تازہ ترینعلاقائی

ملالہ یوسف زئی جیسی باہمت،جرات منداوردلیر بیٹیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں،ذیشان انصاری

ڈسکہ( پریس ریلیز ) ملالہ یوسف زئی جیسی باہمت ، جرات منداور دلیر بیٹیاں صدیوں کے بعد پیدا ہوتی ہیں ، جو اپنے اور دوسروں کے انسانی حقوق کی سر بلندی کے لئے جدو جہد کرتی ہیں ۔ وہ اپنے سروں پر لٹکتی خطروں کی تلوار کی پرواہ کئے بغیراپنا مشن جاری رکھتی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سکرٹری انفارمیشن کالمسٹ کونسل آف پاکستان ذیشان انصاری نے اپنے ایک بیان میں کیا، انہوں نے کہا مینگورہ ضلع سوات میں سکول جاتے ہوئے راستے میں دہشت گر د طالبان کے ہاتھوں قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والی کم سن بچی ملالہ یوسف ز ئی اور ا س کی ساتھی طالبات پر قاتلانہ حملے کی پر زور مذمت کرتا ہوں اور اس کو جہالت، جبر اور انتہا پسندی کی بدترین شکل قرارر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ دہشت گرد اور انتہا پسند طالبان کی بزدلانہ حرکت ہے ،جس سے انہوں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ ان کی بہیمانہ کاروائیوں سے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا ریاست اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقا ت کرائے اور اس میں ملوث افراد اور گروہوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے ۔ایسے تمام عناصر جو سماج میں خوف و حراس اور دہشت پھیلاتے اور بے قصور شہریوں کے خلاف اقدامات کرتے یا وہ جو ایسے افراد کو اکساتے ہیں ، ان پر فوری طور پر پابندی لگائے اور ان کے مقاصد کو سامنے لائے ۔ ملالہ کے علاج و معالجہ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اس کے مشن کو مضبوط کیا جائے ۔ ایسے قوانین مرتب کئے جائیں ، جن کے زریعے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری اور موثر کاروائی کی جا سکے ۔ بیان میں علم اور امن کی ترقی کے لئے کم عمر ملا لہ یوسف زئی کی سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہو ئے کہا گیاہے کہ اس نے سوات جیسے پس ماندہ علاقے میں اپنے جیسی دوسری بچیوں کی تعلیم اور امن کے لئے ان تھک کوششوں سے پوری دنیا کو ایک خوشگوار حیرت میں ڈال دیا ۔ وہ کم سنی کے باوجود اپنے کندھوں پر اپنے ملک وقوم کی لاکھوں بیٹیوں کے لئے علم و ہنر کے دروازے کھولنے اور امن کی راہیں ہموار کرنے کے لئے چل پڑی تھی ۔ کیا یہ اس کا قصور تھا ؟ کیا وہ ایسی سزاء کی مستحق تھی ؟ وہ قوم وملک کی ایک فرض شناس ، باہمت بیٹی ہے اور قوم کا قیمتی سرمایہ ہے ،جس نے بیرون ملک پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ، کیا اس کے ساتھ یہ بزدلانہ سلوک واجب تھا ؟جو اسلام کے ان نام نہاد ٹھیکیداروں نے کیا ؟ کیا اسلامی تعلیمات انہیں یہ سکھاتی ہیں کہ بچیوں کے ساتھ ایسا بے رحم اور سنگدلانہ سلو ک روا رکھا جائے ؟ ملالہ تو علم کی روشنی پھیلانے اور امن کی شمعیں جلانے نکلی تھی ، جو کہ اسلام کا بھی ایک اہم پیغام ہے کہ علم حاصل کرو اور علم پھیلاؤ ۔۔ ملالہ !تیری ہمت، تیری دلیری کو ہم سلام پیش کرتے ہیں تم ،ہم سب کی طاقت ہو ، جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی مقصد کے سامنے کوئی خوف، کوئی خطرہ معنی نہیں رکھتے ،۔ تو تو بہادر اور دلیر عورتوں اور لڑکیوں کے لئے بہادری اور اپنے مقصد کے سامنے ڈٹے رہنے کی علامت ہے ۔ ملالہ! تو نے کر دکھایا ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ تم س علم اور امن پھیلانے کے اس مقصد میں تنہا نہیں ہو ہم کالمسٹ کونسل آف پاکستان کے تمام ممبر تمہارے ساتھ ہیں

یہ بھی پڑھیں  سوشل میڈیا پر امیرجماعت اسلامی سراج الحق کی تصویر کی دھوم،حقیقت اس کے برعکس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker