تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

باشعور دریچے

مجھے بروز اتوارفتح جنگ کے گائوں ماجھیا جاناپڑا وہاں میرے بڑے پیارے دوست کے والد صاحب کا انتقال عید کے روز ہوا تو میں افسوس کرنے گیا لیکن میں نے آتے جاتے جو مسائل دیکھے اگر لکھوں تو ختم نہ ہو۔ میں صبح سویرے 5بجے کو ہستان بس کے اڈے فیصل آباد پر پہنچا راولپنڈی کے لئے ٹکٹ لی گاڑی نے 5:45پر نکلناتھا میں نے ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالنا شروع کردی ویٹنگ روم کے ساتھ واش روم بھی تھا جہاں پر لکھا تھا صرف لیڈیز کے لئے میں نے دیکھا کہ تین چار مرد حضرات واش روم کے اندر ہیں میں نے کہا بھائی یہ تو صرف لیڈیز کاہے تو کہے لگے یہ پاکستان ہے یہاں سب کچھ ہوتا ہے میں نے کہاپاکستان کا اس میں کیا قصور ہے وہ جناب غصہ میں آگئے میں نے کہا جانے دو بھائی میں تو آپکو سمجھا رہاہوں اور آپ لڑ رہے ہیں خیر واش روم کی اتنی گندھی حالت تھی کہ میں بتا نہیں سکتا وہاں پر نہ تو کوئی انتظامیہ تھی او رنہ ہی کوئی دیکھ بھال کرنے والا خیر5:45سے گاڑی فیصل آباد سے راولپنڈی کو نکل پڑی میرے پاس سیٹ نمبر42تھی گاڑی میں قوالی لگی ہوئی تھی اور ACچل رہا تھا تمام سیٹس مکمل تھیں تھوڑی دیر بعد الائیڈ موڑ پر گاڑی رکی اور مزید سواریاں بیٹھنا شروع ہوگئیں لیکن کہاں فولڈنگ چیئر پر میں نے کنڈیکٹر سے کہا کہ یہ قانون کے خلاف ہے فولڈنگ والی کیا کہانی ہے کہنے لگا بھائی آپ آرام سے بیٹھیں خیر ہماری عوام ہی ایسی ہے یہ خود بھیڑ بکریوں کی طرح رہنا پسند کرتے ہیں موٹروے پر چڑھتے ہی کسی نے چیک نہیں کیا ویسے تو ہر گاڑی کی مووی بنتی ہے کسی نے نہیں دیکھا کہ یہ سواریاں اس نے بکریوں کی طرح بیٹھا رکھی ہیں میں خاموشی سے یہ مناظر دیکھ رہاتھا اور سوچ رہاتھا کہ ہم نے اپنے حالات خو دخراب کر رکھے ہیں ۔آخر کار دوگھنٹے سفر کے بعد گاڑی کلر کہار ریسٹورنٹ پر جارکی تمام لوگ اس طرح کھانے پینے کی چیزیں لینے لگے جیسے کبھی کچھ کھایا ہی نہیں میں نے کہا کہ یہ ایک بسکٹ کا پیکٹ اور ایک Pepsiدے دو15روپے والا بسکٹ 30روپے ہیں اور 35والی 55 Pepsiروپے میں ہے میں نے کہا کہ یا ر یہ تو آپ ڈبل چارج کررہے ہیں کچھ تو خیال کرو تو وہ لڑکا کہنے لگا صاحب ہم آرڈر کے پابند ہیں ہم ملازم ہیں ہمیں کہا جاتاہے تو ہم مہنگے داموں بیچتے ہیں میں سوال اس عوام سے کرتاہوں کہ اگر آپ لوگوں کے پاس پیسا اتنا زیادہ ہے تو کسی ایسی جگہ خرچ کرو تا کہ آگے آپ کی آخرت کی زندگی اچھی گزرے یہ ساری غلطی اس عوام کی ہے تو مہنگی چیز ڈبل قیمت پر خریدتی ہے جس کا نقصان غریب آدمی کو اٹھاناپڑتاہے لیکن کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں جس کا جدھر دائو لگتا ہے فائدہ اٹھاتاہے کہاں ہیں ہمارے بڑی بڑی باتیں کرنے والے لیڈر ۔
ہرشاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستان کیاہوگا
20منٹ کے بعد گاڑی دوبارہ چلی اور آخر کار ہم راولپنڈی پہنچ گئے رالپنڈی سے میں نے گاڑی تبدیل کی اور فتح جنگ کے گائوں ماجھیا پہنچا وہاں 2گھنٹے قیام کرنے کے بعد میں نے واپس فیصل آباد کا رخ کیا 26نمبر چونگی موٹروے سٹاپ سے میں فیصل آباد کے لئے گاڑی میں بیٹھ گیا گاڑی میں کچھ نوجوان بیہودہ حرکتیں کرتے نظر آئے ایسا کیوں ہوتاہے کسی کو سمجھا ئو تو وہ لڑائی پر اتر آتاہے آخر کار4گھنٹے کے سفر کے بعد میں رات کو 9بجے واپس اپنے گھر پہنچا اور سوچ رہا ہوں کے ہمارے حالات کب ٹھیک ہوں گے جب تک ہماری سوچ تبدیل نہیں ہوگی ہم اس طرح ذلیل ہوتے رہیں گی اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

یہ بھی پڑھیں  قطر کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں انتہائی سود مند رہیں: شاہ محمود قریشی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker