تازہ ترینکالمنعیم خاں اتمانی

تبدیلیوں کی راہ پر

ضلع چکوال کے حلقہ NA-60 اور حلقہNA-61 دونوں حلقوں کا سیاسی منظر نامہ بہت تیزی سے بدلنا شروع ہو گیا ہے ۔دو قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لئے 25 کے لگ بھگ امیدوار پر تول رہے ہیں۔ پاکستان کی چار بڑی سیاسی قوتیں جن میں مسلم لیگ (ن)،مسلم لیگ (ق) ،پیپلز پارٹی ،اور تحریک انصاف شامل ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ تحریک انصاف کو ضلع چکوال میں جانتا بھی کوئی نہیں تھا۔ اور جب عمران خان نے سونامی لا نے کا اعلان کیا ضلع بھر میں تحریک انصاف کا بول بولا ہو گیا تھا جس سے متا ثر ہو کر سابق ضلعی ناظم سردار غلام عباس ،سابق ایم این اے سردار محمد فیض ٹمن اور سابق ایم پی اے کر نل سلطان سرخرو نے بھی شمو لیت کر لی ۔ایک بہت عروج کا سما ں تحریک انصاف کو ملا ۔ لیکن حالات اب ایسی صورت حال پہ دیکھا ئی دے رہے ہیں ۔ کہ تحریک انصاف پو رے پا کستان کی طرح ضلع چکوال میں بھی بری طرح پٹتی دیکھا ئی دے رہی ہے ۔
سردار غلام عباس خان کا مضبوط دھڑہ ضلع چکوال میں موجود تھا اور اب حالات سردار غلام عباس خان کا ساتھ نہیں دیتے دیکھا ئی دے رہے ۔ اس کی وجہ عمران خان کی غلط پا لیسیاں ہیں اور سردار غلام عباس خان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ رابطے کی کمی بھی ہے اور سردار غلام عباس خان کا عوامی رابطے کابھی فقدان پایا جا تا ہے ۔عوامی وسیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع چکوال میں سیاسی سطح پر سردار غلا م عباس خان نے بہت عروج دیکھا ۔ لیکن تحریک انصاف میں شمولیت نے سردار غلام عباس خان کو بری طرح سیاسی نقطہ نظر سے فلاپ کر دیا ہے ۔ ق لیگ کی اعلیٰ قیادت کی خواہش ہے کہ سردار غلام عباس خان ایک بار پھر ق لیگ میں واپس آجا ئیں ۔ عوامی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سردار غلام عباس خان ق لیگ میں واپس چلے جا ئیں تو ان کے لئے سیاسی طور پر بہت بہتر ہو گا ۔ چوہدری پر ویز الہی کے قریبی ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ قیادت سردار غلام عباس خان کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے ۔ کہ اگر وہ ق لیگ کا رخ کریں تو قیادت بھی اور ق لیگ کے کارکنان بھی ان کو ویلکم کریں گے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ ن لیگ کے ایم این اے چوہدری ایاز امیر تحریک انصاف میں آجا ئیں ۔ جبکہ عوامی وسیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر چوہدری ایاز امیر کو ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے ٹکٹ نہ جا ری کیا تو یہ ممکن ہے کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہو جا ئیں ۔کیو نکہ ایک طرف ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ایاز امیر کی انڈر اسٹینڈنگ اب وہ نہیں دیکھا ئی دے رہی اور دوسری طرف تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت جہاں ایاز امیر کو ساتھ ملا نے کی خواہش رکھتی ہے وہاں بہت جلد عمران خان اور ایاز امیر کی ملاقات بھی متوقع ہے ۔اور اگر چوہدری ایاز امیر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے اور سردار غلام عباس خان ق لیگ میں چلے گئے تو اس سے ضلع چکوال کا سیاسی منظر نامہ بالکل ہی ایک نیا رخ اختیار کر جا ئے گا۔
جو حالا ت سردار غلام عباس خان کے لگ رہے ہیں وہ تحریک انصاف میں اتنے وقت میں اپنا سیاسی مقام بنانے میں ابھی تک اس لئے بھی ناکام رہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی جڑیں ضلع چکوال میں نہیں تھیں ۔ اور جس طرح ان کو محنت کر نے کی ضرورت تھی ۔ اس طرح انہوں نے تحریک انصاف کو متحرک نہیں کیا ۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ سردار غلام عباس خان کا سیا سی طور پر اپنامنہ ہے اور سردار محمد فیض ٹمن اپنی طرف منہ رکھے ہو ئے ہیں ۔ جبکہ دونوں موجودہ وقت تحریک انصاف میں ہیں۔ جب تک پا رٹی رہنما ؤں میں آپس کا اتفاق و اتحاد نہیں ہو گا ۔ تب تک پا رٹی عوام میں اپنی جڑیں مضبوط نہیں کر سکتی۔ کیو نکہ ایک طرف سردار غلا م عباس کا کہنا ہے کہ میں حلقہ NA-61 سے الیکشن لڑوں گا ۔ جبکہ سردار محمد فیض ٹمن کا کہنا ہے کہ میں حلقہNA-61 سے الیکشن لڑوں گا ۔ اب دو امیدوار تو پارٹی کے ٹکٹ پر ایک ہی حلقہ میں الیکشن لڑنے سے رہے ۔ اور نہ ہی پا رٹی کی اعلیٰ قیادت کے پا س کو ئی ایسا رول ہے کہ وہ دونوں کو حلقہNA-61 کا ٹکٹ جا ری کر سکیں ۔ تو اس طرح ٹکر کی صورت جنم لے رہی ہے۔
تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت اس معا ملے میں بری طرح ناکام ہے ۔ جس وجہ سے سردار غلام عباس خان کو یہ دیکھا ئی دے رہا ہے کہ اگر ان کو پا رٹی حلقہ NA-61 کا ٹکٹ جاری کر بھی دیتی ہے تو سردار محمد فیض ٹمن تو کسی صورت بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔اور ایک نیا محاذ کھڑا ہو جا ئے گا۔ اس طرح وہ اکیلے الیکشن لڑنے سے رہے ۔ اسی وجہ سے اگر ق لیگ کی قیادت کی طرف سے معمولی سا بھی گرین سگنل سردار غلام عباس خان کو ملا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ق لیگ کی طرف روانہ ہو جا ئیں ۔
سردار غلام عباس خان کی ق لیگ میں شمولیت جہاں ق لیگ کے لئے مضبوطی رکھتی ہے وہاں سردار غلام عباس خان کے لئے بھی بہت بہتر ہے ۔ لیکن حافظ عمار یا سر اور سردار غلام عباس خان کے اختلافات بھی کئی سوالات کو جنم دیں گے اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر ق لیگ کی قیادت سردار غلام عباس خان کو اپنے ساتھ ملا تی ہے تو اس سے حافظ عمار یا سر کا کیا ری ایکشن ہوگا کیو نکہ جو قربت حافظ عمار یا سر کی چوہدری برادران سے ہے وہ سردار غلام عباس خان کی نہیں لیکن اب ق لیگ کی بھی ضرورت ہے کہ سردار غلام عباس خان ان سے دوبارہ ہاتھ ملا ئیں جس وجہ سے نرمی حافظ عمار یا سر کو ہی دیکھا نا پڑے گی۔
اگر چوہدری ایاز امیر ن لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف سے اپنے قدم جوڑیں تو اس سے تحریک انصاف کو بہت وسعت ملے گی اور ن لیگ کے لئے ایک طرف شدید دھچکا بھی ہے اور دوسری طرف تحریک انصاف کو ایک مضبوط امیدوار حلقہNA-60 سے مل جا ئے گا کیو نکہ سردار غلام عباس خان ابھی تک حلقہNA-61 پر ہی اپنی نظریں جما ئے بیٹھے ہیں ۔ اور وہ ق لیگ میں شامل ہو ں یا نہ ہوں لیکن حلقہNA-60 پر تحریک انصاف کو ایک مضبوط امیدوار کی ضرورت ہے ۔
قارعین ! یہ ناقابل یقین تبدیلیاں ہو نے کا بہت قوی امکان دیکھا ئی دے رہا ہے۔دیکھیں وقت کیا کر تا ہے لیکن حالات بن رہے ہیں کہ عوام کو ابھی بہت تبدیلیاں ملیں گی ۔ اللہ آپکا اور میرا حامی و ناصر ہو ۔اٰمین

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button