تازہ ترینرقیہ غزلکالم

منزلیں خود خیر مقدم کریں گی

roqiaپاکستان کو وجود میں آئے 68برس بیت گئے مگر وڈیرہ شاہی ،نوکر شاہی اور تھانہ کلچر کا خاتمہ نہ ہوسکا ،ہمیں ایک ایسا سیاسی نظام ورثے میں ملاجو کہ سراسر غریب و نحیف آدمی کے استحصال کا باعث تھا ،اس کی تنظیم میں افسروں کو مغربی تہذیب ومعاشرت کا سبق پڑھانا اور سیکولرازم کا جام پلانا طے تھا تاکہ مسلمان قوم ہمیشہ ہی غلام رہے اور ان پر مغرب کا تسلط قائم رہے ۔افسوس ہم نے اسی انتظامی ڈھانچے کو اپنے لیے مناسب جانا اور اسی پر اپنے آزاد مسلم وطن کی اساس قائم کر دی ۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیوروکریسی ایک ہوّابن گئی ۔غریب آدمی کے لیے افسران بالا تک رسائی جیسے چاند پر چڑھائی ہو گئی ۔اس نظام کی مخالفت میں باتیں تو بہت ہوئیں ،وعدے بھی کیے گئے ،یہاں تک کہ ہر دور کے حکمران نے اسی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی مگر بر سر اقتدار آتے ہی جزبہ خدمت ذاتی مفادات اور مضبوطی اقتدار کی بھینٹ چڑھ گیا اوردستاروں میں پلنے والے گناہ غلام گردشوں میں دفن ہوتے رہے ۔وقت کے منصف انصاف کومصلحتوں اور مفادات کی بھینٹ چڑھاتے رہے اوربند دروازوں میں سیاہ کاروں کو انعامات ملتے رہے جو آوازبھی اٹھی ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئی، جو سر اٹھا تن سے جدا کر دیا گیا ۔وقت کا پہیہ گھومتا رہا یہاں تک کہ آوازیں کاغذوں تک معدوم ہو گئیں ، ذاتی اغراض و مقاصد کے لیے اٹھ ہوئے سر جھک گئے ،اپنے اپنوں سے بر سر پیکار ہوگئے ،موت اور لاقانونیت شہروں میں رقص کرنے لگی ،رہی سہی کسر دہشت کے عفریت ،افراط زر کی کمی اور چادر وچار دیواری کی پامالی نے نکال دی ،اس ابولہواس ماحول نے جذبات اور احساسات کو سردکر دیا ،احساس زیاں سلب ہو کر حرص پر قربان ہو گیا اور اب حالات یہ ہوگئے ہیں کہ
کوئی نہیں بچانے کو آگے بڑھا حضور
ہر ایک نے دوسرے سے کہا شہر کو بچا
آج بے حسی اور نفسا نفسی کا عالم یہ ہے کہ اگر سر بازار کوئی کسی کو جلا دے یا کوئی خود سوزی کا مرتکب ہو رہا ہواور خود کو آگ لگا رہا ہوتو کوئی روکنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اس منظر کی موبائیل پرویڈیوبنائی جاتی ہے،کوئی کسی کو پیٹ رہا ہوتو کوئی ہاتھ نہیں پکڑتا ،مضافاتی علاقوں میں زر اور زمین کے جھگڑوں میں وڈیرے سر عام عزتوں سے کھیلیں اور اپنے بھوکے کتوں کو معصوم بچوں اور عورتوں پر چھوڑدیں تو عوام سمیت پولیس تماشا دیکھتی ہے ،سر عام کوئی کسی کو لوٹ رہا ہو تو دیکھنے والے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ،کوئی تیز رفتار بس یا گاڑی کسی کو کچل دے تو جب تک ایدھی کی وین نہیں آجاتی کوئی کسی زخمی کو ہسپتال نہیں پہنچاتا ، زخمی ہسپتال پہنچ جائے تو جب تک کاغذی کاروائی نہ ہوجائے کوئی ڈاکٹر ہاتھ نہیں لگاتا،مائیں ہسپتال کی سیڑھیوں اور رکشوں میں بچوں کو جنم دے دیتی ہیں مگر ڈاکٹر کی ایک ہی رٹ ہوتی ہے پہلے پرچی بنوائیں پھر آئیں ، معصوم غنچوں کو مسلا جا رہا ہے مگر ایسی سزا کا نفاذ نہیں ہوسکا جوایسے حیوانوں کے حوصلے توڑ دے ۔الغرض ،رحم دلی ،محبت ،عزت ،سخاوت ،جذبہ خدمت ،اتحااورایثا و قربانی کی جگہ حیوانیت ،وحشت ،بر بریت ،فرقہ واریت ،ہوس پرستی اور انتہا پسندی نے لے لی ہے۔
کہنے کو سبھی کہتے ہیں ،لکھنے والے لکھتے ہیں کہ ملک لٹ رہا ہے ،جان و مال کا تحفظ نہیں رہا ،چاد ر اور چار دیواری کا تحفظ پامال ہو رہا ہے ،لوگ مر رہے ہیں ،بچے تشدد اور زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں ،میڈیا پر مغربیت اور مفاد پرستی کا بول بالا ہے ،جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز بنا کر دکھایا جا رہا ہے ،ملا فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو عام کر رہے ہیں ،نفرتوں اور عداوتوں نے رشتوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے ،معاشرتی مسائل اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ عدم برداشت اور رواداری کا جنازہ اٹھ چکا ہے ،زندگی سسک رہی ہے یہاں تک کہ ہوائیں بھی بین کر رہی ہیں ۔مگر ۔۔حکومت خاموش ہے ۔۔ساری توجہ چند منصوبوں پر لگی ہوئی ہے ،بیرونی ممالک سے قرضے پہ قرضہ لیکر انہی قرضوں کا سارا پیسہ انہی چند پراجیکٹس پر لگ رہا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت نے 80ارب روپے میٹروپر لگا دئیے ہیں کاش چند کروڑ روپے کسی ہسپتال ،سکول یا فلاحی ادارے میں بنیادی سہولیات کے لیے لگا دئیے جاتے تو ملک ان چند بحرانوں سے تو باہر آجاتا ۔عوام کو کچھ ریلیف تو ملتا مگر یہ بھی سچ ہے کہ اگر حکومت خاموش ہے تو ہم سب میں سے کونسا’’ شخص‘‘متحرک ہے ۔۔!حکومت اپنا راگ الاپ رہی ہے کہ ہم ترقی کے دروازے پر کھڑے ہیں اورعوام و دنشوران کہہ رہے ہیں کہ ملک کو بچائیں جو کہ عنقریب دیوالیہ ہو کر خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے ۔کوئی گروپ ،کوئی ادارہ یا کوئی گروہ جو کہ اپنی مدد آپ کے تحت پیسے جمع کر کے ہسپتالوں اور سکولوں کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کر دیں ،مذہبی انتشار کو ملکر تمام علماء مل بیٹھ کر ختم کر دیں ،عوام محلوں اور گلیوں کی صفائی ملکر انجام دے لیں ،ہر آدمی دوسرے کے بچے کو اپنا بچہ سمجھے اور اگر کوئی غلط نظر ڈالے تو موقع پر اس کو پکڑ کر سرزنش کی جائے ،عورت کی عزت ہو تاکہ اگر ہوا کی بیٹی غلطی سے ایسے کسی مردکا شکار ہو جائے جو بلیک میلنگ جیسے گھناؤنے کھیل کھیلتے ہیں تو وہ اپنے بڑوں کو بتا کر اس مصیبت سے نکل سکے ۔میڈیا کو مجبور کیا جائے کہ وہ اسلامی کلچر کو فروغ دے اور بے انتہا تفریحی پروگرام بند کئے جائیں تاکہ ہماری نوجوان نسل اسلامی اقدار ،روایات اور طرز معاشرت سے روشناس ہو سکے،ویسے بھی ہم نے اس’’ ماڈرنائیزیشن‘‘ سے اب تک کیا حاصل کیا ہے جبکہ جن ممالک نے اسے عام کیا ہے وہاں واردات اور ریپ کیسسز انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور وہ ممالک اس’’ براڈ مائنڈڈ کلچر‘‘ سے اب خود بھی بیزار ہو چکے ہیں ،انڈیا اس وقت خود ریپ کیسسز پر کنٹرول پانے میں ناکام ہو چکا ہے نتجہً عوامی سطح پر سب اپنے طور پر سعی کر رہے ہیں ۔ رہی بات دیگر اہم سہولیات کی تو ملک میں کئی ہسپتال ،ادارے ،سکولز اور روزگار کی فیکٹریاں عوام کے پیسوں سے بنی ہیں ،اس ملک میں خوشحال لوگ بھی ہیں ،اگر میڈیا مجبور و مقہور لوگوں کو سکرین پر بٹھا کر لاکھوں روپے لے سکتا ہے تو انہی لوگوں کی آسانیوں کے لیے پیسے جمع کر کے کیوں سہولیات فراہم نہیں کی جا سکتیں ۔
آج ہم سب کو ملکر ملک کو بچانا ہوگا۔حکومت کو لگتا ہے سڑکیں ہی اس ملک کے بحرانوں کا حل ہیں تو حکومت کو اسی نشہ میں مست مئے پندار رہنے دیجئے ،آپ خود آگے بڑھئیے اور اس ملک کو سماجی خدمت کے جزبہ سے بچائیے ۔۔آپ آغاز تو کیجئے منزلیں خود آپ کو آواز دیں گے ۔اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور قدم بڑھائیے یقین کیجئے جو اس پر بھروسہ رکھتا ہے وہ کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتا،آپ نے کیوں بھلا دیا کہ ایک چھری نے اسماعیلؑ کو نہیں مارا ،آگ نے ابراہیم ؑ کو نہیں جلایا ،مچھلی نے یونسؑ کو نہیں کھایا،پانی نے موسیؑ کو نہیں ڈبویا وہ پیغمبر تھے مگراعلیٰ ترین انسان تھے ،ان کے دل اللہ پر یقین و ایمان سے منور تھے اور مشکلات کے باوجود وہ ڈٹے رہے اور جیت ان کا مقدر ہوئی ۔اسی یقین کے ساتھ چلیے منزلیں خود خیر مقدم کریں گی۔آپ جاگیے پھر حاکم شہر خود بخود جاگ جائے گا !

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button