہدحسین سیّد سمیت چینی مقررین نے انتہائی موثر اورعام فہم اندازمیں وہ سب کچھ کہا جوکہناناگزیر تھا۔مشاہدحسین سیّد کی تقریرمیں ہراس شخص کیلئے امید اورنوید تھی جس کادل پاکستان اورچین کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی اٹوٹ جبکہ سی پیک کی تعمیروتکمیل اٹل ہے،سیمینار کے شرکاء اس احساس اورادراک کے ساتھ ہوٹل سے خوش خوش اپنے گھروں کولوٹ گئے۔
پاکستان اورچین ایک دوسرے کاہاتھ مضبوطی سے تھام کر پراعتماد انداز سے اپنے اپنے روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں اوربیشک سی پیک دونوں کی معاشی خوشحالی کاروڈ میپ ہے۔سی پیک کی تعمیراوراس کی کامیابی نوشتہ دیوار ہے۔سی پیک جہاں پاکستان اورچین کی آنکھوں کاتارا ہے وہاں یہ کئی دشمن ملکوں کی آنکھوں میں کانٹابن کر کھٹکتااورچبھتا ہے اوروہ حاسدملک ا س کی تعمیر کیخلاف ہرتدبیرکرنے کیلئے متحد اورمتحرک ہیں۔ انتہاپسنداورمتعصب نریندرمودی جوخطیروسائل سی پیک کامنصوبہ بلڈوز کرنے کیلئے جھونک رہا ہے اس سے وہ بھارتی شہریوں کی زندگی میں آسانیاں پیداکرنے کیلئے اپنے دورافتادہ شہروں کے درمیان شاہرا ہوں کاجال بچھا سکتا ہے۔ شیرشاہ سوری زندگی بھر انسانوں کیلئے آسانیاں پیداکر نے کیلئے کوشاں رہے،ان کے دورمیں کئی شاہراہیں تعمیر ہوئیں اور کئی دہائیوں بعدبھی ایک زمانہ شیرشاہ سوری کے دورمیں بنائی جانیوالی شاہراہوں سے مستفیدہورہاہے تاریخ میں شیرشاہ سوری ایک ہیروکی حیثیت سے زندہ ہیں جبکہ نریندرمودی زندہ ہوتے ہوئے بھی ولن ہے جبکہ موت کے بعدبھی تاریخ کے اوراق میں اسے ایک ولن لکھاجائے گا،متعصب مودی نے بھارت کواسلام کیخلاف نفرت کی آگ میں جھونک دیا،اب اس آگ میں کس کس کی” چتا” جلتی ہے یہ آنیوالے دنوں میں معلوم ہوجائے گا۔پاکستان کیلئے بھارت کے بازو آزمائے ہوئے ہیں،وہ ہمیشہ چھپ کرپیٹھ پروارکرتا ہے لیکن اس بار وہ اپنے کسی مذموم ارادے میں کامیاب نہیں ہوگالہٰذا ء وہ اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی اورسہولت کاری کے باوجود سی پیک کونقصان نہیں پہچا سکتاتاہم دشمنی ترک کرتے ہوئے اس کایاپلٹ دینے کے حامل منصوبہ سے بھرپورفائدہ ضروراٹھاسکتا ہے۔کسی کاپڑوسی دوست ہو نہ ہومگردشمن ہرگز نہ ہو،بھارت اپنے دو پڑوسی ملکوں کوجو ایٹمی قوت بھی ہیں،ان کے ساتھ تصادم تودرکنار تناؤکابھی متحمل نہیں ہوسکتا۔جوبھارت اپنے بڑے حجم اورزعم کے باوجودپاکستان کی پیشہ ورافواج کامقابلہ نہیں کرسکتا وہ سپرپاور چین کے مدمقابل کس طرح آئے گا۔بھارت کے نادان حکمران یادرکھیں ان کے زعم نے ہربارا نہیں نیااورگہرازخم دیا ہے۔بھارتی فوج میں تبدیلی کے باوجود وہاں انتہاپسندفوجی حکام کا مائنڈسیٹ تبدیل نہیں ہوا،نیا آرمی چیف بھی اپنے پیشروکے نقش قدم پرچل پڑاہے۔گھمنڈی مودی کی طرح بھارت کے فوجی حکام بھی اپنے انتہاپسند عوام کوخوش کرنے کیلئے بڑی بڑی ڈ ینگیں مارتے ہیں۔پاکستان اورچین نے بڑے منصوبہ کی حفاظت کابھی یقینا بڑا انتظام کیا ہے۔سی پیک کی تعمیر اس منصوبہ کے دونوں بڑے سٹیک ہولڈرز کابنیادی حق ہے لہٰذاء اس سلسلہ میں بھارتی تحفظات یاسی پیک کیخلاف خفیہ مزاحمت کی کوئی حیثیت نہیں۔ سی پیک کی تکمیل سے یقینا پاک چین دوستی امرہوجائے گی اوردونوں ملک سی پیک کے معاشی ثمرات سے مستفید ہوں گے۔
مشاہدحسین سیّد کسی بھی موضوع پراظہارخیال کر تے ہوئے جو منفردمگرعام فہم لفاظی استعمال کرتے ہیں اس سے ان کی تقریر بہت پرتاثیر ہو جاتی ہے۔وزیراعظم عمران خان کا ضرورت سے زیادہ بولنا مگراپنی باتوں کونہ تولنا ان کیلئے مسائل پیداکررہا ہے وہ مشاہدحسین سیّد سے کچھ سیکھیں۔ وزیراعظم عمران خان کو”الٹی ” کرنے میں چندسیکنڈ مگر اسے صاف کرنے میں گھنٹوں بلکہ ہفتوں اورمہینوں لگ جاتے ہیں مگر صفائی کاکام پھربھی باقی رہ جاتا ہے۔وزیراعظم عمران خان اپنے مختلف سرکاری امورانجام دینے کیلئے پروفیشنل آفیسرزاور اہلکاروں کی بریگیڈ ہوتے ہوئے بھی پیغام رسانی بلکہ اپوزیشن کے ساتھ چھیڑخانی کیلئے ٹوئیٹر کااستعمال کیوں کرتے ہیں،دوسراانہیں ہرمعززمہمان کے ساتھ ملتے ہوئے ٹانگ پرٹانگ رکھ کربیٹھنے کی عادت چھوڑناہوگی کیونکہ دوسروں کے روبرو اس طرح بیٹھنا تکبر کے زمرے میں آتا ہے جبکہ انہیں ڈیلیورکرنے کیلئے تدبراورتحمل کی ضرورت ہے۔اگر تخت لاہورپرکوئی ”بردبار” وزیراعلیٰ براجمان ہوتاتووہ چندروز قبل بلوچستان کے ہم منصب جام کمال سے ملاقات کرتے وقت ٹانگ پرٹانگ رکھ کر نہ بیٹھتا لیکن یہ شایدوزیراعظم کی تربیت کااثر ہے جوعثمان بزدار کے بھی پرنکل آئے ہیں۔وزیراعظم کے دیکھادیکھی ان کی مشیراطلاعات اورڈی جی آئی ایس پی آرنے بھی ٹوئیٹر پرمحاذسنبھال لیا ہے،اگر انہیں پریس ریلیز ایشوکرناپسند نہیں تو وہ اپنے ماتحت اہلکاروں کوتنخواہیں کس کام کی د ے رہے ہیں۔مقروض پاکستان کے وزیراعظم” مقبول” نہیں ” معقول ”فیصلے کریں،موصوف کوجب بھی سردارعثمان بزدار کی قصیدہ خوانی کرتے دیکھتاہوں توپنجاب اوراہل پنجاب پرترس آتا ہے،یوں توعمران خان نے ہردوسرے دن کوئی نہ کوئی یوٹرن لیاہے مگر عثمان بزدار کے معاملے میں یوٹرن ناگزیر ہوتے ہوئے بھی موصوف اپنے متنازعہ فیصلے کے حق میں ڈٹ گئے ہیں۔ عمران خان دوران تقریر بار بار چینی معاشی انقلاب کی بات شوق سے کریں مگر یہ بھی یادرکھیں وہاں ” ضرورتمند”نہیں ”ہنرمند "لوگ ہیں۔ پاکستان” لنگر خانوں ” اور”پناہ گاہوں ” نہیں ”کارخانوں ” سے ترقی کرے گا،چین نے اپنے شہریوں کوہنرمنداورمعاشی طورپرخودکفیل بنایاجبکہ پاکستان کانام نہادنیک نیت وزیراعظم اپنے ہم وطنوں کو خودکفیل بنانے کی بجائے ریاست کامحتاج بنارہا ہے۔امید ہے جولوگ عمران خان کونیک نیت سمجھ رہے تھے ان کی غلط فہمی دورہوگئی ہوگی کیونکہ موصوف نیت اورصلاحیت دونوں سے محروم ہیں۔عمران خان نے جان بوجھ کراپنی طرح کے لوگ اپنے ٹیم ممبر بنائے،اگرموصوف نظام کی تبدیلی کے ایجنڈے پرہوتے تومشاہدحسین سیّد،انوارالحق کاکڑ،سردارذوالفقارعلی خان کھوسہ اورمیاں محمدسعیدکھوکھر سے لوگ ان کے ٹیم ممبر جبکہ میاں اسلم اقبال ٹیم میں اس سے بہتر پوزیشن پر ہوتے۔معاشرے کے اوباش اور شرپسندعناصر تبدیلی سرکار کی نام نہاد پناہ گاہوں سے مستفیدنہیں ہورہے،اس بات کی ضمانت کون دے گا۔ دن بھرکی آوارگی اورہرقسم کی بیہودگی کے بعدکوئی بھی رات کے اوقات میں اپناسریاخودکو”چھپانے ”کیلئے پناہ گاہ میں ”پناہ” لے اورمقروض ملک کے وسائل پرعیش کر سکتا ہے۔ان پناہ گاہوں سے زیادہ بحالی مراکز کی ضرورت ہے جہاں منشیات کے عادی افراد کوداخل کیا جائے،کیا ریاست ان بچوں کی ماں نہیں جومنشیات کی تاریک راہوں پرچل پڑے ہیں۔دعا ہے آئندہ انتخابات میں پاکستان کے عوام کسی” مقبول” نہیں بلکہ” معقول ”لیڈر کواپناوزیراعظم منتخب کریں جوان کانجات دہندہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں  سرگودھا:گلےسڑے مضرصحت اورغیرمعیاری گوشت کی خریدو فروخت پرنوٹس

What is your opinion on this news?