بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

مقبول بٹ کی شہادت سے مفاداتی جنگ تک

bashir ahmad mirآج دن کی مناسبت سے کالم حاضر ہے ،اگرچہ افضل گورو کے بارے لکھنے کو جی چاہ رہا تھا مگر پھر سوچا کہ ان کے بارے کل آپ کی خدمت میں تحریر پیش کروں گا۔تاہم افضل گورو شہید کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے عرض حال ہے کہ
11 فروری 1984کا دن جموں کشمیر کی عوام کے لئے ایسی یاد چھوڑ چکا جس نے آذادی کی شمع کو ہمیشہ کیلئے روشن کر دیا،قائد حریت محمد مقبول بٹ شہید نے آج کے دن کشمیر کی آذادی کا پرچم تھامنے کی سزا تہاڑ جیل بھارت میں پھانسی کا پھندہ چوم کر تا ابد زندہ جاوید کر دیا۔وہ جس عظیم مشن کو لیکر چلے انہوں نے جان دے دی مگر تحریک پر آنچ نہیں آنے دی،وہ نہ جھکے ،نہ بکے اور نہ ہی کٹے بلکہ انہوں نے سر بلند کر کے ظلم و نا انصافی ،جبر و استبداد ،غلامی و محکومی اور بے بسی و بے حسی کے خلاف علم جہاد بلند کر کے تاریخ میں امر ہونے کا اعزاز پا لیا ۔مقبول بٹ کون تھا اور کیوں اس کا نام آذادی کے متوالوں میں شمار کیا جاتا ہے اور رہے گا ۔۔۔؟ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاتا رہا اور اب بھی مقبول بٹ ایک تاریخ کا نام بن کر ہر کشمیری کے دل و دماغ میں سما چکا ہے۔ بٹ شہید کی تعریف و توصیف اپنی جگہ ،اس پر بہت لکھاڑی لکھیں گے مگر میں آج بٹ شہید کے مشن کے رکھوالوں اور کشمیرکی سیاسی قیادت کا ’’کریک ڈاؤن‘‘ اس شعر سے کروں گا کہ
یاں پربت پربت ہیرے ہیں
یاں ساگر ساگر موتی ہیں
کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر
پردے لٹکائے پھرتے ہیں
ہر پربت کو ہر ساگر کو
نیلام چڑھائے پھرتے ہیں
حریت پسند مقبول بٹ شہید کو آذادی کا نعرہ لگانے کے جرم میں جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا مگر 28برس گذرنے کے بعد اس عظیم حریت پسند کے قرض کو نہ ہی اس کے حامیوں نے ادا کیا اور بد قسمتی سے دونوں اطراف کے کشمیریوں کی قیادت نے بھی ایسا کر نہ سکا ،بلکہ انتہائی قابل ذکر سیاسی شخصیت نے مقبول بٹ کی شہادت پر کہا کہ ’’وہ تو ڈکیتی کے جرم میں پھانسی لگا ،کہاں آذادی کا ہیرو کہلا سکتا ہے‘‘حالانکہ شہید بٹ کی شمع آذادی روشن کرنے میں حالیہ تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیری نوجوانوں ،بزرگوں اور بچوں کا خون شامل ہے ۔8لاکھ بھارتی افواج کا جبر کشمیر کے قریہ قریہ غلامی کا منظر پیش کر رہا ہے۔معذرت کے ساتھ کچھ حقیقت پسندانہ طرز تکلم کرنے کی جسارت کروں گا اور کشمیر کی آذادی کے دعویٰ داروں کے چہروں سے ماس ہٹا کر اصل حقائق پیش کرنے کی کوشش پر پیشگی معذرت چاہوں گا۔
ارض کشمیر کو لوٹنے ،بیچنے اور غلامی کی زنجیر بنانے میں ہمارے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں ،کچھ شخصیاتی تصادم اور کہیں مفاداتی دوڑ نے ہمیں آذادی کی منزل سے دور بہت دور کر رکھا ہے ۔بھارت کا جبر ،ظلم ،تسلط ،تعلق ایک طرف ،اپنوں نے جو گل کھلائے وہ قابل صد افسوس ہی نہیں بلکہ قابل سزا ہیں۔اگر ایمانداری سے تاریخی کلیاں کھولیں جائیں تو بہت سے خون خوار ہمارے آستینوں کے سانپ آنکھیں سر نگوں کئے نظر آئیں گے۔بد قسمتی تو یہ ہے کہ آج ہم
ہماری دربدری کا یہ ماجرا ہے کہ ہم
مسافروں کی طرح اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں آذاد ہوئیں ان کا رہبر و رہنما ایک تھا ،ان کا نظریہ اور منزل ایک تھی ،ان کی سمت اور جد و جہد ایک تھی ،مگر 66برس گذر گے نہ ہمارا رہنما ایک رہا اور نہ ہماری منزل و نظریہ ایک ہے ،چوں چوں کا مربہ ،درپردہ قوتوں کے حاشیہ بردار اپنا بزنس ،اپنی پُر آسائش زندگی اور سستی شہرت کے بل بوتے پر اپنا مستقبل سنوارنے میں مگن نو دولتیئے،نو سر باز اور بد قماش ہمارے مستقبل کے آمین بنے آذادی ،آذادی اور آذادی کا ورد کرتے دکھائی دیتے ہیں ان غلام صفت ،آذادی کے تاجر اور اقتدار کی ہوس میں بد مست بد روحوں کا راج آر پار ٹمٹما رہا ہے۔انہیں آذادی سے بس اس قدر لگن ہے کہ انہیں سرینگر اور مظفرآباد کی کرسی مل جائے ،کچھ ان کے سہارا بننے والے مختلف جماعتوں اور شکلوں میں بٹ کر سرکار سے وظیفہ خوری کو ترجیج اول دیکر لوٹ مار فرض عین سمجھ بیٹھے ہیں ،جب ان کے منحوس چہروں سے آذادی کی بات نکلتی ہے تو عجب بد بو پورے آس پاس کو متاثر کر جاتی ہے ۔انہیں شرم بھی نہیں آتی اور نہ ان میں ضمیر کی کوئی ذرا سی رمق موجود ہے کہ وہ لاکھوں شہداء کی قربانیوں کا صلہ یہی سمجھ چکے ہیں کہ ان کا پروٹوکول قائم رہے ،انہیں یہ پتہ بھی ہوتا ہے کہ کون انہیں انگلیوں پر نچا رہا ہے مگر یہ ’’خواجہ سراؤں اور مسخروں ‘‘ کی ماند دھمال پر ناچتے جا رہے ہیں ۔ایسا کیوں ہے ۔۔؟ دراصل عوام ان کے اندرونی کرتوتوں سے آگا ہ نہیں ،عوام کو یہ علم بھی نہیں کہ ہماری آذادی کے دعویٰ دار کہاں کہاں اور کس کس سے اعزازیہ کی شکل میں ماہانہ کتنا مشاہرہ لیکر اپنی مردہ ضمیری کا جشن مناتے ہیں۔آذادی کا پر چار کرنے والے درجنوں جماعتوں میں کیوں بٹے ہیں ،کبھی کسی نے اس پر غور کیا ہے ،یہ ہوس زر کے دلدادہ اپنا اپنا حصہ لینے کی دوڑ میں ہیں ۔پھر ہم یہ کہیں کہ ہمیں آذادی کیوں نہیں ملتی تو یہ ہماری کم فہمی اور بیوقوفی کا آخری درجہ ہے ۔مقبول بٹ کی پیروکاری کا دعویٰ ،خود مختاری ،الحاق ،اٹوٹ انگ کے نعرہ باز سب سے بڑے مسخرے ،اپنے اسلاف کے نافرمان،شہداء کی قربانیوں کے غدار ،آذادی کی تحریک پر سیاہ دھبہ ہیں ۔
بلاشبہ عوام وحدت کشمیر کے حق میں ہے ،تقسیم ہند کے فارمولا کے مطابق ریاست مسلم اکثریتی ہونے کی بناء پر پاکستان کا حصہ بننا تھی ،مگر 1947ء سے اب تک اس ریاست کو کئی حصوں میں منقسم کرنے والے دہلی یا اسلام آباد سے نہیں آئے ،اس غیر فطرتی تقسیم کے اصل ذمہ دار ہمارے آر پار کے وہ لیڈر ہیں جن کو آج ہم مذاکرات کا اہل قرار دیتے ہیں ،اگر سہ فریقی مذاکرات کا آغاز ہو بھی جاتا ہے تو یہ تنخواہ دار ایسا سودا کر لیں گے جس کا تصور کسی کشمیری کے ذہین میں بھی نہیں ہے۔کیا یہی مقبول بٹ کا مشن تھا کہ ہم کئی گروپس میں بٹ کر اپنا اپنا راگ الاپا تے جائیں ،کیا مقبول بٹ نے یہی کہا یھا کہ ہم آذادی کی تحریک کو کھلونا بنا رکھیں ،کیا ان کی قربانی کا یہی تقاضہ تھا کہ ہم اپنی اپنی دکانیں قائم کر کے آذادی کے نام پر سٹہ باز ،جواء باز اور کمیشن ایجنٹ بن جائیں ۔۔۔؟خدا راہ اپنے ضمیر کو ذرا زندہ کر کے سوچیں کہ واقعی ہم آذادی چاہتے ہیں ۔۔؟؟؟ شیر کشمیر کے پیرو کاروں سے لیکر اب تک بے شمار اعزازت کے حامل شخصیات جو آذادی کے مجاہد اول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ،جو اپنے آپ کو حریت پسند کہلوانے پر خود ساختہ فخر محسوس کرتے ہیں ،کیا اب تک 6لاکھ کشمیری نوجوانوں کی قربانیوں کا ذرا بھر انہیں احساس ہے ۔۔؟ یہ آذادی کا نعرہ لگانے والے ایک سراب میں بھٹکے ہوئے مسافر ہیں جنہوں نے ’’پوری قوم کو تقسیم کرو اور حکومت کرو ‘‘کے فلسفہ کو اپنا رکھا ہے ۔یہ سب ڈرامہ باز سین کلپ کر کے روپے پیسے پر چل رہے ہیں ،کوئی اسلام اور امت مسلمہ کے اتحاد کا جذبہ اجاگر کرتے ہیں اور کچھ قومیت کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں ۔
11فروری کا دن کیا یہی تقاضہ کرتا ہے کہ اپنی اپنی ڈھولک بجا کر روایتی فنکاری کی جائے ۔کبھی 5فروری کے نام پر یوم یکجئتی منائی جاتی ہے اور کبھی بھارت کے یوم جمہوریہ پر یوم سیاہ منایا جاتا ہے ،یہ سب ڈرامے روایتی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ان کا عوام میں ایک فی صد بھی اثر نہیں رہا یہ سب قومی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر لوٹنے کے بہانے ہیں ۔ان دنوں کو جس طرح منایا جا رہا ہے اس کا تحریک آذادی پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑ سکتا یہ شخصیات کی جنگ تو قرار دی جا سکتی ہے مگر اسے تحریک آذادی کا مشن نہیں کہا جا سکتا۔ہمیں اس گرداب سے نکلنے کی ضرورت ہے سب سے پہلے ہمیں اپنی لیڈر شپ کا تعین کرنا پڑے گا ،چوں چوں کا مربہ کبھی آذادی کا ذریعہ نہیں بن سکتا ۔یہ مداریوں کا تماشا لگا ہوا ہے جو بہتر انداز سے تماش بین جمع کر سکتا ہے وہی سب سے بڑا سرمایہ کار بننے کی دوڑ میں ہے۔دلکش اور دلنشیں نعروں ،فلمیں اداکاروں کی بھڑکوں اور مجاہدانہ شکلوں سے آذادی کی تحریک کا چرچا کرنے سے منزل 66سال گذرنے کے باوجود نہیں مل سکی اگر یہی سیریل چلتی رہی تو 66صدیوں تک کشمیر جیسا ہے ویسے ہی رہے گا ۔اس کریک ڈاؤن میں دبے لفظوں ،اشاروں اور مختلف زاویوں سے اپنی دھرتی کے باسیوں کو آگاہی دی ہے اگر کسی کو اس کالم پر کوئی شک ،کمی یا اعتراض ہو تو قلم حاضر ہے جواب الجواب کا سلسلہ شروع ہوا تو کئی سر بستہ راز آشکار ہو جائیں گے جن کو قوم سن اور پڑھ کر ضرور اپنی منزل کے بارے کوئی رائے قائم کر سکے گی۔آخر پر اس پہ اختتام کرتا ہوں کہ
ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائینگے ہمnote

یہ بھی پڑھیں  خیبرپختونخوا حکومت نے ایک اور یوٹرن لے لیا

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. یہ وہ روز و روشن کی طرح عیاں حقائق ہیں جن کی کمی پیشی پر تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کے وجود کا انکار ممکن نہیں، لیکن المیہ یہ ہے کے درد کی تکلیف کو ہر ایک نے دیکھایا لیکن اس مرض کا علاج کیا ہے معلوم نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟ کیوں علاج پر بھی تحریر ہوجائے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker