تازہ ترینکالممیرافسر امان

ملالہ کی کہانی اور کتاب (چھٹی قسط)

mir afsarہم نے ملالہ کے متعلق پچھلے پانچ کالموں میں عرض کیا تھا کہ ملالہ کا ڈرامہ ویسا ہی ہے جیسے سوات کے کوڑوں والی لڑکی کا تھا جسے بیرونی فنڈڈ ملکی غیر ملکی میڈیا نے آسمان پر اُٹھایاتھا ۔ ایک خاص ذہن کے کالم نگاروں نے کالم پر کالم لکھے تھے۔ جس کا بعد میں ڈرامہ کرنے والوں نے اعتراف بھی کیا تھا۔ پاکستان کی عدلیہ نے اس ڈرامے کو جھوٹا ثابت کیا تھا۔ کاش ملالہ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہو یا کوئی امریکی کریگ مونٹیل کے طرح زندہ ضمیر انسان بول اُٹھے کہ یہ سب جھوٹ تھا۔ آئے دن بیرونی این جی اوز، بیرونی فنڈڈ کالم نگاراور میڈیا ہمار ے ملک میں اپنے بیرونی آقاؤں کی ضرورت کے لیے ایساکرتے رہتے ہیں۔ ان کا خصوصی نشانہ ہمارے ملک میں مسلمان خواتین کے خلاف نام نہاد ظلم کی بنی بنائی داستانیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ عیسائی دنیا میں عورتوں پر مظالم کی اور ان کا اسلام قبول کرنا ہے۔ بجائے عیسائی اپنے ملکوں میں اصلاح کی کوششیں کر کے اپنی عورتوں پر مظالم ختم کر یں وہ اسلامی دنیا اور خاص کر پاکستان میں عورتوں پر مظالم کے واقعات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے رہتے ہیں تاکہ ان کی عورتیں اسلام سے متنفر ہوں اور اسلام قبول نہ کریں۔ اس میں ہمار ے نادان لالچی کالم نگار اور بیرونی فنڈڈ میڈیا ان کی مدد کرتا رہتا ہے۔ پہلے مائی مختاراں کے واقعے پر اس کو امریکا بھیجا گیا وہاں اسے پورے امریکا میں گھمایا گیا اس کی کہانی کو پوری دنیا میں پھیلایا گیا ۔یہودی؍عیسائی میڈیا نے اس کی خوب تشہیر کی۔ اُسے درجنوں ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اُس کی سوانح حیات بھی لکھی گئی جیسے اُس نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کیا ہو۔اس کے بعد ملالہ کی کہانی اورکتاب کو تشہیر دی گئی۔سینکڑوں انعامات سے نوازا گیا جیسے سکندر اعظم سے بھی زیادہ فتوحات کی ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ ملالہ کے باپ نے گلوبل پیس کے نام سے ایک این جی او قائم کی تھی اس کے ذریعے سی آئی اے سے فنڈ حاصل کرتا رہا۔ سی آئی اے کے لوگوں سے ضیاالدین یوسف زئی کی ملاقاتوں کے فوٹو سوشل میڈیا نے جاری کئے تھے۔ ملالہ کے ڈرامے کی پلانگ کے لیے ان سے ملاقاتیں میں کرتا رہا تھا۔ اس کی تصویریں سوشل میڈیانے جاری کی تھیں۔ اس کی مدد کرنے والے ایک امریکی جرنلسٹ جو بھیس بدل کر مصنوعی چہرا بنا کر کام کر رہا تھا کی بھی تصویر جاری کی تھی۔ مقامی کالم نگار اور لوگ اس بات کو بار بار بیان کر رہے ہیں کہ ملالہ نے تعلیم کی لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ صرف پروپیگنڈہ ہے۔ بلکہ اب بھی ملالہ کے والد ضیاالدین یوسف زئی کو اپنے کالموں میں طعنے دیتے ہیں کہ اس نے لالچ میں آکر پٹھانوں کے کلچر کو بدنام کیا۔ پہلے بی بی سی کے مقامی بیورو چیف نے جس نے دہشت گردی کی آڑ لے کر طالبان کو بدنام کرنا تھااس کی ڈائری گل مکئی کے مصنوعی نام سے لکھنی شروع کی ۔ بی بی سی سے اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ پاکستانی میڈیا نے بھی اس کی خوب شہیر کی۔ بی بی سی کا مقامی بیورو چیف ترقی پا کر نیوز پروڈیوسر بن گیا۔ پہلے ہی دن پریس میں خبر آئی تھی کہ ملالہ کو سر اور گردن میں دو گولیاں لگی ہیں۔ زخمی سر اور گردن کا کوئی فوٹو جاری نہیں کیا گیا۔ بلکہ آج تک نہ گردن والے زخم کی کوئی تصویر جاری کی گئی نہ سر کی ایسی تصویر جس سے ظاہر ہو کہ آپریشن کے لیے سر کے بال کاٹے گئے اور سر کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ بلکہ سوشل میڈیا نے لندن میں بنائی گئیں ملالہ کی صاف ستھری چہرے کی تصویں جاری کی ہیں۔ جب زخمی ملالہ کو سوات سے پشاور منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر میں سوار کرنا تھا تو ملالہ سرخ کپڑوں میں ملبوث چل کر ہیلی کاپٹر پر اپنے والد کے ساتھ جارہی تھی جس کا فوٹو سوشل میڈیا نے جاری کیا تھا پھر اسی سرخ کپڑوں والی لڑکی کا پشاور ہسپتال میں ڈاکٹر معائنہ بھی کرتے دکھائے گئے ہیں ۔کالم نگار شہزاد عالم کے مطابق سوات میں دہشت کے دورمیں ملالہ اپنے والد کے ساتھ ایبٹ آبا میں مقیم تھی جب اپنے والد کے ساتھ سوات واپس آئی اورامن کے بعد۲۰۰۹ء میں اخپل کور ماڈل اسکول میں امن کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا جس میں یوسف زئی صاحب بھی شامل تھے اس میٹنگ میں مقامی سواتی حضرات نے جس میں غلام قادر سپین دادا نے ضیاء الدین یوسف زئی کو کھری کھری سنائیں اور سرزنش کی اور کہا کہ اس سازشی کھیل کو ختم کرو!یہ ہیں ملالہ کہانی کے مقامی چشم دید لوگ جن کے خیالات ہم نے قلم بند کئے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ چاند اخبار سوات میں مرزا عبدالقدوس کے ایک مضمون میں سب حقیقت بیان کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سلطان روم نے اخبار آزادی سوات میں بھی پانچ قسطوں میں ملالہ کہ کہانی بیان کی ہے۔ 
صاحبو! مسلم امت کا یہ حال ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں عیسائی دنیا میں مسلمان کیمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کی رپورٹ بھی موجود ہے۔پوری دنیا میں عیسائیوں 
نے لاکھوں دہشت گردی کے واقعات کو مسلمانوں سے جوڑ کر نیٹ پر ڈال دیا ہے ۔ میں نے نیٹ پر’’ وکی مسلم‘‘ کے نام سے تقریباً ۶۰ صفحوں سے زیادہ میں پرنٹ نکال کر رکھے ہیں۔ ہندوستان نے بھی ایک ا یسی ہی پوسٹ نیٹ پر ڈالی تھی میرے فوٹو نکانے سے پہلے ہی کسی وجہ سے ہٹا دی گئی تھی۔ میں نے یہ پرنٹ محفوظ رکھے ہوئے ہیں اس خواہش کے ساتھ کہ کاش کوئی اس کا جواب دینے والا ہو؟ ۹؍۱۱ کے بعد مہم کے طور پر مسلمانوں کے خلاف ایسے واقعات سے پریس بھری پڑی ہے امریکہ میں مسلمانوں نے عدالت

یہ بھی پڑھیں  وزیر اعظم نواز شریف سے اپوزیشن جرگے کی ملاقات

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker