تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

مارچ،دھرنے اور سیاسی سرگرمیاں

zafar ali shahعمران خان کے آزادی اورڈاکٹرطاہرالقادری کے انقلاب مارچ کولاہورسے روانہ ہوئے اوراِسلام آباد میں دھرنادیئے دس سے زائد دن گزر گئے ہیں۔اس دوران جماعت اسلامی کے اَمیرسراج الحق ،گورنرپنجاب چوہدری محمدسرور اور متحدہ قومی موومنٹ کے کئی رہنماؤں سمیت حکومتی مزاکراتی ٹیموں نے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے نامزدکردہ مزاکراتی ٹیموں کے ساتھ متعدد بار مزاکرات کئے لیکن جس طرح تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان12اور13اگست سے لے کر اب تک آئے روزنت نئے اعلانات کرتے رہتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ آج آزادی کا جشن منائیں گے توکبھی اگلے24اور48گھنٹوں کو اہمیت کے حامل قراردیتے ہیں۔کبھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ آج اہم اعلان کروں گاتوکبھی یہ اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ کل شام تک ایمپائرکی انگلی اٹھے گی۔کبھی نیاپاکستان بننے اور بنانے کی نوید سناتے ہیں توکبھی وزیراعظم ہاؤس میں گھس جانے کی دھمکی دے رہے ہوتے ہیں۔لیکن ہوتا کچھ نہیں سوائے اس کے کہ انہوں نے17اگست کوسول نافرمانی کااعلان کیااوراپنے ورکرز سمیت ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ جب تک نوازشریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے اس وقت تک کوئی بھی شہری بجلی،گیس اورٹیلی فون سمیت کسی بھی قسم کے یوٹیلیٹی بلزجمع نہ کریں لیکن ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق17 اگست کو عمران خان نے سول نافرمانی کااعلان کیاتواس کے اگلے ہی دن یعنی 18اگست کو پارٹی کے سینئر رہنماء جہانگیرترین نے اپنے شوگرملزاور دیگرکمپنیوں کے ٹیکسزکی مد میں تمام واجبات بمعہ جرمانہ اداکر دیئے۔ اسی طرح میڈیایہ بھی سوال اٹھارہاہے کہ سول نافرمانی کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے رہنماء جنرل سیلزٹیکس ادا کرنے والے ہوٹلوں میں ضیافت اور ایسے شاپنگ سنٹرزسے خریداری کیوں کرتے ہیں۔یوں جس طرح پی ٹی آئی کے سربراہ کے اعلانات محض اعلانات ثابت ہوتے رہے ٹھیک اسی طرح مزاکرات کی کامیابی اور بات چیت کے ذریعے معاملات سلجھانے کے لئے پرعزم حکومتی مزاکراتی ٹیم کے اَراکین آزادی اورانقلاب مارچ کے عہدیداروں کے ساتھ مزاکرات کے بعدمرجھائے چہروں کے ساتھ واپس آتے رہے اورہرکوشش کے بعدیہی کہتے رہے کہ ابھی ڈیدلاک موجود ہے ۔یوں جب سے مزاکراتی عمل شروع ہواہے کوئی بھی کوشش تاحال بار آور ثابت نہیں ہوسکی ہیں اورمزاکرات کامیاب نہ ہونے کی بڑی وجہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ ہے جسے ماننے کے لئے نہ صرف یہ کہ حکومت اور حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کسی صورت تیار نہیں بلکہ اپوزیشن سے تعلق رکھتی سیاسی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی،جمعیت علماء اسلام(ف)،عوامی نیشنل پارٹی اورپختونخواملی عوامی پارٹی بھی پارلیمنٹ کی تحلیل اور وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کوکسی صورت ماننے کوتیارنہیں اور اسی تناظرمیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے گرماگرم تقریروں کے علاوہ دونوں ایوانوں بشمول بلوچستان اسمبلی سے جمہوریت کے تسلسل،منتخب پارلیمنٹ کے تحفظ اور کسی بھی غیرآئینی اقدام کوبرداشت نہ کرنے کے حوالے سے قرادادیں بھی منظورکرالی گئیں۔اگرچہ مذکورہ سیاسی جماعتوں کے نزدیک موجودہ جمہوری نظام میں کئی خامیاں اور کمزوریاں موجودہیں لیکن پھربھی اس نظام کوجاری رہناچاہیے۔کیاسڑکوں پرآکراور دھرنے دے کروزیراعظم سے استعفیٰ مانگنا، اسمبلیوں کے تحلیل،قومی اور غیرسیاسی حکومتوں کی تشکیل ،وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کے خلاف مقدمات درج کرنااور انہیں گرفتارکرنے کا مطالبہ اورسول نافرمانی کااعلان آئینی ہے یاغیرآئینی سراٹھاتے یہ سوالات اپنی جگہ تاہم یہاں اَمیراَمیر ترجبکہ غریب غریب ترہوتا جارہا ہے، نوجوان ڈگریوں کے حصول کے باوجود بے روزگاراور ملازمت کے لئے ٹھوکریں کھارہے ہیں،غربت کا عالم یہ ہے کہ میاں بیوی اپنے بچوں سمیت خودسوزی اور دریاؤں میں چھلانگ لگاکر زندگی کا چراغ گل کرنے پر مجبورہیں،لوگوں کوانصاف نہیں مل رہا،پولیس اور پٹواری کلچرنے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے،بااثرلوگوں کے لئے قانون کچھ اور جبکہ غریبوں کے لئے کچھ اورہوتاہے،وسائل کوبروئے کار نہیں لایاجارہاہے اور عوامی مسائل میں اضافہ ہورہاہے،حکومتیں،وزیرمشیراور منتخب ممبران اسمبلی سرکاری خزانے کوبے دردری سے لوٹ رہے ہوتے ہیں، اداروں میں اصلاحات لانے کے لئے کوئی مؤثرپروگرام نہیں ہوتا،سیاسی رشوت اور سفارش کے قصے کہانیاں عام ہیں اورزندگی کے کسی بھی شعبے میں بنیادی ضروریات اور انسانی حقوق سے محروم طبقہ غلاموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبورہے، ماننانہ مانناالگ ایشو ہے تاہم انتخابی عمل میں موجود خامیاں وجودرکھتی حقیقت ہے، غریب عوام کاکبھی مذہب تو کبھی قومیت کے نام پر بدترین استحصال کیاجاتاہے اوریہ کوئی ڈھکاچھپاعمل نہیں بلکہ یہ کھیل سب کے سامنے ہورہاہوتاہے۔اس تناظرمیں دیکھاجائے توعمران خان اور ڈاکٹر قادری جوکچھ کہہ رہے ہیں وہ شائد غلط نہ ہولیکن بات پھروہی کہ کہنے کی خواہش اور جبکہ عملی طورپرکرنے دکھانے کاطریقہ کارکچھاورہوتاہے اور کبھی بھی کسی برائی کے خاتمہ اور روک تھام کے لئے غلط کام کاسہارہ نہیں لیاجاتا ورنہ پھراچھے برے کی تمیزختم ہوجاتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ عمران اور قادری جوکچھ کہہ رہے ہیں غلط ہے لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے جو انداز اپنایاہے اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے جس راستے ک

یہ بھی پڑھیں  مسلم لیگ ن نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker