پاکستانتازہ ترین

پاکستان کےلوگ بہت مہمان نوازاورمشکل وقت میں ہمیشہ متحد ہوتے ہیں‘ ملالہ یوسفزئی

malalaلندن﴿مانیٹرنگ سیل﴾ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں اوروہ مشکل وقت میں ہمیشہ متحد ہوتے ہیں‘ سوات میں جنگ کے دوران جب ہم نے نقل مکانی کی تو ملک کے لوگوں نے ہماری اسطرح مدد کی کہ ہمیں کبھی یہ محسوس نہیںہوا کہ ہم بے گھر ہیں اور یہی وہ قومی جذبہ ہے جسے دنیا جانتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو آکسفورد یونیورسٹی میں اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران کیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں خطاب کرنے کا اعزاز رکھنے والے نیلسن منڈیلا‘ مدرٹریسا اور دیگر نمایاں شخصیات میں شامل ہونے والی ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ وہ سارا کریڈٹ اپنے والدین کو دیتی ہیں جنہوں نے مجھے لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کیلئے جدوجہد کرنے کی ترغیب دلائی‘ انہوں نے اپنے مقصد کی حمایت کرنے پر دنیا بھر کے لوگوں کا شکریہ اداکیا اس سال نوبل انعام کیلئے نامزد ہونے والی ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ دنیا کو محرومیوں کے شکار معاشروں میں تعلیم کے حق کیلئے جدوجہد کرنے کا احساس کرنا ہوگا جیسا کہ سوات میں لوگوں کو اس وقت احساس ہوا جب انہیں تعلیم کے حق کی فراہمی سے انکار کیا گیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں طلبائ اور اساتذہ کے ہجوم کی موجودگی میں پینل انٹرویو کے دوران ملالہ نے اسلام اور پختون ثقافت میں امن اور تعلیم کی اہمیت پر بھی روشنیڈالی۔ ملالہ نے کہا کہ اسلام ایک پر امن مذہب ہے اور یہ ہمیں دوسروں کے ساتھ رحم کا برتائو کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہم دوسروں کو سلام کرکے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ پر سلامتی ہو ہمارے دادا نے ہمیشہ ہمیں وہ قرآنی آیات یاد دلائی ہیں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے انہوں نے کہاکہ اسلام تعلیم کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور قرآن مجید کی نازل ہونے والی پہلی آیت بھی اقرائ تھی جس کا مطلب ہے ’’پڑھ‘‘ ہماری نبی(ص) نے فرمایا کہ علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے چین بھی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہ وہ اقدار ہیں جو ہم پاکستان میں اپنے گھر‘ سکول اور اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں ۔ ملالہ کے والد ضیائ الدین یوسفزئی جو اس موقع پر موجود تھے نے کہا کہ عام تاثر سے برعکس پشتون ثقافت میں امن اور تعلیم کی خواہش عام پائی جاتی ہے۔ ہمیں نمایاں پشتون شخصیات‘ خوشحال خان خٹک ‘ باچا خان کو نمایاں کرنا ہوگا جنہوںنے ہمیں انسانیت اور علم حاصل کرنے کا درس دیا۔ جب ان سے سوات میں سکول چلانے کے تجربے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کے لئے غریب خاندانوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے اپنی زمین اور زیور تک فروخت کردیئے ہیں۔ ضیائ الدین یوسفزئی جو ملالہ کے باپ ہیں اور وہ اس کے ساتھ موجود تھے نے پاکستان جیسے ملکوں میں خاندانی قربت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مغرب اس اقدار سے اس طرح سبق حاصل کر سکتا ہے جس طرح ہم مغرب سے سیکھ سکتے ہیں اور اس کی مدد سے تعلیم جیسے شعبوں میں فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ملالہ نے کہا کہ اب ان کی توجہ اپنی تعلیم پر ہوگی حالانکہ میں نے پاکستان میں اپنے دوستوں اور سکول کی بہت کمی محسوس کی لیکن برمنگھم میں سکول میں پڑھنے کا خوشگوار تجربہ حاصل ہوا ہے جہاں اسلام کے بارے میں بھی پڑھایا جاتا ہے انہوں نے ملالہ فنڈ کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم کے عالمی مقصد کا مشن جاری رکھنے کا دعویٰ کیا اس موقع پر انہیں آکسفورڈ ‘ یونین کی اعزازی ممبر شپ سے بھی نوازا گیا جس کی ماضی میں بے نظیر بھٹو نے قیادت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں  ملالہ حملہ، ملزمان کی گرفتاری پر ایک کروڑ انعام

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker