تازہ ترینعلاقائی

مانسہرہ:صوبائی وزیرجنگلات کے بھائی کیخلاف 16سالہ لڑکی کے اغواء کا مقدمہ رجسٹر

mansehraمانسہرہ(بیورورپورٹ)صوبائی وزیر جنگلات کے بھائی بین الاقوامی وزیر اغواء کار عاشق حسین عرف کالا کے خلاف 16سالہ لڑکی کے اغواء کا مقدمہ رجسٹر۔ گرفتاری کے لئے ڈی پی او مانسہرہ نے پولیس کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے فوری طور پر مغویہ کی برآمدگی کا حکم دے دیا۔ مغویہ کے بھائی نے صوبائی وزیر جنگلات کی مداخلت کی وجہ سے انصاف کے حصول کا ناممکن قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق دو ہفتے قبل فاطمہ الزھرہ گرلز ڈگری کالج میں زیر تعلیم 16سالہ طالبہ مسماۃ ’’ث‘‘ کو صوبائی وزیر جنگلات حاجی ابرار حسین بالا کے بھائی عاشق حسین عرف کالا ولد پیر محمد نے اپنے ساتھی علی ولد توصیف سکنہ سفیدہ سے مل کر زبردستی اغواء کر لیا۔جس پر مغویہ کے بھائی نے تھانہ سٹی میں رپورٹ درج کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی بہن حسب معمول کالج حصول تعلیم کے لئے گئی اور واپس نہ آئی۔ مغویہ کے بھائی سہراب نے اپنی بہن کی اغوائیگی کی دعویداری صوبائی وزیر جنگلات کے بھائی عاشق حسین کالااور اس کے ساتھی علی ولد توصیف پر کی۔ ڈی پی او مانسہرہ عبدالغفور آفریدی نے واقعہ کی نسبت سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس تھانہ سٹی کو فوری طو رپر مقدمہ کے اندراج کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کو 24گھنٹے کے اندر گرفتار کرنے اور مغویہ کی بازیابی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جس پر پولیس نے بحوالہ مقدمہ علت نمبر685جرم 365B/34کے تحت مقدمہ رجسٹر کر لیا۔ تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک ملزمان کی گرفتاری ممکن نہیں ہو سکی اور نہ ہی مغویہ کی برآمدگی ممکن ہو سکی۔ یہ بھی اطلاعات منظر عام پر آ رہی ہیں کہ 45سالہ عاشق حسین عرف کالا نے لڑکی کے اغواء کے بعد خود کو قانون کے شکنجے سے بچانے کے لئے 16سالہ لڑکی کا نکاح اپنے ساتھ پڑھوا دیا اور اس نسبت یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پولیس کے چند ٹکے ماروں نے عاشق حسین عرف کالا کو بچانے کے لئے اس کی خفیہ حمایت جاری رکھی اور اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے اس کے بچاؤ کے راستے ہموار کئے اور بارہا معاملہ کو جرگہ کی سطح پر حل کرنے کی ہدایت کرتے رہے۔لڑکی کے اغواء کے بعد اپنے بچاؤ کے لئے عاشق حسین عرف کالا نے لڑکی کے بیانات بیرون شہر مجسٹریٹ کے پاس قلمبند کروائے ہیں۔ دوسری جانب مغویہ کے بھائی سہراب نے پائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بہن کو اغواء کرنے والوں نے اس سے قبل بھی کئی نوجوان لڑکیوں کی عزتوں کے جنازے نکالے ہیں اور قانون مکمل طور پر ان کی پشت پناہی کرتا رہا۔ جس وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہوتے رہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں پولیس سے انصاف کی بالکل توقع نہیں ہے کیونکہ اس کی مغویہ بہن کو انتہائی پریشر میں رکھا ہوا ہے اور اسے تاحال برآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا صوبائی وزیر جنگلات کی مداخلت کی وجہ سے انہیں انصاف ملنا کسی صورت ممکن نہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker