تازہ ترینعلاقائی

مانسہرہ:قتل اوردیگرسنگین وارداتوں میں مطلوب اشتہاری گرفتار

mansehraمانسہرہ (بیورو رپورٹ) قتل، اقدام قتل اور دیگر سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب خطرناک اشتہاری مجرم پولیس مقابلے کے بعد تین زخمی خواتین کے ہمراہ زخمی حالت میں گرفتار۔ پولیس نے آپریشن کے دوران کندا گروپ کے دیگر سات ساتھیوں کو بھی گرفتار کر لیا۔کندا گروپ کیساتھ پولیس مقابلے کی اطلاع پر ڈی پی او شیر اکبر خان اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر ملک اعجاز گوگا بھی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ گذشتہ دس سالوں سے دہشت کی علامت کندا گروپ کا سربراہ سکندر عرف کندا کی گرفتاری کے لئے دو تھانوں کی پولیس کے مشترکہ آپریشن اور پولیس مقابلے کے بعد گرفتاری متوقع ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز پولیس سکندر عرف کندا اور اس کے ساتھیوں کی ڈنہ چمیال کے مقام پر موجودگی کی اطلاع پر پولیس تھانہ دربند اور پھلڑہ نے فوری طور پر مشترکہ آپریشن کیا۔ پولیس پارٹی کے چھاپہ کی خبر ملتے ہی سکندر عرف کندا نے اپنے ساتھیوں سمیت فرار ہونے کی کوشش کی اور پولیس پارٹی پر فائرنگ کی۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں سکندر عرف کندااور تین خواتین زخمی ہوئیں۔ زخمی ہونے کے باعث سکندر عرف کندا اور اس کے ساتھیوں نے ہتھیار پھینک کر گرفتاری دے دی جبکہ اس کے دیگر ساتھی فرار ہو گئے۔ پولیس نے سکندر عرف کندا کوزخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ کندا گروپ کے سربراہ سکندر عرف کندا کو تحریک امن تناول کے دوران پولیس نے گرفتار کیا تھا اور اس وقت راضی نامہ کے بنیاد پر سکندر عرف کندا قتل اور دیگر سنگین جرائم کا لیبل اپنے اوپر سے اتارنے میں کامیاب ہوا۔ بعد ازاں اس نے دوبارہ قتل کی وارداتوں کے بعد مفروری کی زندگی گزارنی شروع کی ۔ڈی پی او مانسہرہ شیر اکبر خان نے پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران سکندر عرف کندا کی گرفتاری کے متعلق صحافیوں کو مطلع کرتے ہوئے بتایا کہ سکندر عرف کندا پولیس کو قتل کی سات وارداتوں میں مطلوب تھا۔ جبکہ اس کے علاوہ اس پر اقدام قتل اور دیگر سنگین وارداتوں کے مقدمات بھی درج ہیں۔ سکندر عرف کندا کو زخمی حالت میں طبی امداد کی فراہمی کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ اس کے ساتھیوں کے ریکارڈ کی چھان بین کے لئے جملہ تھانوں سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  کہ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر بیٹھے دہشتگرد دس محرم کو تعلیم القران راجہ بازار میں رونما ہونے والے سانحہ میں بھی ملوث تھے، مولانا احمد لدھیانوی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker