تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

چھوٹی صنعتوں کے فروغ سے صنعتی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

جاپانی ماہر اقتصادیا ت یو کو ہاما کا کہنا ہے کہ چھوٹی صنعتوں کے فروغ سے ملکی معیشت کو ترقی دی جا سکتی ہے۔جاپان میں چھوٹی صنعتوں کے ساتھ ساتھکاٹیج انڈسٹری کو بھی فروغ دیا گیا ہے جس سے نہ صرف معاشی ترقی او ر معیار زندگی میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں بلکہ بے روزگاری کی شرح میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔جاپان کے بعض شہروں میں بہت سی قدیم صنعتیں بھی سرگرم ہیں جو کہ نسل درنسل پرورش پانے والی ہنر مندی کے باعث تا حال کامیابی کے بعد جاری و ساری ہیں۔ان میں نشی جن کی پارچہ بافی۔ کیو یوزن کی کپڑے کی رنگائی کیوکومی ہمیو یعنی کیوٹو کے مخصوص انداز میں بال گوندھنے اور جوڑا بنانے کا فن کیو میذو کی ظروف سازی ،کیوٹو کے تہہ ہو جانے والے دستی پنکھے،اور کیوٹو کی گڑیاں بنانے کے ،ٹیلی کمیونیکیشن ،کمپیوٹر ،ٹیلی ویژن ،الیکٹرونکس کے کھلونے وغیرہبنانے والی گھریلو صنعتوں کا ہر طرف جال بچھا ہوا ہے۔ہانگ کانگ ،تائیوان،ملائشیا،تھائی لینڈ اور کوریا میں بھی گھریلو صنعتیں بہتر انداز میں کام کر رہی ہیں۔
وفاقی جمہوریہ جرمنی میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کی نہ صرف مالی امداد کی جاتی ہے بلکہ مشاورتی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔مزید برآں چھوٹی اور درمیانہ صنعتوں کو جدید انداز مہیا کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔نجی شعبے کے مسائل و مشکلات کے ممکنہ حل کے لیے باقاعدہ انسٹی ٹیوشن قائم ہیںجن میں ٹیکنیکل ایکسپرٹس ،انڈسٹریل انجینئرز اور یونیورسٹیوں کے پروفیسرز بھی شامل ہوتے ہیں۔وفاقی جمہوریہ جرمنی میں ہنر مندوں کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے لیے مالیاتی اور فنی امداد دی جاتی ہے اور پھر ایسی صنعتیں لگانے کے لیے مشاورت دی جاتی ہے جن کے بارے میں انہیں مکمل فنی مہارت حاصل ہوتی ہو۔جرمنی میں پیشہ وارانہ تعلیم کا معیار دیگر یورپی ممالک سے ترقی یافتہ ہے اور صنعتوں کی ضروریات کے مطابق کورسز ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور نوجوانوں کوعملی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
وفاقی جمہوریہ جرمنی میں اس وقت مختلف مصنوعات تیار کرنے والی کم سے کم 3000چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں تحقیق و ترقی کے عمل میں مصروف ہیں جب کہ ملک بھر میں 80ہزار سے زائد چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں موجود ہیں۔بہر حال ان میں سے جو کمپنیاں تحقیق و ترقی کے عمل میں مصروف ہیں حکومت انہیں مدد فراہم کرتی ہے حالانکہ منڈی کی معیشت میں مصنوعات میں نئی نئی ایجاد و اختراع کرنا خود کمپنیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔لہٰذا اس ضمن میں حکومت کی مدد کو عارضی تصور کیا جانا چاہیے ۔حکومت یہ امداد صرف ایسی کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے جو بوجوہ تحقیق کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہ رکھتی ہوں۔1989میں جرمن حکومت نے چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کو تحقیقی منصوبوں پر کام کرنے کے لیے تقریباً 73کروڑ 50لاکھ مارک فراہم کیے ۔نئی ٹیکنالوجی وضع کرنے والے اداروں سے براہ راست رابطہ قائم کر سکیں۔علاوہ ازیں چھوٹی کمپنیاںیونیورسٹیوں اور پیشہ وارانہ تعلیم کے اعلیٰ تربیتی کالجوں کے کورسوں سے بھی استفادہ کرتی ہیں۔
ہمارے ہاں صوبائی چھوٹی صنعتوں کی کارپووریشنوں کے ساتھ ساتھ وفاقی ادارہ سمیڈہ بھی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کتے فروغ کے لیے مصروف عمل ہے۔میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق پنجاب میں قائم چھوٹی صنعتوں کی کارپوریشن نے صوبے میں چھوٹی صنعتوں کا جال بچھانے میں کافی جدوجہد کی ہے۔مگر افسوس کہ سیاسی مداخلت کے باعث وہ نتائج حاصل نہیں ہو پائے جن کی توقع کی جاتی رہی ہے۔متعدد ایسے سیاسی لوگوں نے قرض لیا جو ہضم کر کے واپسی بھول گئے ۔یہ بات بھی میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ کارپوریشن کے ضلعی افسر قرض کی واپسی کے لیے بڑے بڑے سیاسی لوگوں کے ڈیرے پر جاتے ہوئے خوف کھاتے تھے۔جب تک صنعتی قرضوں کے اجرائ میں سیاسی مداخلت بند نہیں ہوتی صوبے میں’’صنعتی انقلاب‘‘ کبھی برپا نہیں ہو سکے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کو چاہیے کہ مذکورہ کارپوریشن کو فعال بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کریں اور اس میں کامرس اور انڈسٹری کے ایکسپرٹس بھرتی کیے جائیںاور اس کارپوریشن کو اپ گریڈ کیا جائے اور اس کی مانیٹرنگ کے لیے وزیر اعلیٰ ہائوس میں باقاعدہ انسپکشن ٹیم ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں  اورخواب ٹوٹ گیا دیوانے کا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker