تازہ ترینعلاقائی

مانسہرہ:پولیس حراست میں بہیمانہ نازک اعضاء پر تشدد کرنے اور مطالبات کی عدم منظوری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

مانسہرہ(بیورو رپورٹ)ہلاکو اور چنگیز خان کے دور کو مات دے کر نوجوان کو پولیس حراست میں بہیمانہ تشددکا نشانہ بنانے، اس کے نازک اعضاء پر مبینہ تشدد کرنے اور مطالبات کی عدم منظوری کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہنے کے بعدمطالبات کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ مظاہرین کے شدید احتجاج اور طویل مذاکرات کے بعد ڈی پی او مانسہرہ نے ڈی ایس پی سمیت 4پولیس ذمہ داران کو نوکری سے معطل کرتے ہوئے نوجوان کی پولیس تشدد کے باعث ہلاکت پر ان کے خلاف تھانہ بالاکوٹ میں FIRدرج کر نے کا حکم دے دیا۔ مطالبات کی منظوری کے بعد مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے اور شاہراہ ریشم اور مانسہرہ بائی پاس کو 4گھنٹے کے شدید احتجاج کے بعد ہر قسم آمدورفت کے لئے بحال کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق 25دسمبر 2016 ؁ء کو تھانہ بالاکوٹ میں کوہستانی محمد مسکین ولد خانیزمان نے اپنے گھر میں ہونے والی ڈکیتی کے دوران 12تولے طلائی زیورات ،دو لاکھ روپے نقد رقم اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹنے پر اپنے داماد فرزمان ولد پیر محمد اور اس کے ساتھیوں غلام حسین ولد دارو، جمیل اور عالم خان کے خلاف مقدمہ رجسٹر کرتے ہوئے مدعی مقدمہ کے داماد فرزمان اور اس کے ایک ساتھ غلام حسین کو گرفتار کر کے اس کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور ریمانڈ کے دوران ایس ایچ او سجاد خان، تفتیشی افسر علی اکبر خان اور کانسٹیبل زاہدنے فرزمان اور اس کے ساتھی غلام حسین کو مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جس سے ان کی حالت غیر ہو گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ تین روزہ جسمانی ریمانڈ کے خاتمے کے بعد پولیس تھانہ بالاکوٹ نے کنگ عبداللہ ہسپتال کے ایم ایس اور ڈاکٹر سے ملی بھگت کرتے ہوئے دونوں ملزمان کا فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور عدالت پیشی کے بعد انہیں جیل منتقل کیا گیا۔ مگر جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے مقدمہ میں گرفتارملزم غلام حسین کی حالت غیر ہونے کے پیش نظر اسے جیل میں پابند کرنے سے معذوری ظاہر کی اور علاج معالجے کے لئے کنگ عبداللہ ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔ جہاں سے ایوب میڈیکل کمپلکس ریفر کر دیا گیا۔ایوب میڈیکل کمپلکس میں چند روز تک زیر علاج رہنے کے بعد گرفتار ملزم غلام حسین مبینہ پولیس کے بہیمانہ تشدد کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر پاداش میں جاں بحق ہو گیا۔ جس کی نعش گذشتہ روز ایوب میڈیکل کمپلکس سے شدید احتجاج کے بعد وصول کرتے ہوئے مانسہرہ لائی گئی اور آمد سے قبل جاں بحق ہونے والے نوجوان کے چچا اور مانسہرہ کے معروف و مشہور عالم دین مفتی فیض الباری نے پولیس گردی کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے اپنے اور دیگر مدارس کے طلباء کو پولیس گردی کے خلاف متحد کرتے ہوئے شاہراہ ریشم اور مانسہرہ بائی پاس بند کردیا اور بعد ازاں انتظامی افسران کو نماز جنازہ کی ادائیگی تک مطالبات منظوری کا الٹی میٹم دیتے ہوئے دوبارہ احتجاج کی کال دی۔ گذشتہ روز شاہراہ ریشم مانسہرہ پر مرحوم کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مطالبات کی عدم منظور ی اور پولیس گردی کے خلاف مظاہرین نے دوبارہ شاہراہ ریشم اور مانسہرہ بائی پاس کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کردیا۔ مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ممبران صوبائی اسمبلی سردار ظہور، عصمت اللہ خان اور میاں ضیاء الرحمان نے بھی احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اور پولیس گردی کے واقعہ کی پرزور مذمت کی۔ شاہراہ ریشم پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران مظاہرین پولیس گردی کے واقعہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے اور مطالبات کی منظوری تک شاہراہ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس پر ڈی پی او مانسہرہ احسن سیف اللہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کی غرض سے موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے طویل مذاکرات کے بعد ڈی ایس پی بالاکوٹ مختیار شاہ، ایس ایچ او بالاکوٹ سجاد خان، تفتیشی افسر علی اکبر خان اور کانسٹیبل زاہد کو پولیس گردی کے واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ رجسٹر کرنے اور ان کو نوکری سے معطل کرنے کا اعلان کیا۔ جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہو گئے اور 4گھنٹے سے جاری شدید احتجاج کے بعد شاہراہ ریشم کو ہر قسم آمدورفت کے لئے بحال کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button