پاکستانتازہ ترین

توہین عدالت کیس:کوئی بھی وکیل میری وکالت کیلئے تیار نہیں،ملک ریاض

اسلام آباد(بیوروچیف)  سپریم کورٹ میں ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جاری ہے اور جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ کیس کی ابتداء میں ملک ریاض نے عدالت کو بتایا کہ مجھے ابھی تک کوئی وکیل نہیں ملا کیونکہ کوئی وکیل میری وکالت کرنے کو تیار ہی نہیں، جس وکیل سے رابطہ کیا اس نے انکار کردیا ہے۔ملک ریاض نے مزید کہا کہ پہلے والے وکیل بھی ساتھ چھوڑ گئے،مناسب ہو تو مزید 10دن کی مہلت دے دیں، وکیل نہ ملنے کا جھوٹ نہیں بول رہا۔ جسٹس شاکر اللہ جان نے ریمارکس دیئے کہ وکیل کا نہ ملنا آپ کا مسئلہ ہے، جو شوکاز نوٹس جاری کیا اس کا جواب دینا ہے۔ اس پر ملک ریاض کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر میں نے زبان بندی کرلی ہے۔ جسٹس شاکراللہ جان نے ریمارکس دیئے کہ شو کاز نوٹس اس لئے دیا کہ آپ کا موٴقف سن سکیں، عدالتوں کا احترام بھی ہونا چاہیے، ابھی ہم توہین عدالت کا کیس سن رہے ہیں اور پہلے ہی 7دن کی مہلت دے چکے ہیں۔ ملک ریاض نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت میں حاضری کی وجہ اپنا آپریشن موٴخر کرایا، زیادہ دیر تک اپنی حاجت نہیں موٴخر کرسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 4وکلاء سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے سوچنے کی مہلت مانگی ہے۔ تاہم اس موقع پر مخالف وکیل کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کی پوری لیگل ٹیم موجود ہے، وکیل نہ ملنے کا بیان غلط ہے۔ مخالف وکیل کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کے خلاف 150کیسز ہیں، سب میں وکلاء پیش ہوتے ہیں۔ ملک ریاض نے کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں 10دن بعد وکیل لے کر پیش ہونگے، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر تب بھی کوئی وکیل تیار نہ ہوا تو کیا ہوگا، اس پر ملک ریاض کا کہنا تھا کہ پھر میرا وکیل اللہ ہوگا۔ اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود وکیل نے مشورہ دیا کہ ملک ریاض کو سرکاری خرچ پر وکیل دیا جائے۔ عدالت نے مشورہ دینے والے وکیل سے استفسار کیا کہ سرکاری خرچ پر1لاکھ دلوائیں توکیاوکالت کرینگے ، جس پر سرکاری خرچ پر وکیل کا مشورہ دینے والے وکیل نے ملک ریاض کی وکالت سے انکارکردیا۔ اس موقع پر جسٹس شاکر اللہ جان نے ریمارکس دیئے کہ ملک ریاض کو وکیل نہ ملا تو پھر عدالت انہیں وکیل دیگی،، عدالت نے وکیل دیا تو ملک ریاض اس پر اعتراض نہیں کرسکیں گے۔عدالت نے موجود وکیل رہنما کو ہدایت کی کہ ملک ریاض کووکیل نہ ملنے پرزور نہ دیاجائے، بھارت میں اجمل قصاب کووکیل نہ دینے کی قرارداد منظورکی گئی تھی لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے اجمل قصاب کو وکیل کا حق دلوایا، قرارداد پاس کرتے وقت باریہ سوچے کہیں انصاف کی فراہمی کا راستہ تونہیں رک رہا۔ جسٹس طارق پرویز نے ریمارکس دیئے کہ ملک ریاض کو وکیل نہ کرنے دیا گیا تو کارروائی کیسے آگے بڑھے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker