ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

ملالہ نہیں ڈاکٹر عافیہ ہیروہے

editor k qalam syسحری کے بعد دیکھا کہ ایک ٹی وی چینل سے ملالہ یوسفزئی کی سالگرہ کی خبر نشر کی جارہی تھی۔ جس میں بتایا جارہا تھا کہ ملالہ آج سولہ سال کی ہوگئی ہیں۔ دوسرا چینل تبدیل کیا تو وہ بھی یہ نیوز نشر کررہاتھا حتیٰ کہ تمام چینل کی زینت یہی خبر بنی ہوئی تھی اور ساتھ ساتھ بتایا جارہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کریں گی۔ میں خود بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں اور دوستوں کے ان سوالات سے پریشان بھی ہوں جو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ملالہ کو خود ساختہ ڈرامے کے آغاز سے لیکر اب تک الیکٹرانک میڈیا نے اتنا ہیرو کیوں بنایا ؟ اگر وہ تعلیم کی اتنی خیر خواہ تھی تو پھر پاکستان چھوڑ کربرطانیہ کیوں گئی جبکہ ملک کے خیر خواہ تو ملک کے لیے جان دے سکتے ہیں مگر ملک سے بھاگ نہیں سکتے ؟ کیا پاکستان میں تعلیم نہیں ہے؟ پاکستان میں ہر روز کہیں نہ کہیں دھماکے ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر حادثات میں بہت سے والدین کے لخت جگر حصول تعلیم کے لیے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر ان کو میڈیا کیوں نہیں ہیرو بناکر پیش کرتا ہے؟کیا بھٹو، ضیاء اور بے نظیر سے زیادہ ملالہ کو خطرہ ہے؟ کیا یہ لوگ ملک چھوڑ کر چلے گئے؟
بدقسمتی یہ ہے کہ جو اس ملک کی اصل ہیرو ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے میڈیا گھبراتا ہے۔ صرف پرنٹ میڈیا ہے جو کالمسٹ کے کالم کو اپنے اخبارات میں جگہ دے کر اس کی رہائی کے لیے آواز بلند کرتا ہے ۔ اور اس ہیروسے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے اگر انجان ہے تو ہمارے حکمران اور الیکٹرانک میڈیا والے ۔
پرنٹ اور سوشل میڈیا مسلسل ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی آواز اٹھا رہا ہے۔ شروع شروع میں توچند سماجی و سیاسی تنظیموں اور بہت سی این جی اوز نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے صدا بلند کی مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی صدا ایسے بیٹھتی گئی جیسے دھول بیٹھ جاتی ہے ۔ اسی طرح یہ کوششیں بھی بیٹھ گئیں۔آج اگر کسی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں تو ان میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی (ڈاکٹر عافیہ کی بہن ) مجتبیٰ رفیق (چئیر مین وائس آف یوتھ)اسلم خٹک (جنرل سیکرٹری پی ایم ایل ا ین ڈسٹرکٹ سنٹرل کراچی)اور بہت سے کالمسٹ بھی شامل ہیں۔
ہر محب وطن پاکستانی کی طرح میںیہاں یہ واضح کردوں کہ ملک میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کرنے والے لوگوں کی میں پرزور مذمت کرتا ہوں اور ایس حرکت کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں جو ناحق لوگوں کا قتل عام کررہے ہیں۔مگران لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اسلام کی سر بلندی کے لئے دن رات کا م کر رہے ہیں۔ ملالہ اورڈاکٹرعافیہ دونوں پاکستان کی بیٹی ہے۔دونوں کا مشن بھی ایک ہے ۔ ملالہ تعلیم کے حصول کی اگر بات کر رہی تھی اس گناہ پر اگر کسی نے اْس پر گولی چلائی تو وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ وہ سزا کا مستحق بھی ہے۔ مگر جب ہم کہتے ہیں کہ ملالہ نے پا کستان کا سر فخر سے بلند کردیا ہے تو ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ درحقیقت ڈاکٹر عافیہ عالم اسلام اور پاکستان کے سر کا تاج ہے کیونکہ ڈاکٹر عافیہ نے اپنا آئیڈیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا ہوا ہے جبکہ ملالہ کا آئیڈیل لاکھوں مسلمانوں کا قاتل اوبامہ ہے جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ڈاکٹر عافیہ ایک مظلوم اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مسلمانوں کی ہیروہے جبکہ ملالہ غیرمسلم اور میڈیا کی کی ہیرو ہے۔ڈاکٹرعافیہ صدیقی نے 86سال کی سزاغیر منصفانہ ،اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ہاتھوں پائی۔ملالہ نے جہاد کی مخالفت کے نام پردنیامیں نام پایا۔جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی مسلمان سائنٹسٹ ہونے پردہشت گرد کہلائی۔ملالہ نے مسلمان ہونے کے باوجود حجاب اور داڑھی کی مخالفت کی جبکہ ملالہ کو تو برقعہ دیکھ کر پتھر کا زمانہ یاد آتا ہے ۔اوراسی اسلام دشمن نظریات کی بنا پر وہ امن کی فاختہ کہلائی۔
اس وقت دونوں امریکہ میں موجود ہیں۔ ایک امریکیوں کی قید میں اور دوسری اقوام متحدہ کے فورم پر۔ مغربی دنیا ملالہ کوایک مشن کے طورپر استعمال کررہی ہے کیونکہ وہ اسلامی شعائر کی مخالف ہے۔اگر ملالہ یہویوں اور نصرانیوں کی منظور نظر ہوکر بھی پاکستان کی بیٹی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔مگرڈاکٹر عافیہ صدیقی اسلام کامکمل نمونہ ہوکر پاکستان کی بیٹی کیوں نہیں ہے؟پاکستان کے غیرت مند مسلمان خود فیصلہ کریں کہ پاکستان کی حقیقی اور عظیم بیٹی کون ڈاکٹر عافیہ یا ملالہ یوسف زئی؟حکومت وقت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو کب امریکیوں کی چنگل سے آزاد کراتی ہے؟
ملالہ اگر تعلیم اور عورتوں کے حقوق کی اتنی خیر خواہ ہوتی تو آج جب اس پوری دنیا کے سامنے بولنے کا موقع ملا تو وہ اس فورم پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے آواز بلند کرتی اور دو ٹوک الفاظ میں کہتی کہ ’’میری بہن ڈاکٹر عافیہ جو اس وقت امریکہ کی قید میں اس کو فوراً رہا کیاجائے۔ اس کو کیوں ناحق سزا دی جارہی ہے ‘‘ مگر افسوس اس کا مشن یہ نہیں ہے اس کا مشن تو کچھ اور ہے۔ کل کے ایک اخبار میں خبر دیکھی جس میں طالبان نے ملالہ کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان آکر اپنی تعلیم مکمل حاصل کرے کیا ملالہ اس دعوت کے لیے تیار ہوگی ؟ ناممکن۔
اس کالم کے ذریعے اپنی اور تمام پاکستانیوں کی آواز میاں نواز شریف تک پہنچاتے ہوئے ان کوا یک بار پھر یاد کراتا چلوں کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ عافیہ کو ضرور رہا کرائیں گے۔ میاں صاحب اس معاملے میں بھی ایٹمی دھماکوں کی طرح بولڈ فیصلہ لیں ۔ کمیٹیاں بنانے سے کیا فائدہ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ’’کمیٹی بناؤ اور مٹی پاؤ‘‘جس طرح آپ نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستانی عوام کو خوش کیا اسی طرح اب فی الفور فیصلہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایسے پاکستان لاؤ جیسے ریمنڈڈیوس کو سابقہ حکومت نے پاکستان سے بھیجا تھاتاکہ پاکستانیوں کا ریمنڈڈیوس والا غم غلط ہو ۔
الیکٹرک میڈیا نے جتنا ملالہ یوسفزئی کو ہیرو بنا کر پیش کیا ہے اس سے زیادہ ہیرو تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی مہم چلانے والا مجتبیٰ رفیق (جس نے ایٹمی دھماکے کے دن کا نام یوم تکبیر تجویزکیا تھا)ہے کیونکہ ملالہ تو اس حادثے کے بعد پاکستان چھوڑ کربرطانیہ شفٹ ہوگئی مگر یہ مجتبیٰ رفیق وہ شخص ہے جو انگلینڈمیں اپناسب کچھ چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہوا تاکہ اپنے ملک کی خدمت کرسکے۔مجبتیٰ رفیق اس وقت غربت و افلاس کے دن گزاررہا ہے اور ملالہ ڈالروں میں کھیل رہی ہے۔ ہیرو وہ ہوتے ہیں جو ملک کے لیے کچھ کریں وہ نہیں جو اپنی جان کے ڈر سے ملک سے ہی فرار ہوجائیں۔ عزت و ذلت اور زندگی و موت تو اللہ کے اختیار میں ہے جب موت آنی ہے تو اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا ۔
میاں صاحب ان باتوں کو آپ سے زیادہ بہتر کون جانتا اور سمجھتا ہے ۔بس ایک فیصلہ لینے کی دیر ہے ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی مریم نواز جیسی بیٹی کو باعزت پاکستان لا کر امر ہوتے ہیں یا پھر سابق حکومت کی طرح عوامی بددعائیں اپنا مقدر ٹھہراتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button