پاکستانتازہ ترین

مانسہرہ:صوبے بھرکےعوام اورسیاسی شخصیات سرخ جھنڈے تلے جمع ہورہی ہیں،وزیر اعلٰی امیرحیدر

مانسہرہ﴿بیوروچیف﴾خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان نے ضلع تناول کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نہ صرف صوبے کی سب سے بڑی جماعت ہے بلکہ قومی سطح پر بھی تیزی کے ساتھ اُبھر رہی ہے اور اے این پی کی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اُخوت و بھائی چارے کی پالیسیوں اور قربانیوں کو دیکھتے ہوئے صوبے بھر کے عوام اور سیاسی شخصیات سرخ جھنڈے تلے جمع ہو رہی ہیں۔ اُنہوںنے کہا کہ علاقہ تناول ضلع کے قیام کے مطلوبہ پیمانے پرپورااترتاہے اس لیے تناول کے عوام کو ان کے مطالبے پر یہ حق ضرور دیا جائے گا تاہم اُنہوں نے کہا کہ ملک میں جاری مردم شماری کے باعث قانونی مجبوریوں کے تحت ضلع کے قیام کا نو ٹیفکیشن آئندہ نومبر یا دسمبر میں کیا جائے گا۔ یہ اعلان اُنہوں نے بدھ کے روز ضلع مانسہرہ کی تحصیل اوگی کے علاقہ شیر گڑھ میںر کن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر حبیب الرحمن تنولی اور سابق ایم این اے نوابزادہ صلاح الدین سعید کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ جلسہ سے عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر سینٹر افراسیاب خٹک، اے این پی سندھ کے صدر سینٹر شاہی سید، نواب زادہ صلاح الدین، حبیب الرحمن تنولی ، نوابزادہ جہانگیر سعید اور حاجی ابرار حسین نے بھی خطاب کیا۔خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور ، وزیر ہایئر ایجوکیشن قاضی محمد اسد، وزیر اوقاف نمروز خان، ایم پی اے مفتی کفایت اﷲ، اے این پی کے صوبائی اورمرکزی عہدیداران تاج الدین خان ، ارباب محمد طاہر، اے این پی مانسہرہ ، تور غر ، بٹگرام، ایبٹ آباد، ہری پور، کوہستان کے ضلعی عہدیداران، اہلیان علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جلسہ میں ایم پی اے حبیب الرحمن تنولی اور سابق ایم این اے نوابزادہ صلاح الدین نے اپنے ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا اور گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران علاقہ تناول سمیت پورے ہزارہ ڈویژن میں ترقیاتی منصوبوں کی فراہمی پر اے این پی کی حکومت کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہزارہ سے مدبر سیاستدانوں کی اے این پی میں شمولیت تاریخ ساز فیصلہ ہے اور اے این پی بھی آخری دم تک ان کے علاقوں سے وفاکر ے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ حبیب الرحمن تنولی آزاد حیثیت سے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور آج تک اُنہوں نے اپنی آزاد حیثیت کے ساتھ ساتھ اے این پی سے بھائی چارے کارشتہ قائم رکھا اوراپنے حلقہ پی کے 57 کے لئے کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبے حاصل کئے۔اُنہوں نے کہا کہ حبیب الرحمن تنولی کی شمولیت سے قبل بھی اے این پی نے تناول کو مردان اور چارسدہ و پشاور سے کم نہیں سمجھا اور اس علاقے کو اس کا حق دیا جبکہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار صوبے کے ترقیاتی بجٹ میں ایک سال کے دوران 80 فیصد اضافے کا کارنامہ بھی اے این پی کی موجودہ حکومت نے ہی انجا م دیا۔ مانسہرہ کے علاقہ تناول میں اے این پی کے دور میں شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کا مختصر اًذکر کرتے ہوئے امیر حیدر خان نے بتایا کہ 60 کروڑ روپے کی لاگت سے دربند ڈگری کالج، گرلز کالج اوگی اور بفہ میں ایک نئے کالج کی منظوری دی گئی،22 نئے پرائمری سکولوں کو مڈل، 12 مڈل سکولوں کو ہائی اور 6 ہائی سکولوں کو ہایئر سیکنڈری کا درجہ دیا گیا جبکہ پورے علاقے میں سکول کے 93 اضافی کمرے تعمیر کئے گئے اور مانسہرہ میں ایک ماڈل سکول کی تعمیر جاری ہے۔اُنہوں نے کہاکہ ان منصوبوں کے لئے 73 کروڑ روپے دیئے جا چکے ہیں اس کے علاوہ سکولوں کی اپ گریڈیشن پر 33 کروڑ روپے خرچ کئے گئے اور مانسہرہ کے تین حلقوں میں 50 کلومیٹر روڈ تعمیر کئے گئے 9 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے آٹھ واٹر سپلائی سکیمیں دی گئیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ” ایرا” اور ” پیرا” کی سکیمیں اس کے علاوہ ہیں اور یہ سکیمیں ہم نے اس وقت دی تھیں جب ان علاقوں میں ہمارا کوئی ایم این اے یا ایم پی اے نہیں تھا ، صوبہ ہزارہ کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپنے دورہ ایبٹ آباد میں کھلے عام یہ موقف اختیار کیا تھا کہ آئین میں نئے صوبے کے قیام کا راستہ موجود ہے۔ہمیں اس سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اگر آئینی طریقے سے صوبہ بنا تو اے این پی اس کا خیر مقدم کرے گی۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے صوبائی اسمبلی کے اند ر تمام جماعتوں کے ساتھ بھائی چارے اور اُخوت کا رشتہ قائم کر رکھا ہے۔ اے این پی نے ساڑھے چار سال میں اس قدر مقبولیت حاصل کی کہ اس دوران تمام ضمنی انتخابات میں اے این پی کے اُمیدوار منتخب ہوتے رہے جبکہ ڈی آئی خان، ٹانک، چترال، کوہستان، آلائی، ہری پوراور تناول کے خوانین،نمائندے اور عوام جوق درجوق اے این پی کے جھنڈے تلے آرہے ہیں اور اے این پی اب کوئی چھوٹی نہر یا دریا نہیں رہا بلکہ وہ عظیم سمندر بن چکی ہے جس کی بنیاد ایک صدی قبل خدائی خدمتگار با چا خان مرحوم نے رکھی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں اے این پی پہلے سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کرکے انشائ اﷲ دوبارہ بر سر اقتدار آئے گی۔ حبیب الرحمن تنولی اور نوابزادہ جہانگیر سعید کی جانب سے سپاسناموں میں پیش کئے گئے مسائل اور مطالبات کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے دس کروڑ روپے کے خصوصی پیکج کے تحت اوگی ، دربند روڈ کی تعمیر نو ، حلقہ پی کے 57 کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے 12 کروڑ روپے کی فراہمی اور علاقہ تناول

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker