تازہ ترینصابرمغلکالم

ڈوبتی معیشت ،منی بجٹ اور عوام

بہتر منصوبہ بندی ،نیک نیتی ،عوام دوستی،ہمدردانہ ذہن اور اسلامی اساس کے اصولوں کے مطابق کسی بھی خاندان ،قبیلے،شہر ،ریاست یا مملکت کوبہتر رہبر اورحکمران نصیب ہو تو یہ ان کی خوش نصیبی ہوتی ہے ،کم ترین وسائل کے باوجود ان کے مسائل کو لگام ڈال دی جاتی ہے اور اگررہبر ،حکمران ہی لوٹ مار،اقربا پروری اور کرپشن کے لباس میں لتھڑے ہوں تو وہی ہوتا ہے جو پاکستانی عوام کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے اور ہو رہا ہے،نچلے لیول پر رہنے والی اکثریتی عوام کا آج تک کوئی پرسان حال نہیں ،نہ ان کی حالت بدلی نہ کسی نے بدلنے کی کوشش کی ،خالی خولی نعرے دعوے ہمیشہ ان کی جھولی میں ڈالے گئے ،انہیں اپنی جانب مائل کرنے کے لئے ٹسوے بہائے گئے ،ان کے چمچوں کے حالات سدھرتے اور بہتر ہوتے چلے گئے اور عوام دن بہ دن ذلت و رسوائی کی کھائی میں لڑھکتی چلی گئی ،موجودہ حکومت نے سابق جمہوری حکومت پر الیکشن آمد سے قبل تنقید کی کہ انہوں نے ملک لوٹ کھایا ہے اور ہمارے پاس ایسی تجربہ کار ٹیم ہے کہ ہم بر سر اقتدارآتے ہی ملک کے مسائل کو حل کر کے عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنا دیں گے،نواز شریف نے ابتدائی دنوں میں کابینہ پر واضح کیا کہ ہر وزیر کے کام پر نظر رکھی جائے گی جس کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی اس کی کابینہ میں کوئی گنجائش نہیں پھر عوام نے دیکھا کہ ماہانہ کاکردگی چیک کرنے کا وہ پیمانہ یا جذبہ بحیرہ ہند میں جا گرا،پاکستانی تاریخ میں ریکارڈ قومی بجٹ کا پیش کرنے والے اسحاق ڈار نے معیشت کی بہتری اور بڑھوتی کے وہ دعوے کئے جن کی نظیر نہیں ملتی،دنیا بھر میں قومی بجٹ پورے سال پر محیط ہوتا ہے جس میں عوام کو سہولیات کی فراہمی،تعمیر و ترقی وغیرہ ہر ایک کا مکمل حساب کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے مگر پاکستان اس دھرتی پر اس حوالے سے دنیا میں انوکھی مثال کا حامل ملک ہیے جہاں ایک سال میں نہ جانے کتنی بار معاشی معاملات کی اکھاڑ پچھاڑ معمول بن چکے ہیں ہے جب دل چاہا قیمتیں بڑھا دیں جب دل چاہا نئے ٹیکسوں کو نفاذ کر دیا،شرمناک بات یہ ہے کہ اگر ٹیکس کی شرح میں اضافہ مجبوری بن ہی گیا ہے تو کم از کم اسے عوام کے لئے ہونا چاہئے مگر یہاں الٹی گنگا بہتی ہے حکمران اپنے اللوں تللوں اور شاہی اخراجات کی خاطر یہ سب کرتے ہیں نہ کہ عوام کی بہتری کے لئے،قومی بجٹ کی پہلی سہ ماہی مکمل ہوتے ہی نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت جو وزراء کی ظفر موج سے بھرپور ہے نے منی بجٹ پیش کر دیا ، کل731اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جسے بیک جنبش قلم نوٹیفکیشن کے ذریعے ایک ہی دن میں لاگو کر دیا گیاان میں سبزیاں،پھل،گندم،ٹوتھ پیسٹ،شیونگ کریم،زندہ مرغی(مطلب گوشت بھی مہنگا) ،استری،ہر قسم کے پنکھے،لکڑی کی الماری ،پلاسٹک فرنیچر،لوہے اور اسٹیل کی مصنوعات،لکڑی کے بیڈ،صابن،گیندیں،سامان سینٹری وغیرہ شامل ہیں جس سے حکومت کو 25ارب روپے کا اضافی ریوینیو حاصل ہو گا،ایف بی آر کے مطابق مختلف ایس او آرز کے ذریعے عائد کردہ ریگولیٹری ڈیوٹی کو ایک ہی نوٹیفکیشن میں اکٹھا کر دیا جن میں97اشیا کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے ساتھ ہی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس ریگولیٹری ٹیکس کی شرح میں اضافے سے عوام متاثر نہیں ہو گی کیا عجب تماشہ ہے؟ اگر عوام کو مزید ٹیکس کی مد میں جکڑ ہی لیا گیاہے تو کم از کم یہ تو نہ کہیں کہ اس کا عوام پر اثر نہیں ہو گا ایک طرف چمڑی ادھیڑتے ہودوسری طرف کہتے ہو کہ ہم ہی آپ کے مسیحا اور ہمدرد ہیں،صدر مملکت ممنون حسین جنہوں نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد جمہوری حکومت کے ہر اس اقدام پر چپ چاپ دستخط کئے ہیں جس سے ملک و ملت پر جو بھی بیتے انہیں کوئی سروکار نہیں ،البتہ اس دوران ان ایک بیان پہلے سامنے آیا تھا کہ بے ایمان لوگوں کے چہروں پر پھٹکار ہہوتی ہے ،اب انہوں نے اس منی بجٹ کے بعد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں منعقدہ کانووکیشن سے خطاب میں کہا۔الیکشن کے بعد 14ہزار8سو ارب روپے قرضہ لیا گیا عوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ پوچھیں کہ ہسپتالوں ،ڈیم ،روزگار اور تعلیم کے نام پرلیا گیا قرضہ کہاں گیا؟کیونکہ نہ تو ملک میں ڈیم بنے ،نہ ہسپتال،نہ تعلیمی حالت میں بہتری ،نہ روز گار ملا تو پھر آخر یہ پیسہ گیا کہاں؟ہمارے لک کو پچھلی کئی دہائیوں سے کرپشن نے تباہ اور ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اس ناسور کے خاتمہ کے لئے ہمیں کردار ادا کرنا ہو گا،اس وقت کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے،جھوٹ مکرو فریب اور مداری کی سیاست نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا یاد رکھیں جس نے جتنا اس ملک کولوٹا ،نقصان پہنچایا اس کا بدلہ اللہ اس سے ضرور لے گا،منی بجٹ آنے سے ایک دن پہلے نیب زدہ وزیر خزانہ نے کہا تھا معیشت مستحکم ہے اب قرضہ نہیں لے رہے عالمی بینک نے غلط اعداد و شمار پیش کئے دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں اپنے وسائل پر انحصار کریں گے مہنگائی کنٹرول میں ہے اگلے ہی روز عوام پر مہنگائی بم گرا دیا گیا، کراچی میں فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے زیر اہتمام کراچی میں معیشت اور سلامتی پر منعقدہ سیمینار سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہامعیشت زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے دنیا بھر میں قومی سلامتی اور معاشی استحکام میں توازن کے حصول پر توجہ مرکوز ہے ہمیں بھی معیشت اور سلامتی کے درمیان قابل اطمینان توازن یقینی بنانے کے جدو جہد کرنی ہو گی،ہم نے سیکیورٹی بہتر کر دی اب اکانومی مضبوط بنائی جائے شرح نمو بہتر سہی مگر قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہو گا (شاید اسی بیان کی آڑ میں جمہوریت نے منی بجٹ پیش کیا ہے) اور مضبوط سلامتی کے لئے بہتر معیشت نا گزیر ہے،آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل جنرل آصٖف غفور نے ایک بیان میں کہاملکی حالات ٹھیک نہ ہونے پر ملکی معیشت متاثر ہ ملکی معیشت اگر بری نہیں تو اچھی بھی نہیں ہے ،آرمی کی جانب سے آنے والے ان بیانات پر شور مچ گیا ،وزیر داخلہ احسن اقبال نے امریکہ میں بیٹھ کر اسحاق ڈار کی جگہ جنرل آصف غفور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاان کو معیشت سے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہئے ان کے غیر ذمہ درانہ بیانات سے پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے جبکہ معیشت پہلے سے کہیں بہتر ہے،اپوزیش بھی ملک کے عالمی وقار سے نہ کھیلے ،جواب میں جنرل آصف نے کہا یہ نہیں کہا کہ معیشت غیر مستحکم ہے مگر ادھار پر چلنے والی اکانومی سے قومی سلامتی متاثر ہو گی،جمہوریت کو فوج سے نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ کرنے سے خطرہ ہے،احسن اقبال کے بیان پر وزیر اعظم نے کہا کہ آرمی چیف کو معیشت پر رائے دے سکتے ہیں، آصفہ بھٹو نے کہا قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت کو بہتر کہنا واقعی مذاق ہے،در حقیقت اس ملک کو اس وطن کو کرپشن زدہ بلا تفریق حکمرانوں ،سیاستدانوں اور آمریت نے بری طرح لوٹا اور کھوکھلا کیا ہے کوئی ایک بھی بہترین حکمران اس مملکت خداداد کو مل جاتا جتنا کچھ رب کریم نے اس دھرتی کو عنائت کر رکھا ہے شاید ہی کسی اور جگہ ہو ،وزیر اعظم کو اقامہ پر نا اہل کیا گیا ،کہتے ہیں اقامہ پر نا اہل کیوں کیا گیا مگر یہ شرم نہیں کہ ایک ایٹمی طاقت کا حکمران کسی دوسرے ملک کا اقامہ رکھتا ہے ؟کیا عجب تماشہ ہے،شیخ رشید کے مطابق ایل این جی کا معاہدہ جس میں دو سو ارب روپے کی کرپشن کی گئی پاکستان کا سب سے بڑا میگا کرپشن سکینڈل ہے،سپریم کورٹ کہتی ہے نیب منادی کراتا ہے کرپشن کر کے کماتے جاؤ قسطوں میں رقم واپس کرتے جاؤ،لاہور ہائی کورٹ نے کہاجنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے عدالت عوام کے پیسے کا تحفظ کرے گی (عدالتیں کہاں کہاں اور کیا کیا کریں گیں؟)،شہباز شریف نے کہا عوام کا خیال نہ کیا گیا تو خونی انقلاب آ سکتا ہے بندہ پوچھے اقتدار آپ لوگوں کے پاس تھا اور ہے تو پھر عوام کو خیال کسی خلائی مخلوق نے کرنا تھا؟،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے مطابق چار سال میں 8ارب ڈالر پاکستان سے باہر چلے گئے پاکستانیوں نے دوبئی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے،یہ سب رقم کیسے گئی ؟وہ کون لوگ ہیں؟اسلام آباد نیو ائیر پورٹ کا منصوبہ 35ارب سے 81ارب روپ تک پہنچ چکا ہے 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں قومی خزانے کو کرپشن کی نذ رکر دیا گیا نواز شریف نے قتل کے مقدمہ میں سزا یافتہ شخص کو چیف کنسلٹنس لگایا جو میڑک پاس جس کی تنخواہ15روپے ماہانہ ہے اس ملک میں جنہیں لگانا ہو وہ میٹرک پاس پائلٹ اور میڈیکل آفیسر بھرتی ہو جاتے ہیں،سٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کے30فیصدمعاملات صرف20کاروباری گروپس کے ہاتھوں ہیں،2005سے2015تک ملک کے خالص اثاثوں میں جی ڈی پی کی شرح صرف5فیصد رہی جبکہ اس دوران تھائی لینڈمیں یہ شرح42،ملائیشیا میں36،بھارت میں 18اور بنگلہ دیش میں8فیصد رہی،رپورٹ کے مطابق بھارت ،سری لنکا ،مصر ،ترکی اور ملائیشیا گذشتہ15برس سے مسلسل خسارے میں ہیں لیکن پھر بھی ان کی مجموعی صورتحال پاکستان سے بہتر رہی،ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں تجارتی خسارہ اور مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا،روشنیوں کا شہر کراچی اس وقت دنیا کا سب سے غیر محفوظ شہر بن چکا ہے، ہڑتالیں،ملاوٹ،کرپشن،لوٹ مار بد امنی ہمیں لے ڈوبی ہے جس کے ذمہ دار صرف اور صرف حکمران ہیں عوام کے گلے میں تو صرف ذلت اور رسوائی کا طوق ڈال دیا گیا ہے ،اگر گوگل پر چیک کیا جائے تو دنیا کے ٹاپ ٹین کرپٹ سیاستدانوں میں پہلی پوزیشن پاکستان کے پاس ہے،1۔میاں نواز شریف،2۔ولادی میر پوٹن،3۔کنگ سلیمان بن عبدالعزیز،4۔سگمندر ڈیوڈ (آئس لینڈ)5۔خلفیہ بن زید النہان،6۔ڈیوڈ کیمرون،7۔نریندر مودی،8۔ٹونیڈرور(گینیا)9۔کم مانگ ان (شمالی کوریا)اور10ویں پیٹرو یوریشکو(یوکرائن)ہیں،اسی طرح دنیا کی ٹاپ کرپٹ ترین سیاسی جماعتوں میں بھی پہلی پوزیشن پاکستان کے پاس ہی ہے، 1،مسلم لیگ (ن) ،2نیشنل ریزسنسی یوگنڈا،3پروگریسو ایکشن پارٹی کوریا،4انڈین نیشنل کانگریس انڈیا،5ویتنام کیمونسٹ پارٹی ،6کو آمن ٹانگ چائنا،7نیشنل فیشسٹ پارٹی اٹلی،8نازی پارٹی جرمنی،9کیمونسٹ پارٹی آف چائنا اور نمبر10کیمونسٹ پارٹی آف دی سوویت یونین رشیا ہیں،پاکستان کے ٹاپ ٹین کرپٹ سیاسدانوں کی فہرست میں گوگل کے مطابق1میاں نواز شریف،2آصف علی زرداری،3شہباز شریف ،4الطاف حسین،5یوسف رضا گیلانی،6مولانافضل الرحمان ،7اسحاق ڈار،8حنیف عباسی ،9مشاہداللہ خان اور دسویں نمبر پر صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثنا ء اللہ کا نام جگمگا رہا ہے ،ہنگائی کرنے پر ہمارے حکمرانوں کی ہی خواہشات پوری ہوتی ہیں اسی لئے بلا تفریق اور بغیر پروٹوکول سب کا بے رحم احتساب کیا جائے چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کیوں نہ ہو،اسی میں پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہے،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker