تازہ ترینکالممہر عبدالمتین

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

جیسا کہ میں اپنے پہلے کالموں میں بھی حکمرانوں کی مظلوم عوام کے ساتھ ہمدردی کے متعلق لکھ چکا ہوں۔اسی طرح آج بھی موجودہ حکومت کی اچھی کارکردگی کے متعلق ہی بتایا جائے گا۔پاکستانی عوام کو اپنے حکمرانوں سے ہمشیہ یہ گلہ رہے گا وہ تاریخ سے سبق نہیں حاصل کرتے اکثرپاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچاندکی تاریخ مختصرہے لیکن گوناں گوں تجربات کو سامنے رکھیں،ماضی کی غلطیوں کا تجزیہ کرتے رہیں تو آئندہ ان غلطیوں کااعادہ نہیں کریں گے۔ان کی شکایت کی بنیاد اس احساس پر ہے کہ غلطیاں حکمران کرتے ہیں اور خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے
جیسا کہ تمام ممالک اپنی عوام کی خوشحالی کی خاطر مختلف منصوبے تیار کرتے ہیں ۔اسی نقطہ نظر کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس ملک کے حکمرانوں نے مظلوم عوام کے لیے مہنگائی اوربے روزگاری کی شدت کم کرنے کے لئے ایک منصوبہ بنانا چاہا۔کافی سوچ بچار کے بعدایک منصو بہ عملی جامعہ پہنایا گیاجس کا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام رکھاگیایہ منصوبہ اتنا کامیاب رہا کہ ہر غریب کو اپنا گھربار اور دن بھر کی محنت مزدوری چھوڑنا پڑی۔کئی گھروں کو تالے بھی لگ گئے۔مگر مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ سب غریب لوگ صبح صبح جاتے کہاں ہیں۔خیر چھوڑیئے بات کچھ لمبی ہوتی جارہی ہے ۔اس امدادی منصوبہ پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے اور 2 ہزار روپے ہر غریب تک پہنچائے گئے:روٹی،کپڑا اورمکان؟ ایک محنت کش دن بھر اپنے پیٹ کی خاطر محنت کر کے اپنا پیٹ پالتا تھا مگر نہ جانے حکومت کومحنت کرکے گزر بسر کرنا بھی پسند نہ تھا ۔انہوں نے یہ منصوبہ غریب کے گلے میں ٹلی کی طرح باندھ دیا ہے بیچارے جہاں بھی جاتے ہیں ،ٹن ٹن کی آواز سن کر مایوس ہو کر لوٹ آتے ہیں۔اللہ پاک اس ٹلی کو سلامت رکھے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرف سب سے پہلے پورے پاکستان کا گھر گھر سروے ہوا جس سے غریب تلاش کیئے گئے ایک غریب کو تلاش کرنے پر کروڑوں خرچ کئے گئے۔ پھر غریب عوام کی آمدادی رقم لگ گئی سروے کرنے والوں نے سروے کے دوران بے شمار ایسے لوگوں کا بھی رشوت لے کر نام شامل کر دیے و زکوٰۃ لینے کے قابل نہیں تھے اسی طرح پھر رقم GPO کو سپرد کر دی گئی اور GPOکو ہدایت کی گئی کہ ہر غریب کو اس کی امدادی رقم اس کے دروازے پر جا کر دی جائے ،پھر پوسٹ مینوں نے غریب کو لوٹنے کے پلین کیئے پھر امدادی رقم بھی ماشااللہ صرف 2000ہزار روپے پر مشتمل تھی ،کتنے مہربان ہیں حکمران اس ملک کے ایک غریب خاتون کو 6ماہ بعد صرف 2000روپے دیتے ہیں اور ان 2ہزارمیں سے پوسٹ مین 5سورکھ لیتا ہے کہ آپکو گورنمنٹ نے 1500روپے رقم بھیجی ہے اور مبارک ہو آپ کو پہلی قسط وصول ہونے پر، پاکستان کے غریبوں نے دن بھر کی محنت مزدوری چھوڑ کر GPOاور BISPکے دفتر ز کی رہ لے لی ۔ان غریبوں کو کون سمجھائے کے ان 2ہزار کا کیا کریں گے آب آپ ہی بتائیے ایک غریب پر اتنا ظلم کیوں؟ اس امدادی رقم کے منصوبے نے غریب کا سکون تباہ کر دیا بیچارے غریب دن بھر محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے مگر اب صبح سے 2ہزارکی خاطرGPOاور BISPکے دفاترز کے سامنے لمبی قطاروں میں گزارتے ہیں۔سارا دن ان دفترزمیں جا کر اپنی باری کا شام تک انتظار کرتے رہتے ہیں اس امید سے کہ مجھے بھی رقم مل جائے گی۔
آج بھی آپکوGPOاور BISP کے دفاترز کے سامنے غریبوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں گئیں ان قطاروں میں کئی عورتیں ایسی بھی ہیں جن کی امدادی رقم آئی ہی نہیں مگر وہ بھی سارا دن اس امیدپرجی پی اواور BISP کے دفاترز کے سامنے گزار دیتی ہیں کہ شاید ا نہیں بھی رقم مل جائے گی مگر ان کی اِن دفاترز میں داخل ہونے کی باری ہی نہیں آتی ۔ کئی عورتیں ایسی بھی ہیں جن کی امدادی رقم لگ توگئی مگرعلاقہ کا پوسٹ مین کھارہا ہے۔ان لمبی لمبی قطاروں میں گرمی کی شدت سے کئی عورتیں اور کمسن بچے بے ہوش بھی ہوئے اور کئی بوڑھی عورتیں اور عورتوں کی گود میں کمسن بچے شدید گرمی کی وجہ سے مر بھی گئے اس کے علاوہ عورتوں کی آپس میں لڑائی جھگڑوں کے بے شمار ایسے واقعات بھی سامنے آئے ۔میرے خیال سے یہ غیر ملکی امداد پر چلنے والا محکمہ پاپولیشن پلاننگ بند کر دیا جائے کیونکہ یہ محکمہ ملک کی بڑتی ہوئی آبادی کو کنٹرول نہیں کر سکا ،او ر حکومتی خزانے سے کروڑوں روپے کی تنحوائیں لے رہے ہیں۔
اب توگھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
اس منصوبے کے قیام سے لے کر آج تک غریب عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور GPO
کے عملہ سمیت تمام پوسٹ مینوں نے جی بھر کے لوٹا اور کروڑوں روپے ہڑپ کئے مگر ان کے خلاف آج تک کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی جبکہ غریب عورتیں آج بھی اپنے حق کے حصول کی خاطر ان دفاترز کے سامنے ذلیل ہو رہی ہیں ۔مجھے بہت افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان بچارے غریبوں پر اتنا ظلم نہ کیا جائے۔ان کے گلے سے یہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ٹلی اُتار دی جائے بڑی مہربانی ہو گی۔ان غریبوں کو آپکی امداد کی ضرورت نہیں ۔اگرآپ ان غریبوں کے اتنے ہی ہمدرد ہیں تو کروڑوں خرچ کر کے منصوبے بنانے کی بجائے مہنگائی اور بے روزگاری ختم کیوں نہیں کر دیتے؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker