پاکستان

حقانی نے امریکہ کو ایٹمی اثاثوں تک رسائی کی یقین دہانی کرائی،منصوراعجاز

منصور اعجاز نے وڈیو لنک کے ذریعے میمو تحقیقاتی کمیشن کے سامنے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حسین حقانی نے امریکہ کو پاکستانی ایٹمی اثاثوں تک رسائی, اسامہ کی بیوائوں بارے معلومات کی فراہمی اور آئی ایس آئی کے ایس ونگ کو بند کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی.انہوں نے بیان ریکارڈ کرانے سے پہلے اہم شواہد سیکرٹری میمو کمیشن راجہ جواد عباس کے حوالے کئے. منصور اعجاز نے اپنے اور حسین حقانی کے بلیک بیری کا پن کوڈ اور ای میل ایڈریس بھی میمو کمیشن کے حوالے کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس قاضی عیسیٰ فائز کی سربراہی میں میمو تحقیقاتی کمیشن نے منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کرنا شروع کیا۔ ویڈیو لنک پر سیکرٹری کمیشن راجہ جواد عباس نے منصور اعجاز کی شناخت کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد منصور اعجاز نے کمیشن کو بیان حلفی ریکارڈ کروانا شروع کر دیا۔ منصور نے اپنی ولدیت مجدد احمد اعجاز اور پتہ ورجینیا امریکہ لکھوایا۔ منصور اعجاز نے کہا کہ وہ کمیشن کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کی گزارشات سنیں اور بیان دینے کا موقع فراہم کیا۔ اپنے حلفیہ بیان میں منصور اعجاز نے کہا اگر وہ جھوٹ بولیں تو ان پر خدا کا قہر نازل ہو۔ بیان کے دوران آڈیو رابطے میں خلل پیدا ہونے سے کمیشن کی آواز منصور اعجاز کوسنائی نہیں دی۔ منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ انہوں نےکاغذ پرنوٹس لکھے ہوئے ہیں۔ کاغذ پر اعتراض ہے توتحریری بیان مان لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دس سال سال سے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں اور صدر زرداری سے ملاقات حسین حقانی کے کہنے پر کی تھی۔ وہ ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔ انہوں نے حسین حقانی سے رابطے کیلئے استعمال ہونے والا بلیک بیری کمیشن کو دکھایا۔ کمیشن کو ریکراڈ کرائے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا حسین حقانی سے رابطہ 3 مئی 2011 ء کو ہوا تھا۔ حسین حقانی نے اپنے پیغامات میں کہا کہ پاکستان کی فوج حکومت کو گرانا اور صدر زردای کو زیر تابع کرنا چاہتی ہے۔ حسین حقانی اس وقت پریشان لگ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 9 مئی 2011ء کو بھی حسین حقانی کا پیغام ملا تھا۔ حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے منصوراعجاز کا بیان لینے کے طریقہ کار پراعتراض کیا اور کہا بیان اردو یا انگریزی میں لیا جائے، شارٹ ہینڈ میں نہیں۔ زاہد بخاری نے کمیشن سے درخواست کی کہ انہیں برطانیہ جانے کی مہلت دی جائے، یہاں رہ کر جرح نہیں کرسکتے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جرح کا موقع دیں گے، بیان ریکارڈ کرلینے دیں۔ بیان کےدوران زاہد بخاری کے اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا رہا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker