پاکستان

حقانی نے اہم پیغامات زرداری کے کہنے پر دیئے ،منصوراعجاز

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)میمو گیٹ کے مرکزی کردار منصوراعجاز نے کہاہے کہ حسین حقانی نے اپنے پیغام میں کہاتھا کہ ایبٹ آباد کمیشن میں امریکی مرضی کے افراد کی شرکت ،ملاعمر اور ایمن الظواہری کی گرفتاری میں تعاون اور ممبئی حملوں کے ملزمان کی گرفتاری کے نکات پیش کیے تھے ۔پاکستانی سیاست میں ہلچل مچانے والے میمو گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے قائم کیے گئے کمیشن کا اجلاس جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی زیرصدار ت ہوا جس میں لندن میں بیٹھے ہوئے کیس کے مرکزی کردار منصور اعجاز کا وڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا جارہاہے۔انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ حسین حقانی نے مجھ سے کہاتھا کہ میں زرداری کے کہنے پر سب کچھ کہہ رہاہوں جس پر ہمارے درمیان کورڈ ورڈ طے ہوئے۔منصور اعجاز نے بتایا کہ حسین حقانی نے جھوٹ اور چالاکی سے کام لیا جو میں سمجھ نہیں سکا اس کا کہناتھا کہ فوج اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہےاس بارے میں امریکا کو فوراً آگاہ کردیاجائے جبکہ ہمارے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا بل بھی کمیشن کو بھیج رہا ہوں تاکہ مزید معلومات حاصل ہوسکے مگر میری استدعا ہے کہ بل کو خفیہ رکھا جائے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سفیر نے مجھ سے کہاکہ جیمز جونز سمیت کئی اہم امریکی افراد سے رابطے کا کہاتھا جو کہ میں کردیئے تھے جن کی مکمل معلومات ٹیلی فونک بل میں موجود ہے۔اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے کمیشن کے سامنے فون پیغامات کے فرانزک ٹیسٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ بلیک بیری کے 81پیغامات کا معاملہ ہے جب کہ لندن میں موجود کمیشن کے سیکریٹری فرانزک ماہر نہیں۔حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے کمیشن کے روبرو اعتراض اٹھایا کہ گواہ کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وہ مسلسل فون سے کھیل رہا ہے جب کہ ساتھ بیٹھے سیکریٹری کمیشن انہیں روک بھی نہیں رہے۔انہوں نے مزید کہاکہ میں عدالت کو باور کرواچکا ہوں کہ باہر بیٹھے گواہ پر ملک سے کنٹرول مشکل ہوگاجب کہ گواہ کے ایسے بیان پر ریکارڈ اٹھیں گے۔کمیشن کی ہدایت پر منصور اعجاز نے اپنا فون میز پر رکھ دیاجب کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے زاہد بخاری سے کہاکہ وہ ہر معاملے پر اعتراض نہ اٹھائیں کیونکہ اس وقت بیان ریکارڈ ہورہاہے۔منصور اعجاز نے پاکستانی سیاسی و عسکری رہنماوں سے تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ میں نے درست باتوں کو تحریری صورت میں کمیشن کے سیکریٹری کو دیدیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دس سال سال سے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں اور صدر زرداری سے ملاقات حسین حقانی کے کہنے پر کی تھی جب کہ ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا سے بھی ملاقات کر چکا ہوں۔ان کے مطابق میں 2003میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل احسان الحق سے برسلز،جنرل پر ویز مشرف سے 2005ءاور 2006ء میں لندن ،اور صدر آصف علی زرداری سے 2009ء میں ملاقات کرچکا ہوں۔منصور اعجاز نے وڈیو لنک کے ذریعے میمو تحقیقاتی کمیشن کے سامنے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے بیان ریکارڈ کرانا شروع کر دیا،بیان ریکارڈ کرانے سے پہلے اہم شواہد سیکرٹری میمو کمیشن راجہ جواد عباس کے حوالے کر دیئے گئے۔منصور اعجاز نے اپنے اور حسین حقانی کے بلیک بیری کا پن کوڈ اور ای میل ایڈریس بھی میمو کمیشن کے حوالے کر دیا ہے۔ویڈیو لنک پر سیکرٹری کمیشن راجہ جواد عباس نے منصور اعجاز کی شناخت کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد منصور اعجاز نے کمیشن کو بیان حلفی ریکارڈ کروانا شروع کر دیا۔ویڈیو بیان کی ریکارڈ نگ کے دوران منصور نے اپنی ولدیت مجدد احمد اعجاز اور پتہ ورجینیا امریکہ لکھوایاانہوں نے کہاکہ وہ کمیشن کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کی گزارشات سنیں اور بیان دینے کا موقع فراہم کیا۔اپنے حلفیہ بیان میں منصور اعجاز نے کہا اگر وہ جھوٹ بولیں تو ان پر خدا کا قہر نازل ہو۔منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ انہوں نےکاغذ پرنوٹس لکھے ہوئے ہیں کاغذ پر اعتراض ہے توتحریری بیان مان لیا جائے۔انہوں نے حسین حقانی سے رابطے کیلئے استعمال ہونے والا بلیک بیری کمیشن کو دکھایا کمیشن کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا حسین حقانی سے رابطہ 3 مئی 2011 ء کو ہوا تھا۔ان کے مطابق حسین حقانی نے اپنے پیغامات میں کہا کہ پاکستان کی فوج حکومت کو گرانا اور صدر زردای کو زیر تابع کرنا چاہتی ہےپاکستانی سفیر اس وقت پریشان لگ رہے تھےان کا پیغام مجھے 9 مئی 2011ء کو ملا تھا۔حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے منصوراعجاز کا بیان لینے کے طریقہ کار پراعتراض کیا اور کہا بیان اردو یا انگریزی میں لیا جائے، شارٹ ہینڈ میں نہیں۔ زاہد بخاری نے کمیشن سے درخواست کی کہ انہیں برطانیہ جانے کی مہلت دی جائے، یہاں رہ کر جرح نہیں کرسکتے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جرح کا موقع دیں گے، بیان ریکارڈ کرلینے دیں۔ بیان کےدوران زاہد بخاری کے اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا رہا۔یادرہے کہ منصور اعجاز نے اپنے ایک اخباری آرٹیکل میں میمو کےحوالے سے انکشاف کیاتھا جس کے بعد پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی اور معاملہ سابق وزیراعظم نواز شریف سپریم کورٹ لے گئےتھے۔میمو کمیشن کی کارروائی کل بروز جمعرات پاکستانی وقت کے مطابق 2بجے دوپہر اور لندن وقت کے مطابق  9بجے ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker