پاکستانتازہ ترین

لڑکی سے معاشقہ کی پاداش میں قتل کرنے والے کو سنائی جانے والی سزائے موت پر عملدرآمد شروع ہونے کا امکان

مانسہرہ(بیورو رپورٹ/قاضی بلال سے)سولہ سال قبل مانسہرہ میں نوجوان العمر شخص کو لڑکی سے معاشقہ کی پاداش میں قتل کرکے اس کے جسم کے ٹکڑے کرنے والے عورت فاؤنڈیشن مانسہرہ کے سربراہ ملک اکبر کے بیٹے خرم ملک کو سنائی جانے والی سزائے موت پر عملدرآمد شروع ہونے کا امکان۔سترہ قیدیوں کی سزائے موت کی وزیر اعظم سے منظوری کے بعد مزید قیدیوں کی سزائے موت کے لئے پیش کردہ فہرست میں خرم ملک کا نام بھی شامل کر دیا گیا۔ آئندہ ہفتہ کے دوران اعجاز عرف گوگا کو قتل کرکے اس کے جسمانی اعضا کو بے دردی سے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے خوف و دہشت کی علامت خرم ملک کی نعش مانسہرہ پہنچنے کے امکانات دہشت گردی کے مقدمہ میں ملوث قیدیوں کی سزائے موت ختم ہونے کے ساتھ ہی روشن ہو گئے۔ اس بارہ میں ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث ہزاروں قیدیوں کی سزائے موت سے پابندی اٹھائے جانے کے فیصلے کے بعد سنٹرل جیل ہری پور میں سزائے موت کے قیدی خرم ملک کی سزاپراس ہفتہ کے دوران عملدرآمد کرتے ہوئے اس کی نعش کو آبائی علاقہ مانسہرہ میں بھیجے جانے کی تیاریاں شروع ہیں۔ حکومتی فیصلے کے بعد خرم ملک کے خاندان اور عزیز و اقرباء کی نیندیں ایک بار پھر اڑ گئیں اور انہوں نے اس فیصلہ کیخلاف خرم ملک کو بچانے کے لئے اپنے ہاتھ پاؤں مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ خرم ملک کے مقدمہ کی بابت مبینہ ذرائع نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خرم ملک نے سال 1998 ؁ء کے دوران مسماۃ نازیہ نامی ایک لڑکی سے عشق کی داستان شروع کر رکھی تھی۔نازیہ نامی اس لڑکی کے ساتھ مقتول اعجاز عرف گوگا کی عشق کی کہانی کو ختم کرنے کے لئے خرم ملک نے اعجاز عرف گوگا کو یہ کہہ کر نازیہ کے گھر بلایا کہ آج نازیہ کے روبرو اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کس سے پیار کرتی ہے۔ عشق کی اس داستان کے فیصلے کے لئے خرم ملک اعجاز عرف گوگا کو نازیہ کے گھر واقعہ ڈب لے کر گیا جہاں لڑکی نے اپنے عشق کا ووٹ خرم ملک کے حق میں دیا۔ نازیہ کے اس فیصلے کے بعد خرم ملک نے اعجاز عرف گوگا سے تکرار شروع کرتے ہوئے اس پر حملہ کر کے اس زخمی کر دیا اور بالآخر لڑکی کی معاونت سے اسے قتل کر دیا۔ قتل کرنے کے بعد اعجاز عرف گوگا کے خون نالیوں میں بہنا شروع ہوا اور اعجاز عرف گوگا نے اس کو غائب کرنے کے لئے گھر میں پانی کھول دیا اور جا کر ایک تیز دھار چھری لے آیا اوراس کے جسم کے ٹکڑے کرنے شروع کر دیئے۔ خرم ملک کے مطابق نعش کے ٹکڑے کرنے کے دوران اعجاز گوگا کی کھلی آنکھیں اسے گھور رہی تھی۔ جس پر نازیہ نے اس کے چہرے کو کپڑے سے ڈھانک دیا اور خرم ملک نعش کے ٹکڑے کرتا رہا۔ نعش کی ٹانگیں، بازو، ہاتھ، پاؤں ، سر اور دیگر جسمانی اعضاء کے ٹکڑے کرنے کے بعد خرم ملک نے اپنے والد ملک اکبر کی گاڑی میں انہیں ڈال کر چھانجہ کے مقام پر ان ٹکڑوں کو پھینکا اور چند ٹکڑے کنگ عبداللہ ہسپتال کے قریب سابقہ ظفر گراؤنڈ کے قریب کنویں میں پھینک دیئے۔ وقوعہ کے بعد خرم ملک بالکل مطمئن تھا ۔ تاہم وقوعہ کی اصل کہانی اس وقت کے مایہ ناز تفتیشی افسر آصف گوہر کی تفتیش کے دوران بے نقاب ہو گئی اور انہوں نے اپنی تفتیش کے دوران مقتول اعجاز عرف گوگا کے جسمانی اعضاء کے ٹکڑوں، آلہ قتل اور دیگر استعمال ہونے والی اشیاء برآمد کیں اور مقدمہ میں شواہد اکھٹے کرنے شروع کئے۔تفتیش کے دوران خرم ملک نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے جملہ کہانی سے بھی پردہ اٹھا دیا۔ علاقہ میں قتل کی اس لرزہ خیز واردات کے بعد علاقہ بھر میں شدید خوف وہراس پھیل گیا اور خرم ملک کے کیس کے میڈیاٹرائل کے بعد عدالت نے مقدمہ کی باقاعدہ سماعت شروع کی۔ مقدمہ کی نوعیت کے پیش نظر اس مقدمہ کی سماعت سپیڈی ٹرائل کے طور پر کی گئی اور ہر دوسرے دن سماعت کے دوران مقدمہ میں کاروائی جاری رکھی گئی۔ خرم ملک کے مقدمہ میں مقتول خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس وقت کے مایہ ناز وکلاء نے خرم ملک کے خلاف مقدمہ میں بلا معاوضہ خدمات سرانجام دینی شروع کیں۔ اس وقت کے مایہ ناز وکیل اور سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اعجاز افضل خان بھی مقدمہ میں بلامعاوضہ خدمات سرانجام دینے والے وکلاء میں سرفہرست تھے۔ مقدمہ میں گواہان کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد دونوں فریقین کی جانب سے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اس وقت کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مانسہرہ نے خرم ملک کو سزائے موت کا سنایا۔ جس پر خرم ملک نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی۔ مگر ان دونوں اپیلوں میں خرم ملک کے خلاف فیصلہ ہونے کی وجہ سے سزائے موت بحال رہی اور سزائے موت کا حکم جاری ہونے کے بعد خرم ملک کے والد ملک اکبر نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو رحم کی اپیل پیش کی۔ مبینہ ذرائع نے بتایا کہ اس وقت کے صدر نے خرم ملک کی سزا پر وقتی طور پر عملدرآمد روک دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اس کی رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی اور اس کو موت کی سزا دیئے جانے کا حکم بدستور بحال رہا۔ مگر بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سزائے موت پر پابندی عائد کر دی۔ جس کے نتیجے میں خرم ملک بدستور سنٹرل جیل ہری پور میں اپنی زندگی کے آخری ایام گن رہا ہے۔ مبینہ ذرائع نے بتایا کہ موت کی سزا پانے کے بعد خرم ملک نے اپنے آپ کو چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس کے والد نے بھی اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا۔ مگر کوئی صورت کارآمد نہ ہو سکی۔ بالآخر اسی عرصہ کے دوران خرم ملک نے جیل سے میٹرک کا امتحان دینے کے لئے اپنا داخلہ بھیجااور میٹرک کے امتحانات میں شمولیت کی غرض سے سخت سیکورٹی میں امتحانات دینے شروع کئے۔ اس دوران سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کو روٹی کے بہانے ہوٹل لے جا کر ان سے سرکاری اسلحہ بھی چھین کر خرم ملک کراچی فرار ہو گیا اور وہاں بھی متعدد وارداتیں کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ خرم ملک نے پہلے سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ہوا تھا اورایبٹ آباد بورڈ کے عملہ کی ملی بھگت سے دوبارہ امتحانات میں شمولیت صرف اپنی راہ فرار کو ہموار کرنے کے لئے حاصل کی۔خرم ملک کے فرار کے بعد مانسہرہ میں بھی وارداتوں کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ۔ اس فرار کے بعد پولیس نے انتہائی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خرم ملک کو دوبارہ گرفتار کیا اور اسے سنٹرل جیل ہریپور میں انتہائی حفاظتی قید میں رکھنے کی اپیل کی۔ ابتدائی عدالت سے سپریم کورٹ آف پاکستان اور پھر صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے سزائے موت بحال رکھے جانے کی وجہ سے خرم ملک اس وقت حکومت کی جانب سے سزائے موت پر پابندی کی وجہ سے مستفید ہوتا رہا۔ مگر پشاور میں ہونے والے موجودہ واقعات کے بعد آل پارٹیز کانفرنس اور حکومتی مشاورت کے بعددہشت گردی میں ملوث سزائے موت کے قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرنے کے حکم کے ساتھ ہی خرم ملک کی سزائے موت بھی یقینی ہو گئی ہے اور آئندہ ہفتہ کے دوران خرم ملک کو سزائے موت دیئے جانے کا امکان ہے۔ مبینہ ذرائع نے بتایا کہ چونکہ حکومت نے دہشت گردی میں ملوث قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں چونکہ اعجاز عرف گوگا کے قتل میں ملوث خرم ملک کے مقدمہ کے دوران ہزارہ بھر میں دہشت گردی کی عدالتیں نہ تو موجود تھیں اور نہ ہی اس قانون کا اطلاق اس وقت کیا جاتا ہے۔ مگر خرم کے قتل کے واقعات ، شواہد اور اس کی سزا کی نوعیت کے پیش نظر اسے سزائے موت سنائے جانے کا قوی امکان ہے اور اس ہفتہ کے دوران اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ خرم ملک کی سزائے موت پر عملدرآمد کے فیصلے بعد خرم ملک کے خاندان اور عزیز واقرباء کی نیندیں ایک بار پھر اڑ گئی ہیں اور انہوں نے عملدرآمد رکوانے کے لئے اپنے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن مانسہرہ کا صوبائی بار کونسل کی ہدایت پرعدالتوں کا بائیکاٹ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker