پاکستانتازہ ترین

ملک ریاض کو دو ہفتے کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) سپریم کورٹ نے کاروباری شخصیت ملک ریاض پر توہین عدالت کے مقدمے میں ان پر جمعرات کو فرد جرم عائد کر دی ہے ۔ عدالت نے ملک ریاض کے وکیل کی انٹرا کورٹ اپیل کے فیصلہ تک فرد جرم عائد نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی ۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو کیس میں پراسیکیوٹر مقرر کردیا جبکہ ملک ریاض نے صحت جرم سے انکار کیا ہے ۔ ملک ریاض کے وکیل عبدالباسط نے موقف اختیار کیا کہ فرد جرم کے الفاظ مبہم ہیں سمجھ نہیں آئی جبکہ اٹارنی جنرل نے فرد جرم پر اعتراض کیا اور کہا کہ فردجرم میں کہاںلکھا ہے کہ ملک ریاض نے عدلیہ کی تضحیک کی یہ الفاظ شامل ہونے چاہئین کہ ملک ریاض نے کیسے عدلیہ کی توہین کی یہ لفظ موجود ہی نہیں کہ ملک ریاض نے کیسے توہین کی ۔ عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب مواد میں موجود ہے کہ ملک ریاض نے کیسے توہین عدالت کی ملک ریاض کے وکیل عبدالباسط نے کہا کہ میں اپنے موکل کی طرف سے لکھوں گا کہ مجھے اس فرد جرم کی سمجھ نہیں آئی جس پر عدالت نے انہیں اجازت دیدی کہ وہ جس قسم کا بھی جواب چاہتے ہیں جواب لکھ دیں ڈاکٹر باسط نے یہ لکھ کر مجھے فرد جرم کی سمجھ نہیں آرہی اور یہ مبہم ہے عدالت کو دستخط کردے دئیے عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ان کے موکل ملک ریاض بے گناہ ہیں انہوں نے کسی عدالت کی کوئی توہین نہیں کی نہ ہی کبھی تمسخر اڑایا ۔ دوران ڈاکٹر عبدالباسط کی جانب سے اپنے موکل کو پیشی سے استشنٰی دینے کی درخواست بھی عدالت میں دائر کی جسے عدالت نے مسترد کردیا ڈاکٹر عبدالباسط نے اعتراض کیا کہ ملک ریاض کے خلاف کارروائی میاں شاکر اللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شروع کی لیکن آج دو رکنی بینچ ان پر فرد جرم عائد کررہا ہے ۔ یہ بینچ کیس کی سماعت کرنے کا اہل نہیں جس پر عدالت نے یہ تمام اعتراضات مسترد کردئیے اور ملک ریاض کے خلاف چارج شیٹ پڑھ کر سنائی گئی دوران سماعت ملک ریاض کے وکیل نے کہا کہ توہین عدالت کے قانون 2012 کے تحت دائر درخواست کافیصلہ پہلے کیا جائے اور فرد جرم عائد نہ کی جائے ۔ عدالت نے کہا کہ 2012 ء کا توہین عدالت کا قانون کالعدم ہو چکا ملک ریاض پر فرد جرم عائد ہو سکتی ہے اس میں کیا حرج ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی بھی چلتی رہے اور انٹرا کورٹ بھی چلتی رہے جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ 2012 ء کا توہین عدالت کا قانون ایسے ہی ے جیسے سرے سے موجود ہی نہیں تھا اس لیے انٹرا کورت اپیل کا بھی سرا موجود نہیں ہے ۔ درخواست گزاروں اشرف گجرا ور لیاقت قریشی نے موقف اختیار کیا کہ ملک ریاض کی 12 جون کی پریس کانفرنس کی ویڈیو دیکھ لین اس سے ثبوت مل جائیں گے درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ اس پریس کانفرنس کو ثبوت کا حصہ بنایا جائے دوران سماعت ملک ریاض نے استدعا کی کہ وہ مریض ہیں انہیں بیرون ملک جانے دیا جائے ۔ جس پر جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ ہم دو ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کررہے ہین اپ کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں لہذا آپ دو ہفتے کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں عدالت نے کیس کی مز ید سماعت 29 اگست تک ملتوی کردی ۔ یاد رہے نجی رہائشی منصوبے بحریہ ٹان کے سابق سربراہ ملک ریاض کے خلاف بارہ جون کو کی جانے والی پریس کانفرنس پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔اس پریس کانفرنس میں ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ سپریم کورٹ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار نے یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ اس ادارے کو ڈان کی طرح چلا رہے ہیں۔یاد رہے کہ ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنے اور بحریہ ٹان کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان کو بتیس کروڑ روپے ان کے بیرون ممالک دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں دیے تھے تاہم انہیں ان مقدمات میں ریلیف نہیں ملا۔ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنے اور بحریہ ٹان کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان کو بتیس کروڑ روپے ان کے بیرون ممالک دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں دیے تھے تاہم انہیں ان مقدمات میں ریلیف نہیں ملا۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان میں اداروں کا تصادم شفافیت کا امتحان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker